شعیب رضا فاطمی
جب سے ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ہے ،کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف لکنے اور بولنے کا سلسلہ بھی بلند سے بلند تر ہوتا چلا جارہا ہے ۔کبھی کوئی کہتا ہے ایران کی تباہی یقینی ہے تو کسی کو امریکہ اور اسرائیل تباہ و برباد ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔حالانکہ بین الاقوامی سیاست کی بساط پر کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں سب جانتے ہیں مگر ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ان میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جنگ کو ہوا دینے والی طاقتیں ہی خود کو امن کا علمبردار بھی ظاہر کرتی ہیں۔ کسی جنگ باز ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ خلوصِ نیت سے امن معاہدے کی کوشش کرے گا، ایسا ہی ہے جیسے کسی بھیڑیے سے امید کی جائے کہ وہ بکریوں کی حفاظت کرے گا۔آج کی دنیا میں امریکہ کو سپر پاور کہا جاتا ہے، مگر یہ حیثیت محض سائنسی ترقی یا جمہوری اقدار کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی بڑی وجہ اس کا عالمی اسلحہ منڈی پر قبضہ ہے۔ اسلحہ کی تجارت نہ صرف اس کی معیشت کو سہارا دیتی ہے بلکہ اس کے ذریعے وہ دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً مشرق وسطی میں اپنی اجارہ داری قائم رکھتا ہے۔ عرب ممالک کو ہتھیار فروخت کرنا، پھر انہی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کے خلاف سیکیورٹی فراہم کرنا یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں خریدار ہمیشہ محتاج اور بیچنے والا ہمیشہ حاکم رہتا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا کوئی عرب ملک واقعی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ کے کسی حکم سے انکار کر سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ معاشی، عسکری اور سفارتی دباؤ کا ایسا جال بچھا دیا گیا ہے کہ خود مختاری محض ایک رسمی لفظ بن کر رہ گئی ہے۔ ابھی ہم نے دیکھا کہ ایران میں کتنے ایسے ایرانی گرفتار ہوئے جو حقیقت اسرائیل اور امریکہ کے جاسوس تھے ۔اب اگر عرب ممالک میں اسی طرح کی تفتیش ہو تو یقین ہے کہ ایران سے بڑی تعداد میں جاسوس ان ممالک میں موجود ملینگے ،ان شاہوں کے محلوں کو بھی ان جاسوسوں نے خالی نہیں چھوڑا ہے ۔امکان اس کا بھی ہے زیادہ تر شاہوں اور شیخوں کے بیڈ روم تک ان کی موجودگی ہو ۔اسی تناظر میں ایران کی حیثیت ایک مختلف مثال کے طور پر سامنے آتی ہے، جو مسلسل امریکی یا صہیونی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی سیاست میں ایک “مسئلہ” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، مگر مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باعث کوئی بھی کھل کر مخالفت کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ عالمی نظام میں اخلاقیات کی جگہ مفاد نے لے لی ہے، اور انصاف کا پیمانہ طاقت کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو محض دو آزاد ریاستوں کا رشتہ سمجھنا بھی سادہ لوحی ہوگی۔ یہ تعلقات سیاسی، عسکری اور معاشی مفادات کی ایک ایسی گتھی ہیں جو عالمی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم، جنہیں بعض حلقے “گریٹر اسرائیل” کے تصور سے تعبیر کرتے ہیں، بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر اس پر سنجیدہ سوالات اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے۔دوسری جانب چین اور روس جیسے ممالک کو اکثر امریکہ کے مقابل ایک متبادل طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو ان کی عملی حکمت عملی کہاں ہے؟ بیانات اور سفارتی حمایت اپنی جگہ، مگر فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے گریز ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہےاور وہ یہ کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات سے آگے نہیں دیکھتیں۔ان تمام حالات کے بیچ ایران ایک ایسی ریاست کے طور پر کھڑا ہے جو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور عسکری خطرات ،یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں بقا کی جنگ مسلسل جاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایک ملک کب تک تنہا اس بوجھ کو اٹھا سکتا ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پوری عالمی صورتحال ایک “ہولناک مذاق” محسوس ہوتی ہے۔ امن کی باتیں کرنے والے جنگ کو ہوا دیتے ہیں، انصاف کے دعویدار طاقت کے آگے جھک جاتے ہیں، اور خودمختاری کا نعرہ لگانے والے ممالک دوسروں کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔آخرکار، یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا دنیا کبھی واقعی ایک منصفانہ عالمی نظام کی طرف بڑھ سکے گی، یا پھر طاقت اور مفاد کا یہ کھیل اسی طرح جاری رہے گا؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو جواب زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتا۔ مگر اس کے باوجود امید کا دامن چھوڑ دینا بھی شاید سب سے بڑی شکست ہوگی۔












