• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 24, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

آہ!الیاس اعظمی، ہم تمہیں اب روز و شب ڈھونڈا کریں گے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جون 17, 2023
0 0
A A
آہ!الیاس اعظمی، ہم تمہیں اب روز و شب ڈھونڈا کریں گے
Share on FacebookShare on Twitter

جون کے سورج کی نگاہوں میں وہ قہر ہے کہ دھرتی کی جِلد پگھلنے کو ہے۔ بس کوئی پل جاتا ہے کہ یہ سامنے تاحد نظر پھیلی ایکسپریس وے کی کشادہ سڑک کا تارکول بہہ جائے گا۔ میں ایمبولینس کی سیٹ پر کب سے بیٹھا سامنے والے کو تکے جا رہا ہوں۔ ذہن میں بس ایک ہی سوال ہے کہ اگر سورج کی آگ نہیں تھمی اور سڑک پگھل گئی تو اس پر دیوانہ وار بھاگتی ہماری ایمبولینس کا کیا ہوگا؟۔ ویسے مجھے ایسے سوال اکثر گھیر لیتے ہیں۔ اب تک یوں ہوتا آیا تھا کہ جب بھی سوال گھیرتے تو یہ، جی ہاں یہ سامنے والا میری مشکل کشائی کرتا۔ البتہ آج صورت حال مختلف ہے۔ سامنے والا آرام سے آنکھیں بند کئے لیٹا ہے۔ میں اسے جگا کر پوچھ ہی نہیں پا رہا ہوں کہ’’ابا اگر سورج کی تمازت ایسے ہی جاری رہی تب تو پوری سڑک ہی پگھل جائے گی، کیا کیا جائے؟۔‘‘
میں کبھی پچھلی رات کو یاد کر رہا ہوں تو کبھی اگلی رات کے اندیشے سے گھر جاتا ہوں۔ وہ رات جو اس سامنے والے کی فرقت میں میری پہلی رات ہوگی۔ وہ رات جب یہ خاک کا کمبل اوڑھے چین سے سو رہا ہوگا اور ہم آرام دہ بستر کے کانٹوں پر زخم کمائیں گے۔ پھر پچھلی رات کے سائے ذہن کو اندھیر کرنے لگتے ہیں کہ جب وقت یکایک ٹھہر گیا تھا۔ دلی کے اپولو اسپتال میں میرے بے چین قدم لمبے سے کاریڈور کو کئی بار ناپ چکے تھے۔ ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر آیا، میں اور دوسرے بھائی تقریبا دوڑتے ہوئے اس کی طرف بڑھے۔ عموما چہک کر بولنے والے ڈاکٹر نے آہستگی سے ‘الیاس اعظمی جی نہیں رہے’ کی خبر دی اور سوگوار قدموں سے آگے بڑھ گیا۔ ہم سب کے نڈھال جسموں کو قریب کی دیواروں نے بڑھ کر سہارا دیا۔ اسپتال سے کافی دور واقع ریلوے اسٹیشن سے کسی ٹرین کے انجن کی الوداعی سیٹی بھی سناٹے کو چیرتی ہم تک چلی آئی تھی۔
اچانک ایمبولینس کی رفتار جھٹکے سے کم ہو گئی ہے۔ نہ جانے کہاں سے ایک اسکوٹی سوار آیا اور اوور ٹیک کرکے ایمبولینس کے آگے آگے لہراتا ہوا چلنے لگا۔ میں نے اس کی عمر کا اندازہ لگایا، کوئی بیس پچیس برس کا شرارتی سا لڑکا تھا۔ میرے جی میں آئی کہ کھڑکی سے منہ نکال کر اسے ڈپٹ دوں مگر پھر چپ رہا۔ میں نے ایمبولینس کے ڈرائیور کو دیکھا، اس کے چہرے پر بلا کا تحمل بکھرا پڑا تھا۔ وہ بہت صبر سے شرارتی اسکوٹی سوار لڑکے کو بچاتا ہوا چلتا رہا۔ میں نے سامنے والے پر ایک بار پھر نظر ڈالی اور آنکھیں بند کر لیں۔ سوچوں کا اتھاہ سمندر پھر میرے سامنے تھا۔ وہ میرے سامنے بیٹھے مسکرا رہے تھے اور میں سوال پر سوال داغ رہا تھا۔’’ آپ لوگوں کی سیاست سے ہم بعد والوں کو کیا ملا؟‘‘ وہ بڑے تحمل سے سمجھاتے جاتے، ان کا لہجہ ڈپٹ کر خاموش کر دینے والا نہیں ہوتا تھا۔ جب میرے سوال سخت ہوتے جاتے تو وہ زیر لب مسکرانے لگتے۔’’ابا کیا ہمارے حال کے جنجال میں آپ کی ماضی کی حکمت عملی کی خرابی کا دخل نہیں ہے؟‘‘ وہ ہر سوال کا جواب دیتے رہتے۔ آخرش میرے سوال ہی ختم ہونے لگتے۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں شام آدھی رات میں بدل جاتی لیکن ان کا تحمل ہمیشہ تازہ دم ملتا۔ بالکل ویسا ہی تحمل جیسا میں نے ابھی اپنے ایمبولینس کے ڈرائیور کے چہرے پر دیکھا ہے۔ میں نے آنکھیں کھولی تو ایمبولینس پھر اپنی رفتار سے بھاگنے لگی ہے۔ اس اسکوٹی سوار لڑکے کی شرارت ڈرائیور کے تحمل کو راستہ دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔
ادھر میرا فون برابر بجے جا رہا ہے۔ جانے انجانے نمبر لگاتار اسکرین پر جھلملا رہے ہیں۔ کال کا جواب نہ ملنے پر انہیں نمبروں سے واٹس ایپ پیغامات کا ریلا سا چلا آتا ہے۔ ہر کوئی مجھ سے ایک خبر کی تصدیق چاہتا ہے لیکن مجھ میں یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کہ میرے تایا ابا اور بھارتی مسلم سیاست کے شائد سب سے بزرگ رہنما الیاس اعظمی، آج تڑکے عدم کے سفر پر نکل گئے ہیں۔ پھر مجھے خیال آ رہا ہے کہ انہیں ‘مسلم سیاستداں’کہنا ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟۔ جس نے کانشی رام کی تحریک میں سرگرم کردار نبھایا ہو، ان کی جماعت سے دو بار پارلیمنٹ میں رکنیت پائی ہو، امبیڈکر اور پیریار کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے جان کھپائی ہو، کتابیں لکھی ہوں۔اسے صرف ‘مسلم سیاست داںکیونکر کہیں؟۔ وہ تو حقوق کے حصول کے کارزار کا سورما تھا۔ محروم کوئی بھی ہو، اس کے حقوق کی آواز میں آواز ملا دینا ان کی کمزوری رہی۔ انہیں ‘سیاست داں کہوں بھی تو کیسے؟ انہوں نے تو پولیٹیکلی کریکٹ رہنا کبھی سیکھا ہی نہیں۔ جب جسے حق سمجھا، بیان کر دیا۔ دور رس نفع نقصان یا ردعمل کی فکر کرنا ان کی شریعت میں حرام ہی رہا۔ جب سب لوگ مواقع کی تلاش میں ایک سمت دوڑتے ملے تو وہ مواقع پر اصول کو ترجیح دے کر دوسری سمت نکل گئے۔ ان کی محبتیں اور اختلاف سب اصولوں پر ہی ہوا کرتے تھے۔ خمینی کی فکر کا علم اٹھاتے وقت انہوں نے مسلکی نزاکتوں کے بارے میں نہیں سوچا، علامہ اقبال کے افکار کو ملت کا زیور بتاتے وقت وہ کسی سیاسی مصلحت کی فکر میں نہیں پڑے، مولانا مودودی کے فلسفہ کی ستائش کرتے وقت کوئی ‘اگر مگر’ان کے پاؤں کی زنجیر نہیں بن سکی۔ جب دنیا صرف ‘مصلح سر سید کے گن گا رہی تھی، تب وہ بنا کسی سیاسی نتیجہ کی پرواہ کئے ‘سیاسی سرسید کے عشق میں مبتلا تھے۔ جن اصولوں کو اچھا سمجھا، کھل کر کہہ دیا۔ جس اصول میں سقم پایا، کوئی طاقت اسے، ان سے نہیں منوا سکی۔
