
ڈاکٹرکہکشاںپروین سے ایک مـــلاقـــات
(اد بی گفتگو)
محمد مکمل حسین:السلام علیکم میم،
ڈاکٹرکہکشاںپروین: وعلیکم السلام ورحمہ اللہ
محمد مکمل حسین:میم آپ خیریت سے ہیں۔
ڈاکٹرکہکشاںپروین: اللہ کاکرم ہے۔ اور سب کیسے ہو۔
محمد مکمل حسین: جی اللہ کا شکر ہے۔
میم آپ سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اورشایدمیری پہلی ملاقات آپ سے ڈورنڈاکالج میں ہوئی ہے۔یہ ایک رسمی ملاقات تھی۔اس کے بعد پھر شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے سلسلے میں ہمیشہ ملتے رہے اور استفاد
کرتے رہے۔ اس کے علاوہ کئی ادبی وغیر ادبی پروگراموں میں ملاقات ہوئی ہے۔لیکن آج شعبہ اردو میں ایک خاص ملاقات ہے ۔وہ ایک ادبی ملاقات ہے جس کے ذریعے میںآپ کی ادبی کاوش ، آپ کے فن اورشخصیت کو جان سکوں، ساتھ ہی نئی نسل کے سامنے آپ کی ادبی خدمات کے ساتھ افسانہ نگاری ،آپ کے ذاتی تجربات ومشاہدات اور خیالات کو پیش کرسکوں۔
ڈاکٹرکہکشاںپروین:کیا جانکاری لینی ہے۔
محمد مکمل حسین: میم سب سے پہلے آپ اپنا نام اوراگر قلمی نام ہوتو بتائیں۔
ڈاکٹرکہکشاںپروین:۔میرا نام کہکشاںپروین ہے۔ گھر والے روزی کے نام سے بلاتے ہیں اور ادب میں کہکشاںپروین کے نام سے جانی جاتی ہوں۔
محمد مکمل حسین: اس کے بعد ابتدائی زندگی اور اپنے خاندان کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ڈاکٹرکہکشاںپروین:۔میرے آباد واجداد کا تعلق پٹنہ کے ایک گائوںکھر بھئیاسے ہے۔(پٹنہ سے بیس کیلو میٹر دور دانیاواں سے ایک راستہ جاتاہے ۔اس پرآٹھ کیلو میٹر اندرجاکر ’کھر بھیّا‘ایک بستی ہے جو دوبھائیوں کے نام پر قائم ہے۔(کھڑک سنگھ اور دیال سنگھ)اسی گائوں میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی تھی۔ جو 1947کے بعد تتر بتر ہوگئی۔یہ گائوں آج بھی قائم ہے اور اس میں ایک مسجد بھی ہے جو بہت قدیم ہو چکی ہے۔اس گائوں میںمیری ننھیال اور دھیال تھی۔ کچھ لوگوں نے 1947سے قبل ہی اسے خیر آباد کہہ دیا جن میں میرے دادا بھی تھے۔) میرے دادا سید سعید الدین مرحوم پورولیا آگئے ۔ اس وقت پورولیا ضلع بہا رمیں تھا۔ بعد میں یہ مغربی بنگال کے حصے میںآگیا۔میرے نانا سید ابوالحسن رضوی 1947کے فساد میں قتل کر دیئے گئے۔
میر ی پیدا ئش پورولیا میں 26فروری 1958میںہوئی۔ابتدائی تعلیم گھر پہ ہوئی ۔میںنے اپنی امی سے قرآن مجید پڑھا ۔ اس کے بعد وہیں کے ایک اسکول میں میرا داخلہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ کالج کی تعلیم رانچی ویمیس کالج میںحاصل کی۔ایم۔ اے اورپی۔ ایچ ۔ڈی کی ڈگری رانچی یونیورسٹی سے ملی ۔ پھر ڈی لٹ بھی رانچی یونیورسٹی سے ہی کیا۔بوکارو مہیلا کالج میں تقریباًنو سال تک میں بحیثیت اردو لیکچر راپنی خدمات انجام دیتی رہی ۔ 1996میںبہار یونیورسٹی سروس کمیشن کے ذریعہ میرا تقرررانچی یونیورسٹی کے ڈورنڈا کالج میںہوا۔ ۔۔2015میں میرا تبادلہ بحیثیت صدرشعبہ اردو رانچی یونیورسٹی ہوگیا۔ اورابھی تک میں یہیں ہوں۔انشا ء اللہ فروری 2023میںمیں ملازمت کے فرائض سے سبکدوش ہو جائوںگی۔ لیکن پڑھنے اورپڑھانے کا سلسلہ تاحیات رہے گا۔انشا اللہ
ایم۔حسین: رسم ِ بسم اللہ سے لے کر اعلی تعلیم تک کا سفر کیسارہاہے۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔ظاہرہے کہ ایک بچہ جب دنیا میں آتاہے کہ تو اس کی حیثیت سادہ کاغذ کی طرح ہو تی ہے۔ اس پر رنگ بھرنے کی ذمہ داری جن پرہوتی ہے۔وہ بڑے اہم ہوتے ہیں۔ میری شخصیت کی تعمیر میں میری دادی عمرن بی بی مرحومہ، میری امی آسیہ خاتون مرحومہ اور ابی جا ن سید مسعود الدین مرحوم کا بہت دخل ہے۔ رسم ِبسم اللہ کی دھندلی تصویروں میںیہ تینوں چہرے آج بھی تابناک ہیں۔۔۔۔ اعلی تعلیم کے سفر میں بہت سارے لوگوں کا ساتھ رہا لیکن میں احسان مند ہوں اپنے والدین خاص طورسے اپنے والد (ابیّ جان)کی کہ انہوںنے بغیر کسی کی پرواہ کے مجھے اعلی تعلیم دلائی ۔اس وقت ماحول سازگار نہیں تھا ۔لڑکیوں کی تعلیم کو خاص طور سے مسلم معاشرہ میںکوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ پورولیا جیسا شہر میںمیرے والد نے اپنے بچوں کے لئے جو خواب دیکھے اور ان کی تعبیر کی کوششوں میںلگے رہے ۔وہ میں بھول نہیںسکتی۔ ان کی بے لوث عنائتیں میری زندگی کاحاصل ہیں۔
ایم۔حسین:۔ میم میں نے کہیں پڑھاہے کہ آپ تین ریاست بنگال ،بہار اور جھارکھنڈ سے تعلق رکھتی ہیں اس کے بارے میں کچھ بتائیں۔
ڈاکٹرصاحبہ:۔ میں نے پہلے ہی بتادیاہے کہ میری پیدائش پورولیا میںہوئی،جو اس وقت کافی پچھڑا ہواعلاقہ تھا۔رانچی میںتعلیم حاصل کی ۔پٹنہ میںمیری شادی ہوئی۔ یہ سب بہار کے علاقے تھے۔ لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔اب رانچی جھارکھنڈ کی راجدھانی بن چکی ہے۔ بنگال میرا وجود ہے بہار میراشعور اور جھارکھنڈ میری حیات۔میں کسی کو خود سے الگ نہیں کرسکتی۔
ایم۔حسین:۔آپ کی ادبی زندگی کاآغاز کس صنف سے اور کیسے شروع ہوا۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔مجھے بچپن سے کتابوں سے لگائو تھا۔ باقاعدگی سے اردوکے اخبارپڑھتی ۔میرے گھر میںادبی ذوق تقریباًسبھوںکے مزاج میںتھا۔ بہت سارے اردو رسائل آتے تھے۔ جو سبھی باری باری پڑھتے ۔ سب سے آخر میں میرا نمبر آتا اورمیںبھی ان میں مگن رہتی۔ میرے والد نے میرے مزاج کی تربیت میںبہت ساتھ دیا۔میںچھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھتی تھی۔ جنہیں وہ بڑے شوق سے پڑھتے اور دوسروں کو بھی سناتے۔غیاث احمدگدی سے ان کے مراسم تھے وہ جب میرے یہاںآتے تو بہت دیر تک بیٹھے۔ میری کئی کہانیوں کو میرے والدنے انہیں بھی دکھایا۔پتہ نہیں ان کے تاثرات کیارہے ہوںگے۔ بظاہر انہوںنے میری حوصلہ افزائی کی۔مجھے یاد نہیں کہ ان کہانیوںکاکیاہوا۔انٹر یونیورسٹی افسانے لکھنے کے مقابلہ میںمجھے رانچی ویمنس کالج کی شاگردہ کی حیثیت سے پہلا انعام ملاتھا۔ کہانی کا عنوان تھا’’یہ نہ تھی ہماری قسمت‘‘ وہیں کے میگزین میں یہ شائع بھی ہوا تھا۔ لیکن اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ اس کہانی کا موضوع کیاتھا۔بہرکیف میں اپنی زندگی کی اس پہلی ادبی پذیرائی کو آج بھی نہیں بھولی ہوں۔ بعد میں بزم ادب رانچی کالج میںمضمون لکھنے کا بھی مقابلہ تھا۔ میںنے ایک مضمون بھیجاتھا۔ وہاں مجھے دوسراانعام ملاتھا۔ مضمون کا عنوان مجھے یاد نہیں ہے۔ لیکن خوشی کی ایک لہر آج بھی سرشار کرتی ہے۔ اس کے بعد آسنسول سے قیام انیس صاحب کاایک پرچہ ’’ محرک‘‘ میںمیری کہانیاں شائع ہو ئیں جن میں دومیرے پاس محفوظ ہیں۔کلکتہ سے شائع ہو نے والا روزنامہ ’’آزادہند ‘‘ میںمیرے کئی مضامین شائع ہوئے تھے۔ وہ سب بہت کم عمری کا زمانہ تھا۔ لیکن پر چوںمیںاخباروں میںاپنی تحریروں کو دیکھ کرجوطمانیت اورخوشی ہوتی تھی ۔وہ آج بھی میرے اندر پائوں پائوں چلتی ہے۔
ایم۔حسین:۔: آپ نے ملازمت کہاں کہاں کیا ہے ،اس عہدہ پر آپ کے تجربات کیسے رہے ہیں۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔میری ملازمت کا آغاز بوکارومہیلا کالج سے ہواوہاں سے میں نے1988اپریل سے لیکچرر کی حیثیت سے جوائن کیا اس کے بعد 1996نومبر میںبہار سروس کمیشن سے میرا تقرر ڈورنڈا کالج رانچی میںہوا۔ بوکارو مہیلا کالج بوکارو میںGBکے ذریعہ بحالی عمل میں آئی تھی۔ وہاں اردو میںلڑکیوں کی تعداد تو تھی لیکن اردو آنزر نہیں تھا۔ میری کوششوں کووہاں کی پر نسپل مسز سمیدھاترپاٹھی نے کامیاب بنایا۔ اور اردو آنزر کی پڑھائی شروع ہو ئی۔ اس وقت یہ کالج رانچی یونیورسٹی کے دائرے میں تھا۔ بعد میں ونوبابھاوے یونیورسٹی میںشامل ہوگیا۔ 2013میں میرا تبادلہ اچانک رانچی ویمنس کالج میںکردیاگیا جب کہ میں ذہنی طورپر اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ وہ تین ماہ میں نے بڑی کوفت میں گذارا اور بعد میں سبھوں کی مدد سے میںواپس ڈورنڈا کالج آگئی۔لیکن 2015میں مجھے صدرشعبۂ اردو کی حیثیت سے رانچی یونیورسٹی جانا پڑا۔ میں یہاں آنے کی بھی خواہش مند نہیں تھی۔ پھر بھی مجھے آنا پڑا۔ دوسال تک مجھے یہیں رہ کر صدرشعبہ اردو کے فرائض کی ادائیگی کرنی تھی، جب یہ معیاد پوری ہوگئی تو میں نے کئی بار ڈورنڈا کالج واپس جانے کی کوشش کی لیکن اس بار حالات ساز گار نہیںتھے۔۔۔۔ ابھی میں شعبہ اردو میںرہ کر اپنا کام کررہی ہوں۔ مجھے بوکارو مہیلا کالج سے لے کر شعبہ اردو تک کا جوسفر طئے کرناپڑا۔وہ ٹھیک ہی تھا۔سفر تو سفرہوتاہے۔۔اور اس کے راستے ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے ،نشیب وفراز آتے رہتے ہیں ۔اندھیرے اجالوں سے دوچار ہوناپڑتاہے۔ ان اچھے برے تجربات سے گذرتی ہوئی میں آج بھی سرگرداں ہوں۔
ایم۔حسین:۔اب تک مختلف موضوعات پر آپ کی کتنی کتابیں شائع ہو ئی ہیں۔ اور پہلی تحریر کونسی ہے۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔میری پہلی تحریر افسانہ کی شکل میں ہے۔ اس کے علاوہ میرے مضامین اورتنقیدی کتابیں ہیں۔ پانچ افسانوی مجموعے’ ایک مٹھی دھوپ‘،’دھوپ کا سفر‘،’سرخ لکیریں‘،’ پانی کاچاند‘اور’مورکے پائوں‘شائع ہو چکے ہیں۔س کے علاوہ تنقیدی وتحقیقی کتابیں’ صالحہ عابدحسین بحیثیت ناول نگار‘،’منٹو او ربیدی تقابلی مطالعہ‘، ’منٹو اورواجدہ تبسم کے نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ ،شیشہ ٔ افکار‘اور’نظریۂ ادب‘کے ساتھ ہی نثری شاعری کاایک مجموعہ بھی ہے۔
ایم۔حسین:۔آپ نے کہا کہ میرے پانچ افسانوی مجموعے منظر عام آچکے ہیں۔ اس سے ملتا جلتایک سوال ہے کہ آپ کو افسانہ نگاری سے دلچسپی کیسے پیداہوئی۔اورآپ کا پہلا افسانہ کونسا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔دلچسپی کا جہاں تک سوال ہے تو میرا خیال ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک افسانہ نگار ہو تاہے ،شاعر اور تنقید نگار بھی ہوتاہے۔ اس کامظاہرہ اس کے شب وروز میںکسی نہ کسی طرح ہوتارہتاہے۔لیکن جواپنے اس فن کو سمجھ کر اس کی آبیاری کرتاہے تو اپنے تجربات ومشاہدات کی پیش کش کا کوئی نہ کوئی راستہ اسے مل جاتاہے۔
میںنے اپنے ابتدائی افسانوں میں اکثر ایسے جذباتی لمحوں کو پیش کیاہے۔جنہیں پڑھ کر آج عجب سا لگتا ہے ۔لیکن جب میں آنکھیں بندکرکے واپس گمشدہ لمحوں میںجانے کی کوشش کرتی ہوںتو یہ تمام بیان کر دہ واردات جیسے جگنوئوں کی طرح میرے دل ودماغ میںدل آویز روشنی پھیلا نے لگتے ہیںاور ایک کسک بھی جاگتی ہے کہ زندگی میں اگران جگنوئوں کی جگمگاہٹ نہ ملی تو پھر یہ زندگانی کس کام کی ؟ یہ فن کاری کس بات کی ؟۔
ایم۔حسین:۔آپ کس اساتذہ کرام اورکن کن افسانہ نگاروں ،شاعروں ،نقادوں اور ادیبوںسے متاثر ہو ئی ہیں۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔میں نے جس اسکول میں تعلیم پائی وہاں کے اساتذہ سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا۔ پھر شعبہ اردو میں ایم اے میں داخلہ لیا تو وہاں جتنے بھی اساتذہ کرام تھے وہ سب بڑ ی اچھی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت ان کی گفتار نے مجھ پرہمیشہ مثبت اثرات مرتب کیے۔سمیع الحق صاحب ،وہاب اشرفی صاحب ابوذرعثمانی صاحب،احمدسجادصاحب ،ش اختر صاحب اچھے استاد کے ساتھ ساتھ ادب کے میدان میں بھی سرگرم رہے۔
ایم۔حسین:۔ادب کے بارے میں آپ کے کیانظریات ہیں۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔ادب زندگی کا آئینہ ہوتاہے۔ تصویر یں مختلف ہوتی ہیں تو منظر نامے بھی بدل جاتے ہیں لیکن زندگی میں تجربے ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔ عصری حسیت ادب کو اپنے عہد کا دستاویز بناتی ہے۔ اس لیے زندگی کی حشر سامانیوں کے ساتھ ساتھ اس میںمقصد کی شمولیت لازم ہے۔
ایم۔حسین:۔اردو کے فروغ میں سب بڑامسئلہ آپ کی نظر کیاہے۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔اردوکو سرکاری وغیر سرکاری سبھی اسکولوں میں بطور ایک موضوع شامل کرنا لازم ہے۔ لیکن ایسا ہے نہیں۔ آج کل بچے جب اسکولوں میںداخلہ لیتے ہیں تووہاں اردو کا نام ونشان نہیںملتاپھر وہ کیسے سمجھیںگے۔اردو بھی ایک زبان ہے۔ اس کے فروغ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے ابتدائی سطح سے پڑھنے لکھنے کی سہولیتں دی جائیں۔ سرکار اپنا کام کرے اور اردو پڑھنے والے بھی اپنے طورپر اسے ایک فریضہ سمجھیں۔ اسے مسلمانوں کی زبان سمجھنا غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کو ہٹانا ضروری ہے۔
