بنگلور میں حزب اختلاف کی میٹنگ میں اس محاذ کا نام ’’انڈیا‘‘رکھ کر اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کو ایک جھٹکا تو دیا ہی ہے وہاں کانگریس کے صدر کا یہ اعلان بھی ترپ کا پتہ ثابت ہوا ہے کہ کانگریس نہ تو وزیر اعظم کی ریس میں ہے اور نہ اس محاذ کی لیڈر شپ میں اس کی دلچسپی ہے وہ تو صرف مرکز سے نریندر مودی اینڈ کمپنی کی سرکار کو اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے جس کی موجودگی میں ملک کی جمہوریت ختم ہو چکی ہے۔اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس کے اس اعلان سے دیگر سیاسی پارٹیوں کو متحد ہونے میں جو قباحت تھی وہ ختم ہو گئی ہے ۔اور اب یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ’’انڈیا‘‘آنے والے انتخاب تک کسی انتشار کا شکار نہیں ہوگی ۔ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں نے جو بھی کرنا تھا وہ کیا ۔اور اس کے نتائج یہ برامد ہوئے کہ آج ملک کی مجموعی آبادی کے کم و بیش 25فیصد لوگ اور ان کی توانائی غیر منفعت بخش کارکردگی میں ضائع ہو رہی ہے ۔ایک افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کی مسلمانوں نے جب بھی کسی اسٹیج سے شکایت کی ،ارباب اقتدار کے گوش گذار کیا تو انہوں نے نہایت خوبصورتی سے اسے یہ سمجھ کر ٹال دیا کہ یہ مسلمانوں کا ذاتی مسلہ ہے ۔بابری مسجد سے لے کر دفعہ 370تک۔ طلاق کے مسلے سے لے کر این آر سی تک کے مسئلے تک مسلمانوں کے مسائل پر سرکار کی غلط پالیسیوں کے خلاف عام ہندوستانیوں کی حمایت مسلمانوں کو نہیں ملی ۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ مظلوموں کا خون پی پی کر مرکزی حکومت اس قدر بے لگام ہو گئی کہ اب اس نے اپنے ظلم کو عام کر دیا ۔یا یہ سمجھ لیں کہ اس نے اپنے مظالم کو ہی سیاست سمجھ لیا اور اقتدار پر قابض رہنے کے لئے سام دام دنڈ بھید سب کا سہارا لیتے ہوئے ریاستی سرکاروں کے گھروں میں سیاسی ڈاکہ زنی شروع کردی ۔شروع شروع میں علاقائی سیاسی پارٹیوں کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ بی جے پی صرف کانگریس مخالف ہے۔اور جیسے ہی کانگریس بھارت کے سیاسی منظر نامہ سےہٹے گی علاقائی پارٹیوں کے وجود کو بی جے پی تسلیم کر لیگی ۔لیکن موجودی سیاسی منظر نامہ ایک دوسری کہانی سنا رہا ہے جس میں کانگریس ایک بار پھر توانا ہو رہی ہے اور علاقائی پارٹیوں کا وجود خطرے میں نظر آنے لگا ہے ۔اس موقعہ پر مجھے بچپن میں سنی ہوئی ایک کہانی بار بار یاد آرہی ہے۔کہانی یوں ہے کہ ایک چوہا کسی سوداگر کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا ۔ایک دن چوہے نے دیکھا کہ سوداگر اپنی دوکان سے لوٹ کر آتے وقت ایک چوہے دانی لایا ہے۔ چوہا بہت پریشان ہوا اس نے گھر سے باہر جاکر سوداگر کے پالے ہوئے کبوتر کو یہ بات بتائی ۔کبوتر ہنسنے لگا اور اس نے کہا یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے کون سا چوہے دان میں پھنسنا ہے ۔چوہا مایوس ہو گیا اور بھاک کر مرغے کو کو بھی یہی بات بتائی ۔مرغے نے بھی چوہے کا مذاق اڑایا ۔چوہا بہت پریشان ہوا اور باڑے میں بندھے بکرے کو کہا کہ سوداگر گھر میں چوہے دانی لے آیا ہے ۔