دنیا نے الیاس اعظمی کو ان کی قائدانہ صلاحیت کے سبب بہت سے القابات دیئے لیکن میرے لئے وہ صرف ‘اباہی رہے۔ طبیعت میں جو کچھ سردی گرمی ہے، کہنے والے اسے انہیں کی تربیت کا اثر بتاتے ہیں۔ ہاں، شائد مجھ میں اتنا تحمل نہ ہو جتنا، ان کے یہاں رہا۔ بابری مسجد تحریک، شاہ بانو تحریک، علی گڑھ اقلیتی کردار تحریک، فسادات کے انسداد کی مہمات۔ان کی سیاسی سرگرمی کے دور کا کون سا ایسا بڑا واقعہ ہے جس پر میں نے بے رحم تنقید اور سوالات نہ کئے ہوں، لیکن وہ ہمیشہ دلیل اور تحمل کے ساتھ جواب دیا کرتے۔ کئی بار مجھے بعد میں احساس بھی ہوتا کہ میرا ان سے یوں تواتر سے بحث کرنا انہیں ناگوار تو نہیں گزرتا؟۔ ایک شخص سے میرے پیچھے کہنے لگے’’میرے خانوادے میں ازور ہی ہے جو ہر بات کو دلیل کی گواہی کے بعد قبول کرتا ہے۔‘‘مجھ تک یہ بات پہنچی تو ان کے بڑپن پر دیر تک سوچتا رہا۔
سات برس پہلے والد صاحب کو اجل نے آواز لگائی تو وہ لپک کر اس کی طرف بڑھ گئے۔ اس سے پہلے کہ میں وقت کی دھوپ میں خود کے بے سایہ ہونے کا احساس کرتا ‘ابا اگے بڑھ کر میرے اوپر سایہ کر چکے تھے۔ ہر چند کہ وہ میرے تایا تھے لیکن ان کے سائے میں باپ کا سا ایثار مہکتا تھا۔
اسپیڈ بریکر کے جھٹکوں نے جھنجھوڑا تو میں چونک پڑا۔ میں ابھی جس سائے کے تصور میں بیٹھا تھا، اسے سامنے خاموش لیٹا پایا اور سامنے دور تلک جلتی دھوپ کا مینہ برستا دکھا۔ انہیں خیالوں میں نہ جانے کتنے ضلعے پار ہو چکے ہیں۔ ذرا سی مسافت کے اس پار ‘برولی’ ہے۔ میرے سامنے موجود یہ بند آنکھیں اٹھاسی برس پہلے اسی برولی میں کھلی تھیں۔ پھر تو ان آنکھوں نے کیا کیا نہیں دیکھا۔ تقسیم کے زخم سے آلود آزادی، ہجرت کرتے قافلے، رہ جانے والوں کے وفا کا یقین دلاتے چہرے، ایک کے بعد ایک آنے والے جھکڑ اور ان میں ڈھہتی حویلیاں، عزم اور اعتماد کے ساتھ ہر بار پھر سے کھڑے ہونے کی جد وجہد، دور دراز بستیوں سے پارلیمنٹ کے ہال تک کتنے ہی حوادث ہیں جو ان آنکھوں کے راستے دل پر نقش ہوئے۔
ایمبولینس کی رفتار اور موڑ ان پگڈنڈیوں کے آنے کا پتہ دے رہے ہیں، جہاں اس شخص کا بچپن اودھم مچاتا گھومتا تھا، جو میرے سامنے بالکل خاموش لیٹا ہے۔ سامنے ‘بابو کا مدرسہ’ ہے، مگر آج بچپن کے معمول کے برخلاف یہ سامنے لیٹا شخص اس میں داخل ہونے کے بجائے سیدھا گزر جائے گا۔ ایمبولینس مدرسہ کو پیچھے چھوڑتی ہوئی آگے بڑھ گئی ہے، میں نے پلٹ کر دیکھا تو مدرسہ کی عمارت بیٹے کو رخصت کرتی ماں کا چہرہ بن گئی ہے۔ مجھ سے اس در و دیوار کی اداسی دیکھی نہیں جا رہی اور میں نے چہرہ واپس موڑ لیا ہے۔ میں سامنے دیکھ سکتا ہوں کہ پورا برولی کھڑا ہے۔ وہ بوڑھے جنہوں نے الیاس اعظمی کو الیاس اعظمی بنتے دیکھا، وہ نوجوان جنہوں نے ان کے بارے میں قصے سنے ہیں، وہ خواتین جنہوں نے اپنے بچوں کو ان کا حوالہ دے کر کامیابی کی تحریک دی ہے۔۔سب چلے آئے ہیں۔ جیسے کبھی الیاس اعظمی کی کاروں کا قافلہ گاؤں والوں کی محبت کی بھیڑ میں گھر جایا کرتا تھا، ویسے ہی آج ایمبولینس گھر گئی ہے۔ ابھی میں ٹھیک سے اترا بھی نہیں ہوں کہ برولی اپنے بچے کو سینے سے لگا چکا ہے۔ میں ایک طرف سر جھکائے کھڑا ہوں۔ برولی کی فضا میں سسکیوں کی پھوار برسنے لگی ہے۔ مدتوں پہلے گھر سے گیا بیٹا، اس وعدے کے ساتھ واپس آ گیا ہے کہ اب وہ ہمیشہ یہیں رہے گا۔

محمد ارزو صدیقی

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist