منہاج احمد
نئی دہلی: میئر کے انتخاب سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عام آدمی پارٹی (اے اے پی) پرجوش ہے۔ پارٹی میں اب یہ خیال شروع ہو گیا ہے کہ زون (وارڈ کمیٹیوں) کے انتخاب میں بھی نامزد (ایلڈرمین) کونسلروں کو دیے گئے ووٹنگ کے حقوق کو چیلنج کیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور عدالت اس کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں بھی حق رائے دہی کے معاملے پر روک لگا دیتی ہے تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مشکل میں پڑ سکتی ہے۔عام آدمی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق پارٹی جلد ہی اس معاملے میں کوئی فیصلہ لے سکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نامزد کونسلروں کو دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1957 کے تحت ووٹ دینے کا حق نہیں ہے۔ لیکن حال ہی میں ایک معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے زون (وارڈ کمیٹیوں) کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا تھا۔ اب عام آدمی پارٹی ہائی کورٹ کے اسی حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور کر رہی ہے۔دراصل، بھارتیہ جنتا پارٹی نے تین زونوں میں 10 نامزد کونسلروں کو نامزد کرکے وارڈ کمیٹیوں میں اپنے لیے اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے سول لائن اور نریلا زون میں 4-4 نامزد کونسلرز اور سنٹرل زون میں 2 نامزد کونسلرز کا تقرر کیا ہے۔ جس کی وجہ سے بی جے پی 12 میں سے 7 زونوں میں اکثریت میں نظر آرہی ہے۔ جبکہ’ آپ‘ کے پاس 12 میں سے صرف 5 زون ہیں۔ ایسی صورتحال میں اسٹینڈنگ کمیٹی میں بی جے پی کے 7 اور آپ کے 5 ممبران کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔اسٹینڈنگ کمیٹی میں کل 18 ارکان ہوتے ہیں اور ان میں سے 6 ارکان کا انتخاب ایوان کے پہلے اجلاس میں کیا جاتا ہے۔ اگر ایوان کی میٹنگ میں بی جے پی اور اے اے پی کے 3-3 ممبران منتخب ہوتے ہیں تو بی جے پی کوا سٹینڈنگ کمیٹی میں اکثریت حاصل ہوگی۔ اگر 2 بی جے پی ممبران اور 4 ’آپ’ ممبران ایوان سے منتخب ہوتے ہیں تو دونوں کے پاس اسٹینڈنگ کمیٹی میں 9-9 ممبر ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں اسٹینڈنگ کمیٹی کا انتخاب قرعہ اندازی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے عام آدمی پارٹی کے لیڈران ایلڈرمین کونسلروں کو ووٹ دینے کے حق کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔












