یوں تو سب کے جانے کا ایک وقت معین ہے اور جو آیا ہے اسے ایک روز جانا ہے مگر پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے سے ایک دھچکا سا لگتا ہے اور جلدی سے یقین نہیں آتاکہ ایسا کیسے ہوگیا اور اتنی جلدی کیسے چلے گئے؟مرحوم عامر سلیم خان بھی انھیں لوگوں میں سے تھے جن کے جانے کی خبر پڑھ کر یقین نہیں آیا اور سب سے پہلا رد عمل جو ہوا وہ یہ تھا کہ آیا یہ خبر صحیح ہے ؟جواب ملا کہ ہاں صحیح ہے۔ایک دم دل بیٹھ سا گیا اور لگا جیسے کہ اپنا کوئی بہت قریبی اور عزیز ایک دم سے رخصت ہوگیاہو،کچھ دیر تک آنکھیں اشک بار رہیں اور دفتر میں اپنی کرسی سے اٹھکر انجانی کیفیت میں پورے دفتر میں ادھر سے ادھر ٹہلتا رہا،دل چاہ رہاتھا کہ کوئی ایسا شخص ملے جس سے بیٹھ کر دیر تک مرحوم عامر سلیم کے اچانک یوں رخصت ہوجانے پر گفتگوں کروں اور شکایت کر سکوں کہ بنا ملے ا یسے کیسے اچانک چلے گئے اور اتنی جلدی کیسے چلے گئے۔عامر سلیم صاحب کی شخصیت میں یہی مقناطیسی جاذبیت تھی جو وہ ہر کسی کو اپنا بنا لیتے تھے اور ان کی شخصیت اور ان کے اخلاق کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کاکوئی جاننے والاان کی برائی کرتا ہوا نہیں ملے گا حالانکہ ایک ہی فیلڈ اور ایک پروفیشن سے وابستہ کام کرنے والوں کے درمیان یہ بات عام ہوتی ہے اور سامنے نا سہی پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کرنے یا چغلی کرنے کا کوئی نہ کوئی موقع لوگ ڈھونڈ لیتے ہیں مگر اتنے سالوں میں مرحوم عامر سلیم خان کے تعلق سے میں نے کبھی کسی کوان کی نہ برائی کرتے سنا اور نا کوئی شکوہ شکایت۔
مرحوم عامر سلیم خان اخباری صحافت میں یوں تو مجھ سے بہت سینئر تھے اور ان سے پہلی ملاقات 2016 میں ہوئی تھی جب خبر کے سلسلہ میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں کسی پروگرام کے تعلق سے جانا ہوا،چونکہ میں اس میدان میں نیا نیا تھا اور رپورٹنگ کے آداب سے زیادہ کچھ شناسائی نہیں تھی بلکہ میں اتفاقی طور پر اخبار سے وابستہ ہوا تھا اس لئے ایڈیٹر صاحب نے بہت سی باتیں سمجھاتے ہوئے خاص طور پر عامر سلیم خان سے ملاقات کرنے اور ان سے کچھ سیکھنے کا مشورہ دیا تھااس وقت ذہن میں خیال آیا کہ اس میدان میں تو اور بہت سے لوگ بھی ہیں اور خود اپنے اخبار میں مجھ سے سینئر اور تجربہ کار رپورٹر ہیں تو عامر سلیم خان سے ہی ملاقات کرنے اور سیکھنے کا مشورہ ایڈیٹر صاحب نے کیوں دیا؟لیکن جب ملاقات ہوئی اور عامر سلیم خان صاحب کا مشفقانہ اور دوستانہ انداز دیکھا تو ایک دم احساس ہوا جیسے صحافت کی فیلڈ میں مجھے بھی ایک دوست مل گیا اور میں اب اس میدان میں اجنبی نہیں ہوں۔عامر سلیم صاحب سے یہ تعلق آخر تک قائم رہااور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا انہوں نے اپنے مشفقانہ اور دوستانہ انداز میںہمیشہ مفید مشوروں سے نوازا اور رہنمائی کرتے وقت کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا۔