لبنان :لبنان میں حزب اللہ کے خلاف شروع کی گئی کارروائی میں مقامی آبادی نے زمین کے اندر زلزلے جیسے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔ یہ غیرمعمولی جھٹکے دراصل اسرائیلی فوج کی طرف سے استعمال کئے جانے والے طاقت ور بم ’ہتھوڑا‘ کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ اتنے سخت اور زور دار بم ہیں کہ ان کے پھٹنے سے دھرتی کانپنے لگتی ہے۔ اسرائیل نے ان بموں کا ماضی میں بھی حزب اللہ اور حماس کے خلاف ان کی سرنگوں کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔پھٹنے کے بعد زمین میں ارتعاش پیدا کرنے والےبم دراصل انتہائی طاقت ور بم ہوتے ہیں جو دسیوں میٹر زیر زمین بنکروں میں گھس جاتے ہیں۔ پھر اندر ہی اندر پھٹ جاتے ہیں۔ اس دھماکے کے نتیجے میں سیکڑوں میٹردور جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اس بار بھی لبنان میں شہریوں نے ایسےہی جھٹکے محسوس کیے ہیں۔
بین الاقوامی فوجی حوالوں اور مطالعات کے مطابق یہ بم زیرزمین مضبوط پناہ گاہوں اور بنکروں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ میزائل نما اس بم لمبائی 7.5 میٹر تک ہوتی ہے۔ان کا وز ایک ٹن سے شروع ہوتا ہے اور بعض کا وزن ایک ٹن سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان پر لیزر کنٹرول کا استعمال کرتے ہوئے بمباری کی جاتی ہے۔ ان بموں کی تیاری کا آغاز 1990 کی دہائی سے ہوا تھا۔
یہ میزائل زلزلے کے ساتھ ایک بہت ہی زور دار دھماکہ پیدا کرتے ہیں جو پورے ہدف والے علاقے اور اس کے ارد گرد دور دراز علاقوں میں بھی محسوس کر سکتے ہیں۔یہ بم اونچائی سے زمین کی طرف آواز کی رفتار سے گرایا جاتا ہے تاکہ سطح میں 30 میٹر کی گہرائی تک جا سکے اور پھر پھٹ جائے۔اس کی وجہ سے تیز لہریں اور شدید ارتعاش کے جھٹکے پیدا ہوتے ہیں جو عمارتوں، سرنگوں اور اونچی موٹائی کے پلوں کو منہدم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بم پھٹتے ہی ایک تباہ کن قوت پیدا کرنا جو کہ 3.6 شدت کے زلزلے کے برابر ہوتی ہے۔ بم کے سائز اور اس کے اندر موجود دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے اس کے اثرات میں فرق ہوسکتا ہے۔ پے لوڈ سمیت اس کا وزن عام طور پر 10 ٹن ہوتا ہے اور اسے لے جانے کے لیے مخصوص طیارے کی ضرورت ہوتی ہے۔












