شعیب رضا فاطمی
ماہر اسلامی اقتصادیات ،اور ہندوستانی مسلمانوں کے جملہ مسائل کی جڑوں کو تلاس کر کے ان کے قابل عمل حل کی فہرست سازی کے لئے ایک سائنٹفک ادارے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کا قیام کرنے والے ڈاکٹر منظور عالم سے ملنا کسی بھی شخص کے لئے قابل فخر ہی ہو سکتا ہے ۔اللہ کا شکر ہے کہ جمعرات کے روز ان سے اس حالت میں ملاقات ہوئی کہ موصوف اپنی تمام تر جسمانی تروتازگی سے کنارہ کشی اختیار کر کے ڈائلسیس کی سنگلاخ وادی میں داخل ہو چکے ہیں ۔لیکن اس مضمحل قوی کے باوجود ان کی آنکھوں میں عزم و ارادے کی روشنی ابھی ماند نہیں پڑی ہے ۔آواز میں گھن گرج تو باقی نہیں ہے لیکن سنجیدگی میں کوئی کمی بھی نہیں ہوئی ہے ۔وہ آج بھی آدھی صدی کے ہندوستانی مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان نہیں سناتے بلکہ ان کے منہ سے نکلا ہر جملہ ایک پیغام ہوتا ہے حال اور مستقبل دونوں نسلوں کے لئے ۔ڈاکٹ فضل الرحمان اور نجات اللہ صدیقی جیسے نابغہ ملی رہنماؤں کی تربیت سے آراستہ ڈاکٹر منظور احمد کا یہ کہنا کہ ہماری نسل کو ماضی سے اپنا رشتہ اسی طرح جوڑے رکھنا چاہئے جیسے ناخن سے گوشت منسلک رہتا ہے لیکن وقت وقت پر ان افکار کی کتر بیونت بھی اسی طرح ضروری ہے جیسے ناخن کے اضافی حصے کو تراشا جاتا ہے ۔موصوف کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے کے بگاڑ میں دینی ماحول سے دوری بے حد اہم ہے اور والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی خاص اہتمام کریں ۔حصول علم کی کوشش ہمارے رسول کا حکم ہے اور موجودہ دور میں علم چاہے اس کا تعلق تکنیک سے ہی کیوں نہ ہو اجتناب برتنے کا نہیں ہے ۔نوجوانوں میں چیلنجز کو قبول کرنے کی صلاحیت فطری طور پر ہوتی ہے ہمیں اسے صیقل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔نوجوانوں سمیت ملت کے ایک ایک فرد سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ نہ دیکھیں کہ شر کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ اس کی فطرت میں پھیلنا ہے ۔ہمیں اس کا مقابلہ خیر سے کرنا ہے ،اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے ،اختلافی گفتگو سے بھی اجتناب برتنا ہے اور اتحاد ملک و ملت کے لئے ہمہ وقت کام کرنا ہے ۔کیونکہ یہ ہمارے رسول کی سنت ہے اور قرآنی فرمان ہے ۔ہمارا رول ماڈل قرآن و سنت ہے اور اس سے مقابلے میں باطل کبھی کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا ڈاٹا بیس کی بنیاد پر اپنا لائحہ عمل بناتی ہے ۔ڈاکٹر منظور نے برسوں پہلے سے ہی ملک کے طول و ارض میں پھلے مسلمانوں کی جملہ آبادی کے مسائل کی نہ صرف ساینٹیفک انداز میں تحقیق کی بلکہ حکومت وقت کو بار بار اس کی روشنی میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے رغبت دلائی ۔جسٹس سچر کا یہ اعتراف کہ جب حکومت ہندنے ملک کے مسلمانوں کی اقتصادی ،تعلیمی ،سماجی و سیاسی زبوں حالی کی تحقیق کے لئے کمیشن متعین کیا تو ڈاکٹر منظور احمد اور ان کا ادارہ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا ۔اور یہ سچ ہے کہ اس سچر کیٹی کی رپورٹ میں ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق جو ریسرچ میٹیریل ہے اس کا تیس فیصد ڈاکٹر منظور احمد اور ان کے ادارے نے فراہم کئے تھے ۔ڈاکٹر منظور احمد کی پوری زندگی اسی طرح کے سنجیدہ اور دقت طلب ریسرچ میں گذری ہے ۔اور صرف ملک نہیں بیرون ملک تک رسائی حاصل کر کے ورلڈ اسلامک بینک کے لوگوں کو اس امر کے لئے تیار کرنا کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کے تعلیمی معیار کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے مالی تعاون کا ہاتھ بڑھائیں اور اللہ نے ان کی سعی کو لاحاصل جانے نہیں دیا جس کا نتیجہ ہے کہ آج کئی دہائیوں سے ہمارے ملک میں اسلامک ڈیولپ مینٹ بینک سے ہر برس ہزاروں ضرورت مند بچے مسفید ہو رہے ہیں اور اعلی تعلیم حاصل کرکے ملک اور ملت دونوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنا رہے ہیں ۔ایک ایسے شخص سے میری ملاقات بھی میرے لئے اتفاق ہی ہے اور اس اتفاق کی وجہ میرے سینئر صحافی دوست جناب اے یو آصف ہیں جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے مجھے پہنچانے کا سامان کیا ۔آصف صاحب کی ڈاکٹر منظور احمد پر لکھی ہوئی تازہ کتاب کا مطالعہ بھی اس کی وجہ ہے جو مجھے ڈاکٹر منظور صاحب کے فرزند اور میرے دوست محمد بھائی نے عنایت کی تھی ۔اور اس کتاب کو پڑھکر میں خود کو اپنے عہد کے ایک نامور مجاہد اقتصادیات کے سامنے جانے سے کسی بھی طرح نہ روک سکا ۔انشاء اللہ بہت جلد ڈاکٹر منظور احمد کی شخصیت اور کارناموں پر تفصیلی مظمون بھی قلمبند کرونگا ۔