ایم۔حسین:۔اردو کے فروغ میں ریاست جھارکھنڈ کو کس مقام پر دیکھتے ہیں۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔کوششیں جاری ہیں۔ لیکن ابتدائی سطح پر اردو کے فروغ پر دھیان لازم ہے۔ جھارکھنڈ ریاست کو ابھی مزید اس سلسلے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ابتدائی تعلیم کے مراحل میں اردو کو بطور ایک سبجیکٹ شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ زرخیز مٹی کے ساتھ ساتھ پودا بھی لگانا اہم ہے۔ ورنہ مٹی کی نمی اور زرخیز ی خود بخود ضائع ہو جاتی ہے۔
ایم۔حسین:۔ آپ نے افسانہ نگاری کے میدا ن میں نہ صرف شناخت قائم کی بلکہ آپ کے افسانہ پر خوب دادوتحسین ملی ہے۔ تو کیا ناول نگاری یا کوئی ناول لکھنے کا ارادہ ہے۔ ؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔ہاں۔ میں نے ناول لکھنے کا سوچاہے۔اوراس کی شروعات بھی کی ہے۔ دعاگوہوں کہ پایہ تکمیل تک پہنچے۔
ایم۔حسین:۔میم آپ نے افسانہ کے علاوہ تحقیق اورتنقید کے متعلق بہت سارے کام کیاہے ۔اس سلسلے میںکچھ کہنا چاہتی ہیں۔
ڈاکٹرصاحبہ:۔میںنے صالحہ عابد حسین ،منٹو ، بیدی اور واجدہ تبسم پر تنقیدی وتحقیقی کتابیں لکھی ہیں۔ متعدد مضامین مختلف موضوعات پر تحریر کیا ہے ۔نثری شاعری بھی کی ہے۔ بس جو لکھا ہے وہ دل ودماغ کے باہمی اتحاد سے لکھاہے۔
ایم۔حسین:۔ ایک سوال ہے کہ میم جو افسانہ ماضی میںلکھے گئے اورآج جو افسانے لکھے جارہے ہے اس میں اپ کس طرح کا فرق محسوس کرتی ہیں۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔ماضی کے افسانے مجھے بہت پسند ہیں۔ آج بھی کچھ کہانیوں کو میں بھول نہیں پائی ہوں۔ ان کے کردار مجھے آج بھی اپنی طرف مائل کر تے ہیں۔ زمانہ تغیر پذیر ہے،انقلاب رونما ہو تے رہتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ ان کے اثرات ادب پر پڑتے ہیں ۔ موضوعات کی نوعیت پر بھی اثرپڑتاہے۔ فکرونظریات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پھر تحریر یں بھی خود بخود ایک نئی راہ چن لیتی ہیں۔لیکن جو اسلوب ،اظہار بیان اور الفاظ کی ترتیب ماضی کے افسانوں میںموجود ہے وہ آج نہیں۔ آج کی اکثر کہانیاں یا تو کلائمکیس پر پڑھنے والوں کسی جھٹکے سے دوچار کر تی ہیں یا پھر قاری اس صورت حال کا منتظر ہی رہ جاتاہے۔
ایم۔حسین:۔ اردو زبان کے فروغ میں افسانہ نگاری کا کیا رول نظرآتاہے۔؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔اردو زبان کے فروغ میں افسانہ نگاری کااچھا خاصا دخل ہے۔یہ صنف ادب میں دلچسپی اورتجسس کے نئے جلوے لے کرآئی۔ زندگی کی آئینہ داری میںیہ بے حد اہم ہے اور زمانے کے رویے کا سب سے موثر ذریعہ اظہار ہے۔
ایم۔حسین:۔آخر میںایک سوال : اب تک کی زندگی کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ۔ ؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔خوشی ا ورغم سے لبریز زندگی میںکئی ناقابل فراموش واقع ہیں۔ جن کی یاد یں جسم میںروح کی طرح پیوستہ ہیں ۔ اب کیا کیا بتائوں۔
ایم۔حسین:۔مستقل پتہ ؟
ڈاکٹرصاحبہ:۔معراج اپارمنٹ ، نیو پراس ٹولی ،ڈورنڈا،رانچی۔ (جھارکھنڈ)
Md.Mokammal Hussain
Assistant Urdu ,Urdu Scetion
Jharkhand Vidhan Sabha,Ranchi (Jharkhand)
Phone:8084494916
mokammal2018@gmail.com












