تو آخر کار مودی جی نے دہلی کی منتخب سرکار کو اپنے منتخب ایڈمنسٹریٹر کے حوالے کر ہی دیا ۔اور اس کے بعد برسوں سے چل رہی دہلی کی سرکار وزیر اعلی کی جگہ لیفٹیننٹ گورنر کے اشاروں پر چلنے کو مجبور ہو گئی ۔آپ کو یاد ہے کتنی منتوں کے بعد احتجاج اور مظاہروں کے بعد دہلی کو آدھی ادھوری ریاست کا درجہ ملا تھا ۔اور دہلی کے شپریوں کو ایک خود مختار ریاست میں رہنے کا فخر حاصل ہوا تھا۔لیکن ہمارے وزیر اعظم کو یہ پہلے دن سے ہی ایک نہ بھایا اور انہوں نے آخر کار ایک آرڈینینس کے ذریعہ کیجریوال سرکار جو دہلی کے عوام کی ہردلعزیز سرکار تھی کو اپنے گورنر کے ہاتھوں میں سونپ دیا ۔
اب کئی لوگ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ دہلی سرکار سپریم کورٹ جائیگی اور سپریم کے چیف جسٹس جنہوں نے محض آٹھ روز پہلےکجریوال جی کو عوام کے ذریعہ منتخب وزیر اعلی بتا کر ان کا مان بڑھایا تھا وہ اس آرڈینینس کو مسترد کر دینگے ۔جبکہ یہ ناممکن ہے اور یہ توقع لا علمی کے سبب ہے ،کیونکہ ہمارے آئین میں اس امر کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ عدالت پارلیامنٹ کے کسی آرڈینینس یا قانون کو مسترد کر دے ۔وہ زیادہ سے زیادہ کسی آرڈیننس یا قانون کی صحت پر غور کرسکتا ہے ۔اس آرڈیننس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مودی سرکار نے دہلی کے عوام سے اس لئے ان کی سرکار چھین لی کہ انہوں نے دہلی اسمبلی میں تین بار یکے بعدیگرے بی جے پی کو مسترد کر کے عاپ کو سرکار بنانے کا مینڈٹ دیا ۔انہیں کیجریوال کی سرکار اتنی اچھی لگی کہ دہلی کے سات کے سات ممبر آف پارلیامنٹ تو انہوں نے ضرور بی جے پی کے بنوائے لیکن دہلی اسمبلی میں انہوں نے کسی کی نہ سنی سوائے اروندکیجریوال کے ۔لیکن کیا اب بھی وہی صورت حال باقی رہے گی؟کیا دہلی کے لوگ مرکزی حکومت کی ان سازشوں کا کوئی اثر نہیں قبول کرینگے ؟
اب اس کا آخری پہلو یہ ہے کہ مرکزی سرکار کرناٹک کی شکست کے بعد بالکل باولی ہو چکی ہے اور اس لیڈر نریندر مودی ابھی تک کی اپنی تمام کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لئے عوام کا جذباتی استحصال کرتے رہے ہیں ۔گجرات میں تو انہوں نے اقتدار میں رہنے کے لئے ہزاروں انسانوں کی لاشوں کی بھی پرواہ نہیں کی ۔لیکن اب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ 2024میں کیسے کامیاب ہوں ۔کیونکہ رفتہ رفتہ ان کے ہاتھوں سے ریاستیں بھی نکلتی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ شامل علاقائی پارٹیاں بھی ۔لہذا اب ان کے پاس آئین پر براہ راست حملے کے سوا دوسری کوئی راہ نہیں ۔ آخر مرکزی حکومت نے ایک منتخب سرکار کو تقریبا نا اہل کیوں قرار دے دیا ؟اور اس کے سیاسی نتائج کیا ہونگے؟اس موضوع پر باتیں شروع ہو گئی ہیں اور یہ سلسلہ طویل ہوگا لیکن اس سے نریندر مودی کی صحت پر بظاہر ایسا کوئی اثر نہیں پڑنے والا ۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسان تحریک کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ،ڈپٹی ہوم منسٹر کے بیٹے کے ذریعہ کسانوں پر گاڑی چڑھا کر سر عام کسانوں کو قتل کرنے کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ،عتیق احمد کو سرعام پولیس کسٹڈی میں مار دینے کے معاملے کا اس پر کوئی اٹر نہیں پڑا ،پہلوان بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے اس کے ایم پی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے ۔
میں اکثر لکھتا رہا ہوں کہ موجودہ مرکزی سرکار اور اس کی پارٹی بی جے پی کو ملک کی دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ رکھ کر دیکھنے کی غلطی ہی اس سارے فساد کی جڑ ہے ۔بی جے پی نہ تو کانگریس ،کمیونسٹ ،سماج وادی ،یا ترنمول اور جے ڈی یو آر جے ڈی جیسی پارٹی ہے اور نہ اس کے پاس محدود وسائل ہیں ۔یہ ایک مضبوط نظریاتی بنیاد پر کھڑی ہے جو نظریہ ملک کے اکثریتی طبقہ کے مذہبی اعتقاد کی نمائندگی کرتی ہے ۔پارٹی کارکنوں کے علاوہ اس کے ساتھ آر ایس ایس جیسی تنظیم کے کروڑوں تر بیت یافتہ افراد ہیں ۔اور ساتھ ہی آر ایس کی وہ ذیلی تنظیمیں ہیں جو براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی آر ایس ایس کے ذریعہ ہی گائیڈ ہوتی ہیں ۔ایسے میں اسے چیلنج کرنا اسی وقت ممکن ہے جب عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ ایک تحریک کی شکل میں سڑکوں پر نکل آئے اور عوام کا یہ غصہ پولنگ بوتھ تک اس کے ساتھ جائے ۔لیکن کیا یہ ممکن ہے ؟کیا اپوزیشن کا کوئی لیڈر اس حیثیت کا ہے کہ وہ پورے مل کے لوگوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر سکے ؟مجھے تو نظر نہیں آتا ۔لیکن مجھے یہ ضرور نظر آ رہا ہے کہ اب نریندر مودی آخری معرک کے موڈ میں آچکے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ 2024سے قبل اپنے دو چار بچے کھچے اور ایجنڈوں کو سامنے لا کر اس پر عملی اقدام کر گذریں ۔وہ ایک ساتھ متعدد پارٹی لیڈروں کو گرفتار بھی کروا سکتے ہیں ،ایک ایسی ایمرجنسی کے حالات بھی پیدا کر سکتے ہیں جس کا نام ایرجنسی بھلے ہی نہ ہو ۔جیسے دہلی میں گورنر رول نافذ کر کے بھی وہ اپنی زبان سے یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کیجریوال سرکار برخواست کر دی ہے ۔لیکن آنے والے وقت میں ہم سب کو دہلی میں وہ سب ہوتا ہوا نظر آئے گا جو مرکزی حکومت چاہیگی ۔
اور پھر اسی گھٹا ٹوپ اندھیرے سے امید کا سورج طلوع ہوگا کیونکہ یہ قدرت کا نظام انسانی سازشوں سے اپنی راہ نہیں بدلتا ۔تاریخ شاہد ہے کہ کتنابڑا ظالم کیوں نہ ہو قدرت اس کی سرکوبی کا بنوبست کرتی ضرور ہے ۔اور مرکز پر قابض یہ عوام مخالف سرکار بوکھلاہٹ میں ایسی حرکتیں اسی لئے کر رہی ہے کہ قدرت کو یہی منظور ہے ۔کیونکہ کسی بھی تبدیلی کے لئے جواز تو چاہئے۔












