نئی دہلی،31جنوری،سماج نیوز سروس: باڑہ ہندوراﺅ اسپتال میں ایک لڑکی کے اعضاءغائب ہونے کے معاملے پر سیلم پور کے رکن اسمبلی عبدالرحمن سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے آئی او اور ایم ایس سے بات کی جس کے بعد معاملہ عثمان پور تھانہ سے سبزی منڈی تھانہ کو منتقل کردیا گیا ۔عبدالرحمن نے بتایا کہ اس طرح کے معاملات میں ٹیم بنائی جاتی ہے جس کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے ۔آج غالبا پوسٹ مارٹم ہوجائے گا جس کی رپورٹ آنے کے بعدجو بھی مجرم ہوگا اس کے خلاف کاروائی کرائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ےہ بہت ہی حساس معاملہ ہے اسے ہلکے میں کسی بھی صورت نہیں لیا جاسکتا۔جو الزام مرحومہ کے اہل خانہ نے باڑہ ہندوراو¿ کے ڈاکٹروں پر لگایا ہے اگر واقعی وہ صحیح ہے تو پھر ےہ باعث تشویش ہے۔واضح رہے کہ ریشم اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھی جو کہ بھجن پورہ کے ایک سرکاری اسکول میں آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھی۔ بچی کے والد جمیل نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو پیٹ میں درد کی شکایت تھی۔ انہوں نے اسے 21جنوری کو باڑہ ہندو را¶ ہسپتال میں داخل کرایا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے پیٹ میں گانٹھ ہے جس کا آپریشن کیا جائے گا۔ ریشمہ کے پیٹ کا آپریشن24 جنوری کو کیا گیا تھا۔ جمیل نے بتایا کہ آپریشن کے بعد ان کی بیٹی بے ہوش تھی، ڈاکٹروں نے انہیں ملنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں ہوش میں آجائے گی لیکن اگلے دو دن تک ہوش نہیں آیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں 26 جنوری کو صبح 9 بجے کے قریب مردہ قرار دیا۔ وہ میت لے کر گھر پہنچا، گھر والوں نے کفن پہن کر لاش دیکھی تو ان کے ہوش اڑ گئے جسم کے اندر سے اعضاءغائب تھے۔ اس نے معاملے کی اطلاع نیو عثمان پور تھانے کو دی۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ڈاکٹروں نے لڑکی کا صحیح علاج نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی بعد ازاں لاش کے اعضاءبھی نکال لیے گئے۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ لڑکی کی لاش کو گزشتہ پانچ دنوں سے پوسٹ مارٹم کےلئے مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔ اسپتال کے ڈاکٹروں کو بچانے کے لیے پولیس پوسٹ مارٹم کرانے کو تیار نہیں۔ اہل خانہ نیو عثمان پور اور سبزی منڈی تھانے جانے پر مجبور ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں دہلی میونسپل کارپوریشن کے باڑہ ہندو را¶ اسپتال میںایک ایسا معاملہ پیش آیا ہے جسے سن کر کلیجہ منھ کو آتا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ نیوعثمان کی 15سالہ لڑکی کو باڑہ ہندوراو¿ ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں بتایا کہ اس کی آنت چپکی ہوئی ہے اس لئے آپریشن ہوگاآخرکار 24 جنوری کو آپریشن کیا گیااور 26 جنوری کو مردہ قرار دے دیاگیااور لاش کو اہل خانہ کے حوالے کردی گئی۔جس وقت15سالہ ریشمہ نامی لڑکی کو نہلایا جارہا تھا تو دیکھا کہ اس کے پیٹ میں چیرا لگا ہوا ہے ۔کھول کر دیکھا تو لواحقین کے ہوش اڑ گئے کیوں کہ اس کے پیٹ میں پنیاں (پولی تھین ) بھری ہوئی ہیں اور قیمتی اعضا غائب ہیں۔100نمبر پر کال گئی اور پوسٹ مارٹم کے لئے جی ٹی بی ہسپتال بھیجا گیا مگر پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔












