ملک کا موجودہ سیاسی منظر نامہ رفتہ رفتہ بے حد سنگین ہوتا جا رہا ہے اور جس تیزی سے حالات بدل رہے ہیں اس کے مزید خظر ناک ہونے کے آثار صاف نظر آنے لگے ہیں ۔کاشی کے گیان واپی مسجد کے بعد اب متھرا کے عید گاہ کے سروے کی بھی اجازت الہ آباد ہائی کورٹ نے دے دی اور اس اجازت نامہ کو سپریم کورٹ نے بھی ہری جھنڈی دکھا دی ۔یہ وہی سپریم کورٹ ہے جہاں بابری مسجد کا فیصلہ آستھا کی بنیاد پر ہو چکا ہے لہذا ساری اچھل کود کے بعد بھی فیصلہ وہی ہوگا جو اکثریتی کمیونیٹی کی آستھا کو ٹھیس نہ پہنچائے ۔پتہ نہیں 1991میں جو ورشپ ایکٹ لایا گیا تھا اس کا استعمال کب ہوگا اور کہاں ہوگا ؟جبکہ اس وقت پروپیگنڈا تو یہی کیا گیا تھا کہ بابری مسجد کے علاوہ ملک کی تمام مذہبی عمارتیں اسی حالت میں رہینگی جس حالت میں 1947میں تھیں ۔
یہ بات تو سب سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ انتخابی حکمت عملی ہے اور ملک میں چند مہینوں کے اندر جو عام انتخابات ہونے والے ہیں اس کی تیاری کا ایک طریقہ یہ بھی ہے ۔لیکن اس سے بی جے پی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والاکیونکہ وہ اب ملک کی تمام پارٹیوں سے ماورا ہو چکی ہے ۔اس کے سربراہ کو ملک کے لوگ انسان سمجھنے کی جگہ دیوتا سمجھنے لگے ہیں ،اور دیوتا کا کسی سے موازنہ نہیں ہو سکتا ۔دیوتا بھی وہ جو ابھی 2024کے عام انتخاب سے قبل پوری دنیا کے سناتنیوں کو اب تک کا سب سے بڑا تحفہ رام مندر کی شکل میں دینے والا ہے ۔اور اس کے ساتھ مزید کا آفر بھی جو گیان واپی اور متھرا کی شکل میں عدالت تک پہنچایا جا چکا ہے ۔اور بھکت جانتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں اس کی ملکیت بھی عدالت خود انہیں سونپ دیگی ۔یہ جو سیاسی مبصرین تمام تر حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت کے دس سالہ پروگرام ،پالیسی اور کارکردگی پر گفتگو کر رہے ہیں یہ سب عبث ہے کیونکہ ملک کی آدھی سے کچھ کم آبافی نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ نریندر مودی کوئی غلطی کر ہی نہیں سکتے ۔اور اگر ان کے کسی فعل سے فوری طور پر تکلیف بھی ہو رہی ہے تو اسے برداشت کرنا راشٹرا ہت میں ہے ۔اور اس آدھی سے کم آبادی کے ووٹ اتنے وافر ہیں کہ اس سے سرکار بن سکتی ہے ۔باقی رہا اسے برقرار رکھنے کا معاملہ تو بیچ بیچ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو آندھی چلائی جاتی ہے وہ ان بھکتوں کی بھکتی کو اور زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے ۔ تین ریاستوں میں آر ایس ایس کے وزرائے اعلی کا انتخاب ان کی اور کسی قابلیت پر نہیں کی گئی ہے بلکہ صرف اس قابلیت پر کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کتنے جارح ہو سکتے ہیں ۔اور آپ نے دیکھا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی نے حلف برداری کے بعد پہلا کام مسلمانوں کے گھر پر بلڈور چلوانے کا کیا ۔
اگر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ سب صرف اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ پورے ملک کے بھکت منڈلی میں جوش پیدا ہو اور ان کا نفرتی نرتیہ چلتا رہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ نریندر مودی رفتہ رفتہ آئین کو ختم کر دینگے ۔مجھے ہنسی آتی ہے ان کی بینائی پر کیونکہ اب ملک میں آئین کی حکومت کہاں باقی ہے؟ملک کے تمام سرکاری ادارے بی جے پی کے انتخابی دفتر بن چکے ہیں ،تمام وسائل کا استعمال انتخاب جیتنے کے لئے کیا جا رہا ہے ،آر ایس ایس کے لاکھوں ورکر الگ سے انتخابی مہم میں 365دن لگے ہیں ،جو نفرت کے ماحول کی بنیاد افواہ کے طور پر رکھتے ہیں اور باقی کے بھکت اس بنیاد پر مسلمانوں سے نفرت کی عمارت تعمیر کر دیتے ہیں ۔اور پھر جب بڑے سرکار کا منچ سجتا ہے تو وہ بھکتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا بھارت میں ایسے لوگوں کو رہنا چاہئیے کہ نہیں رہنا چاہیئے ؟بھکت فورا کہتے ہیں نہیں اور پھر ہندو راشٹر کی گدان شروع ہو جاتی ہے ۔اب تو ہندو راشٹرا کی جگہ ایک نئی اصطلاح’’سناتن‘‘بھی سنی جانے لگی ہے اور یہ سارے مودی بھکت اب خود کو سناتنی کہنے لگے ہیں ۔عجب نہیں کہ کسی دن ناگپور سے یہ اعلان ہو کہ آر ایس ایس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا مخفف نہیں بلکہ راشٹریہ سناتنی سنگھ کا مخفف ہے۔
یہ سناتنی اصطلاح کو رائج کرنے کی ضرورت بھی اس لئے پڑی کہ جب خود ان کی قدیم کتابوں میں لفظ ہندو ڈھونڈنے سے نہ ملا کیونکہ بھارت کے لوگوں کو تو ہندو مسلمانوں کی آمد کے بعد سے سندھو ندی کے کنارے بسنے والوں کی مناسبت سے کہا جانے لگا تھا جو رائج ہو گیا۔ بہر حال پورے ملک میں مسلمانوں سے نفرت کا ماحول بن چکا ہے اور اسے مزید سنگین بنانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں اور اس میں اضافہ کی امید اس لئے بھی ہے کہ جنوری میں ہی ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح ہونے والا ہے جس کی بہت بڑے پیمانے پر تیاری ہو رہی ہے اور ساری دنیا کے لوگ اس عظیم دن کو برپا ہونے والے جشن میں شامل ہونے آنے والے ہیں ۔اور پھر اس کے بعد عام انتخابات کی جو تیاری شروع ہوگی اس کا اختتام نریندر مودی کے تیسرے راجیہ ابھیشیک کے بعد ہی ہوگا ۔اور یہ سب ہوتا ہوا ملک کا حزب اختلاف دیکھتا ہی رہ جائے گا ،کیونکہ نہ تو اس کے پاس اس سب کو کاؤنٹر کرنے کا کوئی پلان ہے اور نہ وسائل ۔چھ ماہ سے تو وہ آپسی تنازع ہی سلجھانے میں مصروف ہے۔اور امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ بھی وہ یہی سب کرتا رہے گا۔
(شعیب رضا فاطمی)












