سرینگر،23؍ مئی،سماج نیوز سروس: پی ڈی پی نے 2015میں یہاں بھاجپا کو گود میں بٹھا کر لایا لیکن اس کے بعد یہاں کے عوام کو سوائے مایوسی، تنگی، خوف و ہراس، ظلم و جبر، غیر یقینیت اور بے عزتی کے سوا کچھ نہیں ملا کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے کہا کہ آج ہمارے نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے بند ہیں، ہماری زمین مختلف بہانوں کے ذریعے چھینی جارہی ہیں، کوئی سچ بولنے کی ہمت نہیں کرپاتا، اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن ہے، نوجوانوں کو یہاں سے اُٹھاکر باہری ریاستوں کی جیلوں میں بند کیا جارہاہے، اور یہی پی ڈی پی والے آج یہاں کے عوام کے حقوق کیلئے لڑنے کی بات کررہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ اور تقسیم کرنے کیلئے نت نئے حربے اپنا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اننت نا گ راجوری پارلیمانی حلقے سے پارٹی اُمیدوار میاں الطاف احمد کے حق میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھتے ہوئے نور آباد دمہال ہانجی پورہ میں ایک بھاری چنائوی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں یہاں کی زمینوں کو بچانے کا کام کرنا ہے، یہاں کے بچوں کے روزگار کو سلب ہونے سے بچانا ہے، باہری ریاستوںمیں قید کشمیری بچوں کی واپسی اور رہائی کیلئے کام کرنا ہے اور نیشنل کانفرنس اس سب کیلئے وعدہ بندہے، ہم صرف ایک
قیدی کی بات نہیں کرتے ہیں، ہم اُن تمام ہزاروں قیدیوں کی بات کرتے ہیں جو بنا کیسوںکے بند ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بھاجپا کے اعانت کار عوام کو کون سی راحت پہنچا سکتے ہیں؟ بھاجپا کے آلہ کار جموںوکشمیر کے عوام کے حقوق کیلئے بی جے پی سے کون سے لڑائی کرسکتے ہیں؟ بھاجپا کی پراکسیاں 5اگست2019کو چھینے گئے حقوق کی بحالی کیلئے کس ہمت سے بھاجپا کیخلاف جدوجہد کریںگے؟ یہ لوگ تو بھاجپا کے احسانوں تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہ بیٹ والے ہو، سیب والے ہو، بالٹین والے ہو یا قلم دوات والے ہو، ان سب کے تار کہیں نہ کہیں بھاجپا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ گذشتہ ماہ ہی سرنکوٹ میں بی جے پی لیڈر مشتاق بخاری نے محبوبہ مفتی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ایک اور بھاجپا لیڈر مرتضیٰ خان نے بھی ایسی ہی حمایت کا اعلان کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ محبوبہ مفتی بھاجپا کیخلاف لب کشائی نہیں کرتی اور بی جے پی کیخلاف انتخابی مہم نہیں چلائی، ہم نے تو ادھمپور، جموں، کشتوار، ڈوڈہ، کٹھوعہ جاکر بھاجپا کیخلاف انتخابی مہم میں چلائی ، اب خدارا بتائے کہ جو بھاجپا کیخلاف
منہ نہیں کھول سکتی ہے وہ بھاجپا کیخلاف کیسے لڑے گی ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میاں الطاف احمد ایک ایسے لیڈر ہیں کہ جہاں اُن کے قدم پڑتے ہیں وہ وہاں لوگوں کی خدمت کرتے ہیں اور نیشنل کانفرنس نے سوچ سمجھ کر ان کو اس نشست پر میدان میں اترنے کیلئے قائل کیا نہیں تو 5اگست2019کے بعد اُن کی بھی الیکشن لڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ محبوبہ مفتی اور پی ڈی پی والوں کے پاس میاں الطاف کیخلاف کہنے کو کچھ نہیں ہے ، اسی لئے یہ یہ لوگ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ میاں صاحب کا تعلق اس نشست سے نہیں ہے، لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ محبوبہ مفتی نے خود 1999میں سرینگر سے الیکشن لڑا، مفتی صاحب نے آر ایس پور اور اتر پردیش میں الیکشن لڑا ، کیا صرف آپ ہی دوسری جگہوں پر الیکشن لڑنے کے اہل ہیں؟عمر عبداللہ نے کہاکہ ہمیں مضبوط اور منظم فرقہ پرست طاقتوں کیخلاف لڑنا ہے، جو مسلمانوں کو ذلیل اور بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنواتے ہیں ، اسی لئے ہم نے یہاں سے میاں صاحب کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم سب مل کر نہ صرف ان فرقہ پرست طاقتوں کیخلاف لڑیں گے بلکہ یہاں کے حقوق کی بحالی کے علاوہ آپ کے احساسات، جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑیں گے۔












