کیا ملک رفتہ رفتہ اس ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہا ہے جو کبھی اندرا گاندھی نے نافذ کی تھی اور جسے آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب کہا جاتا ہے ؟حکومت سے سوال پوچھنے والی میڈیا کی خاموشی نے حکومت کے حوصلے اتنے بلند کر دئیے ہیں کہ سرکاری بدعنوانی پر بولنے اور لکھنے والے لوگ بھی ملک دشمن قرار دے دئے جاتے ہیں۔کالج اور یونیورسٹی کے طلبا اگر حکومت کی کسی ناپسندیدہ فلم کو دیکھ لیں تو انہیں یونیورسٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔جمہوریت پر بڑھتے خطرے پر تشویش جتانے والوں کو غدار کہنا سرکار کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے اور ایسے ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے لئے آواز اٹھنی شروع ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرنا بھی پاکستانی ایجنٹ قرار دئیے جانے کے لئے کافی ہے۔سرکار کے بے سروپا پروگرام اور پالیسی پر اعتراض کرنا بھی گناہ ہے،اور ان سب کے باوجود بھی سرکار کو یہ ضد ہے کہ بس یہی کہا جائے کہ بھارت ملک کی سب سے بڑی اور مضبوط جمہوریت ہے۔ابھی کل ہی کی خبر ہے کہ دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف سرکار کی نظر کے مطابق قابل اعتراض پوسٹروں کو لے کر پولیس حرکت میں آگئی اور دہلی پولیس اس معاملے میں اب تک 6 لوگوں کو گرفتار کر چکی ہے۔جبکہ 100 سے زائدپر ایف آئی آرز بھی درج کی جا چکی ہیں۔یہ ایف آئی آر پرنٹنگ پریس ایکٹ اور پراپرٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہیں۔یعنی قانونی دفعات کا سہارا لے کر غیر آئینی اقدام کیا گیا جس پر اسپیشل سی پی اوردپیندر پاٹھک نے کہا، دہلی پولیس نے شہر بھر میں پی ایم نریندر مودی کے خلاف قابل اعتراض پوسٹر لگانے پر 100 ایف آئی آر درج کیں، جبکہ 6 لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔کیوںکہ پوسٹرز پر پرنٹنگ پریس کی تفصیلات نہیں تھیں۔ ایف آئی آر پرنٹنگ پریس ایکٹ اور پراپرٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہیں۔
پولیس آفیسر نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کے دفتر سے نکلنے والے ایک وین کو بھی روکا گیا جس میں سے متنازعہ پوسٹرس برآمد کئے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم مودی کے خلاف متنازع پوسٹر کیس میں عام آدمی پارٹی کا نام بھی سامنے آرہا ہے۔ اسپیشل سی پی او دپیندر پاٹھک نے کہا کہ آپ دفتر سے نکلے ایک وین کو روکا گیااس میں کچھ پوسٹرز قبضے میں لے لیے گئے اور گرفتاریاں بھی کی گئیں۔ان کا کہنا ہے کہ کچھ دن پہلے دہلی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل امیتابھ مینا نے ایک شخص کو پوسٹر لگاتے ہوئے پکڑا تھا تاہم بعد میں پوچھ گچھ کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف تقریباً 10 ہزار قابل اعتراض پوسٹر چھاپے گئے تھے، جسے پوری دہلی میں نصب کرنے کا منصوبہ تھا۔ پولیس اس معاملے میں مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
یعنی اب وزیر اعظم کے خلاف پوسٹر نکالنا بھی جرم قرار دے دیا گیا،اور پوسٹر نکالنے والے کے ساتھ اس پرنٹنگ پریس کو بھی سیل کیا جائے گا جہاں اسے چھاپا گیا ہے۔کمال یہ ہے کہ مبینہ حکومت مخالف پوسٹر پر باضابطہ نریندر مودی کا نام شائع کیا گیا ہے اور ان سے نجات کا نعرہ لکھا ہوا ہے۔یعنی اب بھارت کی حکومت کا مطلب ہی نریندر مودی ہے،اور دہلی کی چنی ہوئی سرکار غیر قانونی کاموں میں ملوث ہو چکی ہے۔ایسے میں تو دہلی کی سرکار ہی غیر قانونی کام میں ملوث ہو گئی اور مرکزی حکومت کو یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ اس غیر قانونی سرکار کو ہی برطرف کر دے۔ اگر اسی کا نام جمہوریت ہے تو ایسی جمہوری حکومت کی کوئی مثال پوری دنیا میں دوسری نہیںلہٰذا ایمر جنسی نافذ کرنے والی اندرا گاندھی کو پانی پی پی کر گالی دینے والوں کو اب ان کی پونیہ آتما سے معافی مانگ لینی چاہئے۔












