• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

قدامت پسند تصورات میں قید کر دی گئی عورت

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 28, 2023
0 0
A A
قدامت پسند تصورات میں قید کر دی گئی عورت
Share on FacebookShare on Twitter

ہندوستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ سائنس، خلائی، ٹکنالوجی، سیاست، معیشت یا عالمی لیڈر کا کردار ہو، ان سب میں ہندوستان کا مضبوط کردار ابھر کر سامنے آیاہے۔ آج دنیا کے سب سے بڑے سرمایہ کار ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے بے چین نظر آتے ہیں۔ ہالی ووڈ کے عظیم اداکار اور اداکارائیں بھارتی فلموں میں کام کرنے کا خواب دیکھتی ہیں۔ درحقیقت دنیا ہندوستان کو تیزی سے ابھرتے ہوئے اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ لیکن اگر ہم سماجی طور پر بات کریں ، خاص طور پر دیہی ماحول کی، تو یہ اب بھی پسماندہ نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین کے حوالے سے معاشرے کی سوچ اور ادراک اس قدر تنگ ہو جاتا ہے کہ وہ انہیں زنجیروں میں قید دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ انہیں سماجی روایات اور قدامت پسند تصورات کا پابند دیکھنا چاہتا ہے۔اسے خواتین کا تعلیم حاصل کرنے، نوکری کرنے یا اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر بااختیار بننا قبول نہیںہے۔تاہم آج ہمارے معاشرے میں خواتین کو حکومت کی طرف سے بہت سی اسکیموں اور سہولیات کا فائدہ دیا جا رہا ہے۔ مرکز سے لے کر ریاستی سطح تک اسکالرشپ اور کئی اسکیموں کے ذریعے انہیں بااختیار بنانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ جیسی مہم کے ذریعے ان کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج بھی ہندوستان کے دیہی علاقوں میں عورتیں اور لڑکیاں کسی نہ کسی شکل میں قدامت پسند عقائد کی وجہ سے قید ہیں۔ اسے ہر لمحہ یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ ایک بیٹی ہے، بہو ہے، ایک ماں ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک عورت ہے۔ اس لیے اسے روایات کی زنجیروں میں قید رہنا چاہیے، یہی اس کی زندگی کا فرض ہے۔ اگر عورت معاشرے اور اس کی روایات کو ماننے سے انکار کردے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھ جائے تو وہ مثالی عورت نہیں ہوسکتی ہے۔
درحقیقت آئین اور قانون میں خواتین کے لیے مساوی حقوق بنائے گئے ہیں لیکن آج بھی اسے سماجی طور پر اس کے ثمرات نہیں مل رہے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے نے ایسے قدامت پسند تصورات پیدا کیے ہیں جن کے چنگل میں وہ قید ہو چکی ہے۔ عورت خواہ کتنی ہی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو، اپنے پیروں پر کتنی ہی کھڑی کیوں نہ ہو، اسے اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کا حق نہیں ہے۔ اگر کسی مرد کی بیوی مر جائے تو اسے نہ صرف دوبارہ شادی کا پورا حق دیا جاتا ہے بلکہ اس کام کے لئے معاشرہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی نوجوان بیوہ ایسا ہی کرنا چاہے تو اسے بے کردار قراردے دیا جاتا ہے ۔ قدم قدم پر اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ دیہاتی معاشرے کا دوہرا کردار ہے کہ وہ مردوں کے کسی عمل کو غلط نہیں دیکھتا بلکہ اپنی تنگ ذہنیت کی وجہ سے خواتین کو پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔سماجی ذہنیت کی وجہ سے عورت چاہے کسی بھی طبقے یا مقام سے تعلق رکھتی ہو، وہ خود کو بے بس سمجھتی ہے اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کے لیے کم از کم 10 بار سوچنے پر مجبور ہوتی ہے اور مردانہ ذہنیت کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ آج معاشرے میں طرح طرح کے بندھنوں میں پھنسی خواتین اپنی اور اپنی شناخت کے لیے ملک کے کونے کونے سے آواز اٹھا رہی ہیں لیکن پھر بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔ اگر وہ معاشرے کی قدامت پسند سوچ کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے تو انہیں جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ اس معاشرے میں مردوں کے لیے ایسا کوئی قدامت پسند تصور پیدا نہیں ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روایات صرف خواتین کے لیے ہی کیوں ہے؟ عورت کوہی ثقافت کی بیڑیوں میں کیوں باندھا جاتا ہے؟ اقدار اور روایات کا طوق مردوں پر کیوں نہیں لگایا جاتا ہے؟
عورتوں کی یہ حالت زمانوں سے ایسی ہی چلی آ رہی ہے۔ اس کے ارد گرد اقدار کا ایسا ظالم محافظ ہے کہ اس کے اندرونی احساسات سے آشنا ہونا بہت مشکل ہے۔ وہ کس حد تک انسان ہے اور کس حال میں اس کے حقوق کیا ہیں، یہ بات عورت اس وقت سوچتی ہے جب اس کے دل کو شدید چوٹ پہنچتی ہے۔ روایات اور معاشرے کے قدامت پسند خیالات کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ خواتین کو آزادی نہیں ہے۔ لیکن آزادی کے نام پر وہ آج بھی کئی طرح کی غلامی میں قید ہے۔ وہ پیدائش سے لے کر شادی اور موت تک اسی بندھن میں بندھے ہوئے ہے۔ ایسی غلامی، جسے عورت اپنی اقدار، اپنے فرائض اور اپنی ثقافت سمجھ کر پھنس جاتی ہے اور وہ خود بھی اس بات سے واقف نہیں کہ وہ قدامت پسندانہ تصورات کے چنگل میں کیسے پھنسی ہوئی ہے؟اس حوالے سے پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے دور افتادہ گاؤں چورسوں کی رہنے والی 25 سالہ سنگیتا کا کہنا ہے کہ ’’مجھے شادی ہوئے تقریباً 6 سال ہو گئے ہیں۔ لیکن میرے شوہر اور سسرال والوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ عورت کے کردار کے حوالے سے ان کی سوچ آج بھی بہت پرانی ہے۔ وہ بھلے ہی خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں ان کے خیالات آج بھی معاشرے کی بنائی ہوئی روایات کی بنیاد پر چلتی ہے۔ جن کا میں ہر لمحہ شکار ہوتی ہوں۔ میں بھی شادی کے بعد اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتی تھی لیکن نہ کرسکی کیونکہ آج میں کسی کے گھر کی بہو اور ان کے گھر والوں کی عزت ہوں۔ اگر گھر سے باہر پڑھنے نکلتی تو ان کے خاندان کی عزت برباد ہو جائے گی۔ آج تک میں یہ سمجھ نہیں سکی کہ آخرعزت کا سارا بوجھ عورت پر ہی کیوں ڈال دیا جاتا ہے؟ایک مرد، شوہر، باپ یا داماد سے ایسی ہی توقع کیوں نہیں کی جاتی ہے؟‘‘
سنگیتا سے دو سال بڑی ایک اور خاتون نروپما کہتی ہیں’’میری شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں، ان آٹھ سالوں میں میں نے اپنی پوری زندگی اپنے سسرال والوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے، تاہم آسائشوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود مجھے اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم اپنی پسند کے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی ہیں اور نہ پسند کے کپڑے خرید سکتی ہیں۔‘‘ درحقیقت یہ معاشرے کی قدامت پسند سوچ ہے، جو خواتین کے لیے پابندیوں کا سبب بنتی ہے۔ اس سے اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔آئین کے نام پر ہم سب کے لیے مساوی حقوق اور آزادی کا جتنا بھی نعرہ بلند کریں، سچ تو یہ ہے کہ آج بھی معاشرہ اپنی قدامت پسند سوچ سے آزاد نہیں ہو سکا ہے اور وہ خواتین کو پابند سلاسل رکھنا چاہتا ہے۔وہ انہیں روایت اور ثقافت کی زنجیروںقید دیکھنا چاہتا ہے۔ مصنفہ باگیشور، اتراکھنڈ میں چرخہ کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ہیں۔

نیلم گرانڈی

گڑوڑ، اتراکھنڈ

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    مارچ 26, 2026
    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر  وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    مارچ 26, 2026
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist