نئی دہلی، 5 جون: قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پیر کو اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح دونوں ممالک سمندری، فوجی اور ایرو اسپیس شعبوں میں مخصوص ٹیکنالوجیز کے تعلق سے اپنے تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران ‘ میک ان انڈیا’ اور ‘ آتم نر بھر بھارت’ کے اقدامات کے عین مطابق ٹیکنالوجی کی وسیع تر منتقلی، مشترکہ پروڈکشن اور مقامی سطح پر صلاحیت سازی پر بھی زور دیا گیا۔مسٹر ڈوبھال اوراتوارسے دوروزہ دورے پر آئے مسٹر آسٹن نے بحر ہند کے علاقے میں بحری سلامتی سمیت دو طرفہ، علاقائی اور متعلقہ عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔قومی سلامتی کے مشیرنے سلامتی کے مشترکہ مفادات اور مقاصد کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو پیش کیا جس میں وسیع تر بحری تعاون کے تعلق سے انکے خیالات شامل ہیں ۔مسٹر ڈوبھال اور مسٹر آسٹن کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سپلائی کے قابل اعتماد ذرائع، لچکدار سپلائی چینز اور صنعت سے صنعت کی وسیع تر شراکت داری پر توجہ مرکوز کی گئی۔اس بات پر زور دیا گیا کہ مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیاء اور ہند-بحرالکاہل کے مختلف خطوں کے ممالک کو اپنی قومی ترجیحات کے مطابق کام کرنے کی آزادی کو برقرار رکھنے کے قابل ہونا چاہیے اور انہیں ناقص انتخاب پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے ۔اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مکمل حکومتی کوششوں بشمول عوام سے عوام اور سماجی تعلقات کے ذریعے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی اختیار کی جائے ۔مسٹر آسٹن نے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ اور ہندوستان کی شراکت داری کی مرکزیت کو واضح کیا۔ سمندری علاقے میں چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے دعوے اور جارحیت کے پیش نظر یہ خصوصی اہمیت کاحامل ہے ۔ اس ماہ کے آخر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے سرکاری دورے سے چند ہفتے پہلے مسٹر آسٹن ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں ۔ ہندوستان اور امریکہ نے دفاعی صنعتی تعاون کو مزید بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے لیے ایک خاکہ تیار کیا ہے۔ اس خاکہ کے تحت دونوں ممالک نئی ٹیکنالوجی کے مشترکہ ارتقا کے ساتھ ہی موجودہ اور نئے سسٹم کی مشترکہ پیداوار پر کام کریں گے۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک دفاعی اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم (ماحولیاتی نظام) کے درمیان تعاون کو فروغ بھی دیں گے۔اس خاکہ پر مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور امریکی دفاعی سکریٹری لائڈ آسٹن کے درمیان ایک دو فریقی میٹنگ کے دوران اتفاق قائم ہوا۔ یہ آنے والے سالوں کے لیے دونوں ممالک کی دفاعی پالیسیوں کی رہنمائی کرے گا۔ اس سلسلے میں وزارت دفاع نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں بتایا کہ میٹنگ کے دوران دونوں لیڈروں نے دو فریقی دفاعی تعاون کے ایشوز پر تفصیل سے گفتگو کی۔ اس گفتگو میں صنعتی تعاون کو مضبوط کرنے کے طریقوں کی پہچان کرنے پر خاص طور سے مشورہ کیا گیا۔
اس دوران دونوں فریقین نے یو ایس-انڈیا ڈیفنس انڈسٹریل کوا?پریشن (ہند-امریکہ دفاعی صنعتی تعاون) پر اتفاق ظاہر کیا۔ اس کے ساتھ ہی راجناتھ سنگھ اور لائڈ آسٹن نے مضبوط اور کثیر جہتی دو فریقی دفاعی تعاون پر مبنی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور تعاون کی رفتار کو مزید تیز بنانے پر اتفاق کیا۔اس دوران دونوں لیڈروں نے ہند-بحرالکاہل علاقہ میں امن و استحکام بنائے رکھنے میں اپنے مشترکہ مفادات کو دیکھتے ہوئے علاقائی سیکورٹی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ کے بعد وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ٹوئٹ کر کہا کہ ہند-امریکہ کی شراکت داری کھلے ہند-بحر الکاہل علاقہ کو یقینی کرنے کے لیے اہم ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم صلاحیت پیدا کرنے اور اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ قریب سے کام کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔












