نوی ممبئی،(یو این آئی ) یو پی واریئرز کے ہیڈ کوچ ابھیشیک نائر، جو اس سے قبل آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائڈرز اور ہندوستانی مردوں کی ٹیم کے ساتھ کام کر چکے ہیں، نے خواتین کی کرکٹ میں اپنے پہلے کل وقتی تجربے کو "مشکل لیکن سبق آموز” قرار دیا ہے۔نائر کے مطابق، مردوں کے مقابلے میں خواتین کھلاڑیوں کو تکنیکی باریکیاں سمجھانے کے لیے زیادہ وقت اور براہ راست شمولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔نائر نے کہا کہ مرد کھلاڑیوں کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کی وجہ سے ایک ان کہی سمجھ بوجھ ہوتی ہے، لیکن خواتین کرکٹ میں ہر بات کو مختلف زاویوں سے اور تفصیل کے ساتھ واضح کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود کو روزانہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ انہیں کھلاڑیوں سے زیادہ سے زیادہ بات کرنی ہے۔ انہوں نے ہریلین دیول کے حالیہ ‘ریٹائرڈ آؤٹ واقعے کو ایک مشکل چیلنج کے طور پر پیش کیا۔ نائر کا ماننا ہے کہ خواتین کھلاڑی بہت زیادہ ‘ریسیپٹیو (بات سننے اور سمجھنے والی) ہوتی ہیں، لیکن ان کا اعتماد جیتنے میں وقت لگتا ہے۔ یو پی واریئرز نے سیزن کا آغاز مسلسل تین شکستوں سے کیا، لیکن جمعرات کو ممبئی انڈینز کے خلاف شاندار فتح حاصل کر کے واپسی کی۔ نائر نے ٹیم کی نئی کپتان میگ لیننگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا:اگر آپ کے پاس اچھا لیڈر نہ ہو تو تین شکستوں کے بعد واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ میگ لیننگ ٹیم کے ساتھ مکمل طور پر جڑی ہوئی ہیں اور جیسے جیسے ٹورنامنٹ آگے بڑھ رہا ہے، ان کی اصل قائدانہ صلاحیتیں سامنے آ رہی ہیں۔”اوپنر کرن نوگیرے کی خراب فارم (1، 5، 0 اور 10 رنز) کے باوجود ابھیشیک نائر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو سیزن میں بہترین کارکردگی کے بعد ان سے توقعات زیادہ تھیں، اگرچہ حالات فی الحال ان کے حق میں نہیں ہیں، لیکن ٹیم انتظامیہ انہیں جارحانہ کھیل جاری رکھنے کا مشورہ دے رہی ہے۔












