بھارت
جوڑو یاترا
سورا بھاسکر مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر اکثر بیانات دیتی رہی ہیں، یاترا کو جوائن کرنے کی وجہ سے کانگریس میں نیا جوش
عامر سلیم خان
نئی دہلی :سماج نیوز سروس: بھارت جوڑویاترا میں قومی سطح کی سماجی، اصلاحی اور فلمی ہستیوں کی موجودگی سے جہاں کانگریس میں جوش دکھائی دے رہا ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سانس پھول رہی ہے۔ آج فلمی اداکارہ سورا بھاسکر نے راہل گاندھی کی یاترا میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی کئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائر ل ہورہی ہیں۔ گودی میڈیا کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ سورا بھاسکر اپنے اوٹ پٹانگ بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں اور انہیں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے۔ دراصل ان کے اوٹ پٹانگ بیانات وہی ہوتے ہیں کہ سرکار کو عوام کا خیال رکھنا چاہئے اور ایسی پالیسی اختیار کرنی چائے جس سے ملک میں روزگار بڑھے، خوشحالی آئے، مہنگائی کم ہو، فرقہ وارنہ ذہنیت پر لگام لگائی جائے، مذہبی نفرت کیخلاف سرکار سخت قدم اٹھائے۔بس یہی ساری باتیں گودی میڈیا کو پسند نہیں ہیں۔
اداکارہ سوارا بھاسکر کو کئی بار ملک کی موجودہ حکومت پر حملہ کرتے دیکھا گیا ہے۔ ایسے میں سوارا بھاسکر کا راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں حصہ لینا ضروری ہے کیونکہ کانگریس دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور راہل گاندھی اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھارہے ہیں۔ دراصل کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی’بھارت جوڑو یاترا‘کو 85 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ ایسے میں اب سوارا بھاسکر نے اپنی موجودگی سے راہل کی محنت میں مزید چار چاند لگادیئے ہیں۔راہل گاندھی کی اس یاتراکو مہنگائی اور نفرت کیخلاف چلایاجارہے ۔ راہل گاندھی آئے دن کہتے رہے ہیں کہ جو لوگ ڈرتے ہیں وہ مذہبی نفرت پھیلاتے ہیں اور یہی کچھ آج دیش میں ہورہا ہے۔راہل گاندھی کی یہی ساری باتیں حکمراں طبقہ کو پسند نہیں آرہی ہیں اس لئے آئے دن حکمراں طبقہ ان کی شبیہ خراب کرنے کی تگ ودو کررہا ہے۔ جس کاانہوں نے ابھی دو دن پہلے بیان دیا تھا کہ میری شبیہ خراب کرنے پر ہزاروں کروڑ روپئے خرچ ہورہے ہیں۔
فی الحال راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا قافلہ مدھیہ پردیش کے اْجّین سے گزررہاہے۔ جہاں سوارا بھاسکر کو اس ریلی میں راہل گاندھی کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے دیکھا جارہاہے۔ راہل گاندھی کے ساتھ سوارا بھاسکر کی تصاویر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک طبقہ اس معاملے میں سوارا بھاسکر کی تعریف کر رہا ہے تو دوسرا طبقہ جو حکومت کے قریب مانا جاتا ہے، اداکارہ پر کڑی تنقید کر رہا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کوئی فلم اسٹار کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا حصہ بنا ہو۔ سوارا بھاسکر سے پہلے راہل کی ریلی میں اداکارہ رشمی دیسائی، ریا سین، اکانکشا پوری، پوجا بھٹ اور تجربہ کار اداکار امول پالیکر جیسے کئی فلمی ستارے شامل ہوچکے ہیں۔ بالی ووڈ انڈسٹری کی ان مشہور شخصیات کی اس’بھارت جوڑو یاترا‘ میں دلچسپی کا اظہار بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یاترا کو مزید مقبولیت مل رہی ہے اور عوام ہاتھو ںہاتھ لے رہی ہے۔