بکرا بھی چوہے کی بات پر بہت ہنسا اور چوہے سے کہا کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے ۔چوہا حیران وپریشان سا اپنے بل میں چلا گیااسی رات چوہے دانی میں کھٹاک کی آواز آئی اور ایک زہریلا سانپ اس میں پھنس گیا ۔.اندھیرے میں سوداگر کی بیوی نے اس سانپ کی دم کو چوہے کی دم سمجھ کر جیسے ہی نکالنے گئی زہریلے سانپ نے اسے ڈس۔لیا۔ طبیعت بگڑنے پر سوداگر نے حکیم بلایا اور حکیم کے مشورے پر کبوتر کا سوپ بنایا گیا جس سے مریضہ کو کافی افاقہ ہوا لیکن چوہے دانی کا۔پہلا شکار کبوتر بن گیا ۔.سوداگر کی بیوی کو سانپ نے ڈس لیا ہے یہ خبر جیسے ہی پھیلی سوداگر کے کچھ خاص رشتہ دار اس کی بیوی کی مزاج پرسی کےلئے آ گئے اور ان کی ضیافت کے لئے مرغے کو ذبح کر دیا گیا ۔کچھ دنوں بعد جب سوداگر کی بیوی پوری طرح صحت مند ہو گئی تب سوداگر نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور بکرے کو ذبح کر ڈالا ۔اس وقت تک چوہا اس گھرسے بہت دور جا چکا تھا۔
فی الحال’’انڈیا‘‘کی تشکیل اسی خوف کا نتیجہ ہے اور یہ اتحاد یقینی طور پر بی جے پی کے ستم سے بچاؤ کا ایک طریقہ کار ہے ۔اپوزیشن پارٹیوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک معاشرے اور ملک میں رہنے والے تمام افراد کے دکھ اور پریشانیاں ایک دوسرےکو متاثر کرتی ہیں اور کبھی کسی دوسرے کے دکھ کو مذاق میں بھی یہ کہہ کر آگے نہ بڑھیں کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ۔
ابھی چند ماہ پہلے جب اودھو ٹھاکرے کی شیو سینا میں ممبران اسمبلی کی چوری ہوئی تب ملک کی باقی پارٹیاں تماشہ دیکھ رہی تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں کہ یہ اودھو ٹھاکرے کا مسئلہ ہے ۔لیکن آج وہی مسلہ این سی پی کو ہلائے ڈال رہا ہے ۔تصور کریں کہ یہ وہی دو پارٹیاں ہیں جن کے ارد گرد پورے مہا راشٹرا کی سیاست گردش کرتی تھی ۔شرد پوار وہی لیڈر ہیں جن کا مقابلہ پورے مہاراشٹرا میں صرف بال ٹھاکرے کر سکتے تھے لیکن آج بال ٹھاکرے کے بیٹے ہوں یا پھر شرد پوار عمر کے آخری پڑاؤ پر بھی آرام و سکون سے کوسوں دور ہیں اور اس سکون کی تلاش میں ہیں جس کا دور دور تک پتہ نہیں ہے ۔لیکن ان کو اس امر کا شاید ہی احساس ہو کہ مکافات عمل بھی کوئی شے ہے ۔خود کو سیاسی بازیگری کا مہاپنڈت سمجھنے والے شرد پوار نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ کانگریس کو ستایا ہے ۔جبکہ ان کی پرورش کانگریس کے زیر سایہ ہی ہوئی ۔مہاراشٹرا کی زمین سے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کی سازش یا تو شرد پوار نے کی یا بال ٹھاکرے نے ۔لیکن آج اگر ان دونوں کا مہاراشٹرامیں جو تھوڑا بہت وجود باقی ہے تو وہ کانگریس کی وجہ سے ہی باقی ہے ۔تازہ حالات میں تو مجھے یہ لگنے لگا ہے کہ کانگریس ان ساری پارٹیوں سے بہت آگے ہے۔مہاراشٹرا کے لوگ اب یہ بات بھی سمجھ چکے ہیں کہ ان علاقائی پارٹیوں کے چکر میں پڑنے سے بہتر ہے کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے براہ راست کانگریس کو ووٹ دیا جائے ۔اور اگر آنے والے انتخاب میں کانگریس کی طرف ایک بار پھر لوگوں نے توجہ دے دی تو پھر مودی اینڈ کمپنی کی ساری حکمت عملی دھری رہ جائیگی ۔
(شعیب رضا فاطمی )












