(سید مجاہد حسین)
وطن عزیز میں سنت ،منیوں اور بابائوں کوبے حد عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ دنیا و مافیا کی عیش وعشرت بھری زندگی سے دور جاکر تپسیاکر کے اپنے آپ کو سونے کی طرح کندن بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے بھگوان کا قرب حاصل کرسکیں،یہی ان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے،لیکن کچھ بابا ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوںنے اپنے کرتوت یا متنازع بیان بازیوں میں گھر کر ان ہستیوں کی پاکدامنی پر ضرب لگانے کا کام کیا ہے۔پچھلے سالوں میں ایسے کئی ڈھونگی باباپولس اور قانون کی گرفت میں آچکے ہیں جو نہ صرف قتل اور زنا بالجبر کے مرتکب رہے بلکہ معصوموں کو قتل کرنے اور ان کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کے مجرم بھی رہے۔ان کے ذہنوں میں صرف عیاشی تھی جس پر دنیا کا پردہ پڑ اہوا تھااور قانون سے بچے ہوئے تھے ۔لیکن ان میں سے کچھ تو اب جیل میں ہیں جبکہ دو ایک ایسے ہیں جو سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے پیرول پر باہر گھوم رہے ہیں،یعنی جیل کی سلاخوں سے آزاد ہیں۔کچھ ایسے ہیں جو بابائوں کے بھیس میں سیاست کررہے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرنے میں لگے ہیں۔آج بات کرینگے بابا رام دیو کی جو اکثر اوقات اپنے متنازع بیانوں کی وجہ سے جلدسرخیوں میں چھا جاتے ہیں ،حالانکہ وہ بھی ایک بابا ہیں ،یوگ گرو ہیں تو ایک بڑے بزنس مین بھی ہیں، اس لئے ان کو عزت کی نگاہ سے دنیا دیکھتی ہے ،لیکن کئی باران کے اپنے ہی بیانات ان کیلئے مشکل کھڑی کردیتے ہیں۔حال ہی میں انہوںنے مہاراشٹر کے ایک پروگرام میں خواتین کے لباس کے تعلق سے جو کچھ کہا ،اس پر اب چوطرفہ ہنگامہ مچا ہوا ہے اور تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔اب رام دیو سے کہا جارہا ہے کہ وہ معافی مانگیں۔قابل ذکر ہے کہ دو دن قبل بابا رام دیو نے ایک پروگرام میںکہا تھاکہ خواتین کچھ بھی پہنیں یا وہ کچھ نا بھی پہنیں ۔۔۔اچھی لگتی ہیں ۔ان کے تبصرہ پر خواتین کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔دہلی خواتین کمیشن نے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تو وہیں مہاراشٹر میں این سی پی احتجاج میں سڑک پر اتری ہوئی ہے۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ممبئی ڈویژنل دفتر کے کارکنوں نے یوگا گرو بابا رام دیو کے خواتین سے متعلق متنازع بیان کے خلاف پارٹی دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔احتجاج کے دوران، این سی پی کارکنوں نے بابا رام دیو کے خلاف نعرے لگائے جیسے ’بابا رام دیو کا کیا کروں، سر نیچے ، پاؤں اوپر، رام دیو بابا ہائے ہائے ‘ اور ان کی تصویروں کو چپلوں اور جوتوں سے مارا اور ان کے بیان کی مذمت کی۔ادھر خواتین کمیشن کہہ رہا ہے کہ بابا کے بیان سے خواتین کو ٹھیس پہنچی ہے اس لئے وہ ملک سے معافی مانگیں۔
بلا شبہ بابا رام دیو نے جس طرح کا تبصرہ کیا وہ انہیں ہر گز زیب نہیں دیتا،لیکن اپنے بیان سے وہ اب گھر گئے ہیں، شاید وہ اپنی عادتوں سے مجبور ہیں!۔ان کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ شائستگی سے دور سیاست کے زیادہ دلدادہ لگتے ہیں اور سستی شہرت کیلئے اس طرح کے بیہودہ بیانات دیتے رہتے ہیںیا کبھی کبھی عدم تحمل اورغیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں!۔۔بتا دیں کہ یہ وہی بابا رام دیو ہیں جوسات سال پہلے انا ہزارے کے ساتھ عام آدمی پارٹی کی کانگریس مخالف تحریکوں میں پیش پیش رہتے تھے ،مہنگائی اور کرپشن کے خلاف گلا خشک کئے رہتے تھے ،لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے روح رواں ہیں اور اس کی حمایت کر کے اپنا الو سیدھا کرنے میں لگے ہیں! اب وہ مہنگائی پر بالکل خاموش ہیں، انہیں شدید مہنگائی کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے ۔ اس سے قطع نظر دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ ان کے بیان سے چراغ پا دہلی خواتین کمیشن نے بابا کو کوئی نوٹس کیوں نہیں بھیجا!۔کمیشن کو ٹھیک اسی طرح بابا کو بھی نوٹس بھیجنا چاہئے تھا جس طرح سے لڑکیوں کے داخلے کے تنازع پر وہ معاملے میں کود پڑا تھا اور دہلی کی جامع مسجد کی انتظامیہ کو نوٹس بھیجا تھا،اب اس نے صرف بیان جار ی کر کے اپنا پلہ جھاڑلیا ہے!۔ بہر کیف ، اس تنازع سے نکلنے کے لئے کیا بابا رام دیو اپنے بیان کے لئے اظہار افسوس کرینگے ،کیا وہ ندامت ظاہر کریںگے !۔












