اورنگ آباد ،پریس ریلیز،ہمارا سماج:آج یہاں جامعہ اسلامیہ انعام العلوم نائیگائوں ضلع اورنگ آباد میںجمعیۃ علماء ضلع اورنگ آباد کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان، منظم اور بامقصد یک روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں ضلع اور مراٹھواڑہ کے ذمہ داران، اراکینِ عاملہ، قصبات، تعلقہ جات اور زون کمیٹیوں کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس تربیتی ورکشاپ نے علمی رہنمائی، فکری بصیرت اور تنظیمی استحکام کے حوالے سے ایک نئی روح اور عزمِ نو پیدا کیا۔پروگرام کا آغاز ترانہ اور پرچم کشائی سے ہوا، جس کی سعادت محمد ریحان ابن عبد القیوم صاحب نے حاصل کی، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولانا سراج الدین صاحب اشرفی کو نصیب ہوئی۔تحریکِ صدارت حضرت مفتی ناصر صاحب قاسمی (صدر جمعیۃ علماء شہر اورنگ آباد) نے پیش کی، جبکہ تائیدِ صدارت حضرت مولانا عارف صاحب اشرفی (نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع اورنگ آباد) نے کی۔پہلی نشست میں حضرت مفتی عبدالرزاق صاحب ملی (صدر جمعیۃ علماء ضلع اورنگ آباد) نے جمعیۃ علماء کی درخشاں تاریخ اور بے مثال خدمات پر مدلل اور مؤثر خطاب فرمایا۔ انہوں نے دورِ استعمار میں علماء کی قربانیوں، دارالعلوم دیوبند کے قیام، تحریکِ ریشمی رومال اور اکابرینِ جمعیۃ کی جدو جہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور ایمانی تحریک ہے، جس کی بنیاد اخلاص، قربانی اور استقامت پر رکھی گئی ہے۔اس موقع پر صدر اجلاس مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر ) نے اپنے صدارتی و کلیدی خطاب میں واضح کیا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد دیہات سے ضلع کی سطح تک جمعیۃ کو منظم اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحریکوں کو کمزور یا ختم کرنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں اور افراد آتے جاتے رہتے ہیں، مگر مخلص اور منظم تنظیمیں قائم و دائم رہتی ہیں۔ انہوں نے کارکنان کو اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عزم، حوصلے اور استقامت کے ساتھ کام جاری رکھنے کی تلقین کی۔ ساتھ ہی مدارس و مکاتب کی اہمیت اور ان کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی۔مولانا مفتی عبدالرحمن صاحب نائیگانوی (جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مرہٹواڑہ )نے جمعیۃ کے طریقۂ کار کو قرآن و سنت کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ جمعیۃ ہر حال میں شریعت کی پابند ہے اور اس کا پلیٹ فارم قوم و ملت کی ہمہ جہت خدمت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نےدینی تعلیمی بورڈ اور مکاتب کے استحکام شعبہ اصلاحِ معاشرہ، ہندو مسلم یکجہتی پروگرام، جیم کمیٹی اور “رفیقِ جمعیۃ” جیسے اہم منصوبوں پر روشنی ڈالی۔مولانا ابراہیم صاحب قاسمی (جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے اغراض و مقاصدِ جمعیۃ کو کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بانیانِ جمعیۃ سچے عشّاقِ رسول ﷺ تھے، آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے عملی پہلو پررشتوں کو جوڑنا، کمزوروں کا سہارا بننا، مہمان نوازی اور مصیبت زدگان کی امدادکو جمعیۃ کی رفاہی اور سماجی خدمات کی بنیاد قرار دیا۔انہوں نے حکومتی اسکیموں مفت آپریشن، تعلیم اور روزگار سے متعلق سہولیات سے استفادہ کے طریقۂ کار پر رہنمائی دی۔قاری شمس الحق صاحب قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) نے شعبہ اصلاحِ معاشرہ کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے نکاح کو آسان بنانے، سادہ ولیمہ کی ترغیب دینے اور معاشرتی بگاڑ کے سدباب پر زور دیا۔ اور مساجد کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ ائمہ کو کھل کر اصلاحی کام کرنے کا موقع فراہم کریں۔ مفتی عقیل الرحمن صاحب نائیگانوی (نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع اورنگ آباد) نے پیش کیے،جبکہ نظامت کے فرائض مفتی ندیم صاحب ، اورمفتی محمد لقمان صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دئیے ۔اس کامیاب اجلاس کو عملی جامہ پہنانے میں جمعیۃ علماء ضلع و شہر اورنگ آباد کے عہدے و اراکین خاص طور پر جناب عبد الروف انجینئر صاحب ( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع اورنگ آباد ) اور ان کے احباب ،جامعہ اسلامیہ انعام العلوم کے ذمہ داران اور اساتذۂ کرام نے بھرپور محنت کی۔ قصبات، تعلقہ جات اور زون کمیٹیوں کے ذمہ داران کی فعال شرکت نے پروگرام کو مزید مؤثر بنایا۔












