2024کے عام انتخابات کے پہلے متحدہ محاذ بنانے کی مہم تیز ہوتی جا رہی ہے اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی محنت بھی بارآور ہوتی نظر آرہی ہے ۔پیر کے روز عام انتخاب میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے جس اپوزیشن محاذ کی مشترکہ میٹنگ کی بات نتیش کمار کر رہے تھے اس کی تاریخ کا اعلان ہو گیا اور اب 12 مئی کو پٹنہ میں اس میٹنگ کا انعقاد ہوگا۔ادھر بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا ایک بیان بھی اخباروں کی زینت بنا کہ پورے ملک میں جہاں جہاں کانگریس مضبوط ہے اور بی جے پی کو براہ راست چیلنج کر سکتی ہے ہم سب وہاں کانگریس کے ساتھ کھڑے رہیںگے لیکن کانگریس کو بھی ان جگہوں پر ہمارا ساتھ دینا ہوگا جہاں ہم بی جے پی کو ٹکر دے رہے ہیں ۔اور اس طرح اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ قومی سطح پر تقریباً 450سیٹوں پر بی جے پی کامحاذ کی کسی ایک پارٹی سے براہ راست مقابلہ ہوگا ۔حالانکہ اس میں کانگریس کے لئے بڑا امتحان یہ ہے کہ اسے عام انتخاب میں مغربی بنگال ،پنجاب ،دہلی اور کیرل سمیت تلنگانہ میں بھی اپنے قدم پیچھے ہٹانے ہوںگے کیونکہ ان میں سے دو ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کی حکومت ہے جبکہ دہلی اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس کے ووٹ بینک کو ہتھیایا ہے ۔اور ان ریاستوں میں کانگریس کے مقامی لیڈر یہ قطعی نہیں چاہیںگے کہ وہ اپنی دشمن پارٹی کے حق میں دست برفار ہو جائیں ۔کانگریس ہائی کمان اس بات کو سمجھ بھی رہی ہے اور نہایت سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش بھی کر رہی ہے ،کیونکہ اس کے سامنے بڑا ہدف یہ ہے کہ کسی بھی صورت میںمرکزی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے ۔اس محاذ میں کانگریس کے لئے سب سے بڑا سر درد عام آدمی پارٹی ہے جس نے ملکی سطح پر کانگریس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور عام طور پر کانگریسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
پیر کے روز اسی سلسلے کی ایک میٹنگ دہلی کانگریس کمیٹی کے ساتھ راہل گاندھی نے کی اور ان کی الجھنوں میں اضافہ ہی ہوا ہوگا کیونکہ دہلی کانگریس کمیٹی اس حق میں ہر گز نہیں ہے کہ بد عنوانی میں گلے تک ڈوبی عام آدمی پارٹی کے ساتھ کانگریس کسی بھی موڑ پر کھڑی نظر آئے۔چاہے وہ متحدہ محاذ کا معاملہ ہو یا پھر مرکزی سرکار کے ذریعہ دہلی کی سرکار کے حقوق چھین کر لیفٹیننٹ گورنر کو دہلی کا باس بنانے کا معاملہ ۔دہلی کے کانگریسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ کجریوال اپنے مفاد کے حصول کے لئے کبھی بھی اپنی وفاداری تبدیل کر سکتے ہیں ۔لیکن اپنی بات کہنے کے بعد ان نیتاؤں نے آخری فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا ۔ سوموار کو منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں خود راہل گاندھی بھی موجود تھے جبکہ ریاستی کانگریس کے ذمہ دار شکتی سنگھ گوہل ،ریاستی صدر انل چودھری ،سابق صدر جے پرکاش اگروال ،اروندر سنگھ لولی ، سبھاش چوپڑا ،اجے ماکن،دیوندر یادو اور ہارون یوسف بھی موجود تھے ۔اس میٹنگ میں مرکزی کانگریس کمیٹی کے لیڈر کے سی وینو گوپال کے ساتھ راہل گاندھی کی موجودگی سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ کجریوال کے ساتھ کھڑے ہونے سے پہلے مرکزی کانگریس کمیٹی دہلی کانگریس کمیٹی کے لیڈروں کی منشا جاننا چاہتی ہے ۔حالانکہ تقریباً ایک گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں 2024کے عام انتخاب اور متحدہ محاذ پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی لیکن مرکزی سرکار کے ذریعہ لائے گئے بل پر ’آپ‘ کے ساتھ کھڑے ہونے اور راجیہ سبھا میں اس بل کے خلاف ووٹ دینے کی دہلی کے نیتاؤں نے مخالفت تو کی لیکن یہ بھی کہا کہ پھر بھی اگر ہائی کمان کا فیصلہ ہمارے لئے قابل قبول ہوگا۔گفتگو کے دوران کئی کانگریسی لیڈروں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ دہلی سرکار کے حقوق میں وسعت کو لے کر دہلی کانگریس کمیٹی نے این ڈی اے سرکار کے زمانے میں بھی مدعا اٹھایا تھا اور مارچ بھی نکالا تھا ۔راہل گاندھی نے اس میٹنگ سے کیا نتیجہ اخذ کیا یہ تو وہ جانیں لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ نتیش کمار 12مئی کی میٹنگ میں کجریوال کو دعوت نہ دیں؟ کیونکہ انہوں نے مرکزی حکومت کے خلاف عام آدمی پارٹی کا ساتھ دینے کا اعلان پہلے ہی کر دیا ہے ۔اور اس سلسلے میں وہ نہ صرف کجریوال سے ملاقات کر چکے ہیں بلکہ کانگریس صدر سے مل کر انہیں بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ بی جے پی تمام اپوزیشن پارٹیوں کی دشمن ہے لہٰذا کانگریس کو اس مدعے پر کجریوال کا ساتھ دینا چاہئے ۔اب دیکھنا ہوگا کہ 12مئی کو متحدہ محاذ کی اس میٹنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔کیونکہ اب گیند کانگریس کے پالے میں ہے اور اس وقت کانگریس کے صدر کھڑگے اور راہل گاندھی کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا امتحان ہے ۔
(شعیب رضا فاطمی )












