• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
پیر, مارچ 16, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

سنیاس سے اقتدار تک کا سفر

مفتی محمد ثناءالھدی قاسمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 15, 2023
0 0
A A
سنیاس سے اقتدار تک کا سفر
Share on FacebookShare on Twitter

سنیاسی ہندی کا لفظ ہے،اس کے معنی ہندو فقیر، تارک الدنیا کے آتے ہیں، ہندو مذہبی افکار وروایات کے مطابق سنیاسی اس کو کہتے ہیں، جس نے دنیا اور علائق دنیا سے ترک تعلق کر لیا ہو، شادی بیاہ نہ کیا ہو، بال بچوں کے جنجال سے پاک ہو، پہاڑ کی چوٹی اور گوفاؤ ں میں سب سے الگ تھلگ ہو کر زندگی گذار رہا ہو اور اپنے مذہبی تصورات ومعتقدات کی بنیاد پر بھگوان کی پوجا پاٹ اور جاب میں سارا وقت لگا رہا ہو، کوئی آجائے تو اس کے دکھ درد دور کرنے کے لیے بھگوان سے پرارتھنا کرے، کوئی آشرواد چاہے تو اسے آشرواد دیا جائے، آشرواد دینے کے بھی الگ الگ طریقے ان کے پاس رائج ہیں، کوئی سر پر ہاتھ رکھ کر آشرواد دیتا ہے اور کوئی چرنوں میں جھکا کر اپنی تپسیا کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے،بعض سادھو سنتوں کو سر پر پاؤ ں رکھ کر آشرواد دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
ان سنیاسیوں اور سادھو سنتوں کی بھی الگ الگ تہذیب اور اپنے گرو ؤ ں کے اپدیش اور ہدایت کے مطابق جینے کا الگ الگ انداز ہوتا ہے، ان میں سے بعض کے سروں پر لمبی جٹائیں ہوتی ہیں، جنہیں وہ مخصوص انداز میں اپنے سروں پر لپیٹے ہوتے ہیں، بعض بدن کے نچلے حصے کو کپڑوں سے ڈھکتے ہیں اور ناف سے اوپر کا حصہ ہر موسم میں کھلا رہتا ہے، جاڑا گرمی برسات ہر موسم میں ان کے جسم کپڑوں سے خالی رہتے ہیں، مسلسل ایسا کرنے کی وجہ سے ان کا جسم موسم کی شدت اور تیزی کو بر داشت کرنے کا عادی ہوجاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے جسم کا جو حصہ ہر موسم میں کھلا رہتا ہے اس پر سردی گرمی کا اثر بہت نہیں پڑتا، جب کہ جو اعضاءکپڑے میں رہتے ہیں، ان کو ہر موسم میں الگ الگ کپڑوں کی طلب ہوتی ہے، بعض سادھو ؤ ں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ جسم کے نچلے حصے کو بھی بالکل کھلا چھوڑ دیتے ہیں، یا برائے نام کپڑا ہوتا ہے، جس سے آگے پیچھے کے اعضاءڈھکتے ہیں، کمبھ اشنان کے موقع سے سادھو ¿ں اور سنیاسیوں کے جواکھاڑے نکلتے ہیں ان میں ایک بڑی تعداد ایسے سادھوؤ ں کی ہوتی ہے جو مادر زاد ننگ دھڑنگ ہوتے ہیں، اور ان کے پیچھے عقیدت مندوں کا ایک قافلہ ہوتا ہے، ان کے عقیدت مند یہ سمجھتے ہیں کہ بابا نے بھگوان کا اوتار لے لیا ہے اور بھگوان کو دنیا وی چیزوں کی کیا ضرورت ہے،ا ن کے خیال میں ایشوریہ شکتی کی وجہ سے ان کا سارا کام چلتا ہے، سنیاسی ہونے کے ان ہی تصورات کی وجہ سے رام جی کا شمار سنیاسی میں نہیں ہوتا، کیوں کہ انہوں نے سیتا جی سے شادی رچائی تھی اور ان کے دو بیٹے بھی تھے، اس لئے ان کے خیال میں مردوں میں سب سے اچھے مرد پروش اتم، ہونے کے با وجود وہ سنیاسی نہیں ہیں۔
ترک دنیا کا یہ تصور دوسرے مذاہب کے پیشواؤ ں میں بھی پایا جاتا ہے، بودھ جی نے بھی راج پاٹ چھوڑ کر ایشور کی طرف جب رخ کیا تو دنیاوی علائق سے اپنے کو پاک کر لیا، بیوی بچوں کو بھی چھوڑ دیا اور گیا میں گیان دھیان کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا، برسوں بعد کہتے ہیں کہ انہیں گیان ملا اور اس گیان کو لے کر وہ گھومتے رہے اور مستقل ایک مذہب کی بنیاد ڈالی، گیان کے بعد بھی انہوں نے بیوی بچوں کی طرف رخ نہیں کیا۔
لیکن گذشتہ دو تین دہائیوں میں ہندوؤ ں کے یہاں سنیاسیوں میں بھی دنیا اور لوگوں پر حکومت کرنے کا سیاسی طریقہ رائج ہو گیا ہے، سادھو سنتوں نے یہ سوچا کہ جب ہمارے آشرواد سے لوگ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں، ہمارے سپورٹ سے ہمارے انویائی عقیدت مندووٹ دے کر انہیں سنگھاشن تک پہنچا دیتے ہیں تو یہ سکھ ہم کیوں نہیں حاصل کر سکتے، اپنے مٹھوں سے وہ باہر آگئے اور ان کے ماننے والوں نے آسانی سے انہیں اقتدار تک پہنچا دیا، اوما بھارتی سادھوی پر تگیہ اور اب آدتیہ ناتھ یوگی سب نے اقتدار تک پہنچنے کے لیے اپنے سنیاسی ہونے کا فائدہ اٹھا یا، رائے دہندگان کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے دوسرے مذاہب کے خلاف گرم گرم تقریریں کیں اور اپنے بیانات سے لوگوں کو باور کرایا کہ ہندو دھر م خطرے میں ہے، عام ہندوؤ ں میں اس احساس کو جگانے کی وجہ سے ملک میں عدم رواداری کا ماحول خطرناک حد تک بڑھا،گؤ کشی او ردوسرے عنوانات سے قتل وخوں ریزی کا بازار گرم ہوا اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سارا کام دھرم اور مذہب کے نام پر کیا گیا اور ان لوگوں نے کیا، جنہوں نے اپنی زندگی کا ادھیش اور مقصد صرف اور صرف پوجا ارچنا قرار دے رکھاتھا، ہندو مذہبی تصورات اور میتھا لوجی کے مطابق یہ دنیا وی لوبھ کی طرف سنیاسیوں کو لے جا رہا ہے، یہ ان کے مذہب کے خلاف ہے۔
رہ گئی ہندو دھرم کے خطرہ میں ہو نے کی بات تو اس کے محض پروپیگنڈہ ہو نے سے کوئی با شعور آد می انکار نہیں کر سکتا۔میں بھکتوں کی بات نہیں کرتاجب ملک کے سارے کلیدی عہدے اور وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پر ہندو ہی براجمان ہوں۔ایسے میں انہیں آخر کس سے خطرہ ہے۔خطرہ تو انہیں مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دور اقتدار میں بھی نہیں رہا۔مسلمانوں میں رواداری اور رعایا کے تئیں ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے غیر مسلم اقلیتوں نے پر سکون زندگی گذاری اور اپنے طویل دور اقتدار میں کبھی نفرت کے ماحول کو پنپنے نہیں دیا۔جب کہ آج چند سالہ دور اقتدار میں ملک نفرت کے آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے اوریہ آتش فشاں ملک کے الگ الگ حصوں میں پھٹ کر خرمن امن و سکون کو خاکستر کرتا رہتا ہے۔راہل گاندھی کے بھارت جوڑو یاترا کو نفرت کے بازار میں محبت کی دوکان کھولنے کے عمل سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ ے گا۔
جہاں تک اسلام اور مسلمانوں کا معاملہ ہے، ہمارے یہاں ترک دنیا کا کوئی تصور نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسلام میں رہبانیت ترک دنیا نہیں ہے، یہاں تو شادی بیاہ بھی کرنی ہے، بال بچوں کی پرورش وپر داخت بھی کرنی ہے، سماج، پڑوس، ملک اور ملت کی خدمت میں زندگی کھپا دینی ہے، اپنی زندگی اللہ کی مرضیات کے مطابق گذارنی ہے اور دوسروں کو بھی اس کام کے لیے تیار کرنا ہے، اللہ کے حکم کی تعمیل ہو، اس کے لیے حکومت کے حصول کی کوشش بھی کرنی ہے، اور اقامت کے ساتھ خلافت الٰہی کو روئے زمین پر نافذ کرنے کی سعی مسلسل کرنی ہے،ا سی وجہ سے سیاست ہمارے یہاں شجر ممنوعہ نہیں ہے، جس کے گرد پھٹکا نہ جائے، سیاست میں گندگیوں کے داخل ہونے کی وجہ سے مذہبی لوگ اس سے بیزار نظر آتے ہیں، لیکن ہماری ذمہ داری جس طرح دوسرے شعبوں میں پاکیز گی لانے کی ہے، اسی طرح سیاست کو بھی صحیح رخ دینے کے لیے ملی جذبہ سے سرشار لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے، بالکل سنجیدگی کے ساتھ، سوچ سمجھ کر، مضبوط حکمت عملی کے ذریعہ، جذباتی نعرے اور وقتی جوش نے ہر دور میں ملت کو نقصان پہنچا یا ہے اور اب بھی یہ نقصان دہ ہے، تاریخ کا یہ کیسا المیہ ہے کہ جو سنیاسی تھے، وہ سنگھاسن تک پہنچ رہے ہیں اور جنہیں اس روئے زمین کی خلافت سپرد کی گئی تھی وہ اعلان کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، جب کہ اس دور میں جب بقول مولانا ابوالکلام آزاد گونگے بول رہے ہیں اور بہرے سننے لگے ہیں، ہمیں بھی منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے مستقبل کو تابناک بنانے اور ظلم وستم کی گرم بازاری روکنے کے لیے کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    مارچ 14, 2026
    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    مارچ 14, 2026
    ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر

    ایران کے خلاف جنگ کا امریکی معیشت پر اثر

    مارچ 14, 2026
    اے آئی ایف ایف کے سابق سیکرٹری جنرل کشل داس 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    اے آئی ایف ایف کے سابق سیکرٹری جنرل کشل داس 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    مارچ 14, 2026
    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے

    مارچ 14, 2026
    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کرتا ہے:شہباز شریف

    مارچ 14, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist