نئی دہلی،27؍ ریلیز،ہماراسماج:آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان احساس شکست میں مبتلا تھا، اردو صحافت نے ان کو اس احساس کمتری سے نکالا۔ابھی جمہوریت کے خد وخال واضح نہیں ہوئے تھے۔ لوگوں کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ آئین ان کو کیا حقوق اور کتنی آزادی دیتا ہے۔ اس ماحول میں مولانا عبدالوحید صدیقی اور ان کے ساتھیوں نے آزادی تحریر و تقریر کی جدو جہد کی اور اس کے حدود کو بڑھایا۔ان خیالات کا اظہار آج یہاں ’ آزادی اور جمہوریت کی جدو جہد ، اردو صحافت اور مولانا عبدالوحید صدیقی ‘کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اورسابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی نے کیا ۔وہ مجدد آئی او ایس سینٹر فار آرٹس اینڈ لٹریچر کی مجلس گفتگو سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان زندہ رہنا چاہیے، جس ہندوستان کا خوب گاندھی ،نہرو، مولانا آزاد اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا تھا اس کا گلا گھونٹا جارہا ہےاورپارلیمنٹ جمہوریت کا میوزیم بن کر رہ گئی ہے جبکہ مشہور صحافی اور صحافت کے پروفیسر شاہین نظر نے کہاکہ ایک جنگ ہمارے بزرگوں نے لڑی تھی اور اب ایک جنگ ہمارے حصے میں آئی ہےاور یہ جمہوریت اور آزادی کی بقا کی دوسری جنگ ہے۔ جناب نظر نے اپنے صدارتی کلمات میں مزید کہا کہ ہم اس جنگ کو جب ہی جیت سکتے ہیں کہ احساس کمتری سے باہر آئیں ۔ اس سے قبل مشہور صحافی و مصنف احمد جاوید نے کہا کہ صحافت کے کاروبار میں جس ماڈل کا تجربہ ہندوستان کی آزادی کی پہلی دہائی میں مولانا عبدالوحید صدیقی نے روزنامہ نئی دنیا کی صورت میں کیا تھا، وہی ماڈل آج بھی معقول و مؤثر ہے۔جبکہ معروف صحافی سہیل انجم نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں اردو صحافت کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد اردو صحافت کا کردار بدل گیا اور اس نے اب پہلے سے بھی مشکل لڑائی لڑی۔انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالوحید صدیقی نے تازندگی آزادیٔ صحافت جکا علم بلند رکھا اورحق صداقت کا سر کبھی جھکنے نہیں دیا۔ ڈاکٹر ابرار رحمانی نے اردو صحافت کے شاندار ماضی کو جذباتی انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت کے جوچند ادارے کی شاندار تاریخ ہے، ان میں نئی دنیا اور صدیقی گھرانے کا امتیاز یہ ہے،مولانا عبدالوحید صدیقی کے وارثوں کو ان کی قائم کردہ روایت کو آگے بھی زندہ رکھاجبکہ ڈاکٹر ابھے کمار نے اردو اور ہندی پریس کے کردار کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کو قدم قدم پر مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہےاور دوسرے کی کوریج کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے لیکن اس پر کسی زبان نہیں کھلتی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہندوستان کی جی ڈی پی پانچویں نمبر پر ہے لیکن ہمارا پریس دنیا میں ۱۶۱ویں مقام پر کیوں ہے۔مجلس گفتگو کا آغاز اطہر حسین کی تلاوت قرآن سے ہوا اور تعارفی کلمات مجدد آئی او ایس سینٹر کے کنوینر انجم نعیم نے پیش کئے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب انجام دے دے رہے تھے۔
شرکا میں مشہور ادیب و کالم نگار عظیم اختر،سید ظفر حسن،اشرف بستوی، محمد کلیم، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، محمد افضل خاں، صفی اکتر، مولانا انور علی، نفیس الرحمٰن، سہیل ہاشمی، عشرت ظہیر، جاوید احمد،ڈاکٹرجاوید حسن ، وسیم احمد اور اہل ادب و صحافت کی کثیر تعداد شامل تھی۔












