بلال بزاز
سرینگر ،سماج نیوز سروس:لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی حمایت نہ کریں جو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔دفعہ 370 کی منسوخی کو ایک تاریخی تبدیلی قرار دیتے ہوئے، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس اقدام کے بغیر نصف آبادی اپنے حقوق سے محروم رہتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی ہے کہ جموں و کشمیر سب سے آگے ہو، ہر فرد کی خواہشات پوری ہوں۔ قومی انگریزی خبر رساں ادارے ’’ پریس ٹرسٹ آف انڈیا ‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹر ویو میں جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ کہ میں لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ایسے عناصر کو بااختیار یا مضبوط نہ کریں جو امن اور ترقی کیلئے نقصان دہ ہیں۔ منوج سنہا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سچ ہے کہ ایسے عناصر پارلیمنٹ میں پہنچ چکے ہیں۔ ملک انہیں جانتا ہے اور ہم بھی انہیں جانتے ہیں۔ میں ووٹروں سے، جنہیں جمہوریت میں مکمل آزادی حاصل ہے، پر زور دیتا ہوں کہ وہ قومی مفاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔لیفٹنٹ گورنر نے مزید کہا کہ انتظامیہ ایسے افراد کو سیاست میں آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے ضروری اقدامات کرے گی۔اس دوران منوج سنہا نے دفعہ 370 اور آرٹیکل 35 اے کی منسوخی کو امن اور ترقی کے تاریخی دور کا آغاز قرار دیا۔انہوں نے کہا ’’ دفعہ 370 کی منسوخی تاریخی تھی۔ اس نے جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کی ہے کہ جموں و کشمیر سب سے آگے ہو، ہر فرد کی خواہشات پوری ہوں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں استحکام قائم ہو‘‘۔انہوں نے کہا ’’تعصب کا دور مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ پسماندہ کمیونٹیز جیسے (سابقہ) مغربی پاکستان کے مہاجرین، والمیکی، دلت، قبائلی، اور خاص طور پر خواتین کو ان کے حقوق دیے گئے ہیں۔ اگر دفعہ 370 کو منسوخ نہ کیا گیا ہوتا تو یہاں کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی کو ان کے جائز حقوق نہیں مل پاتے،یہ ایک بڑی تبدیلی ہے ۔انٹرویو کے دوران سنہا نے سیاسی رہنماؤں پر بھی تنقید کی جنہوں نے اس معاملے پر حکومت پر تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک آئین کے تحت چلتا ہے اور میری ان لوگوں سے مستقل توقع ہے جنہوں نے اسے برقرار رکھنے کا حلف اٹھایا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک نیا دور کیوں شروع ہوا ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے بدعنوانی پر قابو پانے میں پیش رفت کی ہے۔انہوں نے کہا ’’ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے لیکن ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ جموں اور کشمیر میں ہندوستان میں سب سے زیادہ آن لائن خدمات ہیں اور ہمارے ٹیکس کی وصولی میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کام کی رفتار دس گنا بڑھ گئی ہے اور انتظامیہ لوگوں کے مسائل اور امنگوں کو حل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔انہوں نے کہا ’’ جموں اور کشمیر میں سرمایہ کاری کے اخراجات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ لاکھوں روپے کی سڑکوں اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جموں و کشمیر میں ریل اور سڑک کے رابطوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مزید کام جاری ہے‘‘ ۔ایک اور سوال کے جواب میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ دہشت گردوں کی طرف سے دراندازی کی کوششوں کو روکنے کے لیے ہندپاکستان سرحد کے ساتھ انسداد دراندازی گرڈ کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔پاکستان پر دہشت گردی کا ’’ذریعہ ‘‘ہونے کا الزام لگاتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں امن اور معمول کو خراب کرنے کی اپنی کوشش میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا ’’ دراندازی گرڈ کو ماضی کے مقابلے مضبوط کیا گیا ہے۔ دراندازی کی کسی بھی کوشش کو روکنے کیلئے اسے مزید تقویت دی جائے گی۔ ‘‘