جب بھی ملاقات ہوتی تو عمر میں کافی فرق ہونے کے باوجود ایک دوست کی طرح پیش آتے یہ احساس کبھی نہ ہونے دیتے کہ وہ سینئر ہیں اور ملاقات یا بات چیت کے دوران کسی طرح کے تکلف یا احساس مراتب کا خیال ضروری ہے،حالانکہ اپنی عمر اور میدان صحافت میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر وہ یقیناسینئر صحافی کہلانے کے مستحق تھے لیکن مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے خود کبھی اپنے نام کے ساتھ سینئر کا سابقہ یا لاحقہ لگایا ہو۔
مرحوم عامر سلیم صاحب کے تعلق سے پہلی ہی ملاقات میں جو بات سب سے پہلے ذہن نشیں ہوتی وہ یہ کہ یہ انسان اخلاق کریمانہ اور انداز مشفقانہ سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ سادگی کا پیکر ہے ،پروگراموں یا پریس کانفرنسوں کے دوران کبھی ان کو فارمل لباس میں نہیں دیکھا ہمیشہ جینس شرٹ یا ٹی شرٹ پہنے ہوتے اور جیب میں ایک چھوٹی سی ڈائری رکھتے جس میں وہ ضروری نوٹ بناتے اور بعد میں انھیںمختصر نوٹ کی بنیاد پر ایک مکمل اور مدلل تفصیلی خبر اخبار میں پڑھنے کےلئے مل جاتی۔کافی عرصہ تک یہ عادت رہی کہ ایک ہی پروگرام سے متعلق عامر سلیم خان کی خبر کو حرف بہ حرف کئی کئی مرتبہ پڑھتااور دوسرے رپورٹروں کی خبر اور اپنی خبر سے اس کا موازنہ کرتاتو اوروں کی خبر اور خود اپنی خبر میں خامیاں ہی خامیاں اور زمین آسمان کا فرق نظر آتا،سرخی اور تفصیلی مشمولات اور ان کو لکھنے اور سلیقے سے پیش کرنے کا انداز سب کچھ ہی منفرد ہوتا اور صحافت کے ایک طالبعلم کی طرح یہ احساس ہوتا کہ عامر سلیم خان کی خبر ایک مدلل اور مکمل خبر ہے،بہت دنوں تک کوشش کی کہ عامر سلیم خان جیسی خبر لکھ سکوں لیکن ناکام رہا پھر دل کو یہ تسلی دیکر بہلایا کہ عامر سلیم خان کے پاس کافی تجربہ ہے اس لئے وہ ماہر ہیں لیکن ان تجربہ کاروں کا کیا جو انھیں کے ہم عصر اور مساوی تجربہ کار تھے لیکن مرحوم عامر سلیم خان جیسی خبر لکھنے سے وہ بھی قاصر رہے۔ان کی خبروں کو ذوق اور شوق سے پڑھنے کا عالم یہ رہاکہ رات کو 12بجے کے آس پاس جب ای پیپر انٹر نیٹ پر اپلوڈ ہوجاتا تو ہمارا سماج کی ویب سائٹ کھولکر عامر سلیم خان کی خبر کی تلاش ہوتی اور اسے پڑھکر بسا اوقات اسی وقت یا پھر صبح میں جب وہ اپنی خبر شیئر کرتے تو بتاتا کہ بھائی رات کو ہی پڑھ لی تھی اور بہت شاندار تھی تو جواب ملتا ”ارے بھائی شکریہ“بار ہا ایسا ہوا کہ وقف بورڈ کے متعلق انہیں کوئی خبر تحریر کرنی ہوئی تو انہوں نے فون کیااور موضوع سے متعلق ہر طرح کی جزئیات اور تفصیلات معلوم کیں اور جب تک تمام مشمولات سے وہ باخبر نہیں ہوگئے تب تک انہوں نے اچھا بھائی اللہ حافظ نہیں کہا۔
دہلی وقف بورڈ کیا بلکہ تمام ملی اداروں سے متعلق انہوں نے کئی تحقیقی اور چشم کشا اسٹوریاں تحریر کیں ۔دہلی وقف بورڈ کے تعلق سے کئی سلگتے ہوئے موضوعات پر شاندار اسٹوریاں شائع کیں ،جو وقف بورڈ کی میڈیا فائل میں محفوظ ہیں اور مسجد فتحپوری کے تعلق سے ان کی ایک اسٹوری تو ابھی تک بورڈ دفتر کے نوٹس بورڈ پر آویزاں ہے۔ابھی کئی ماہ قبل جب مسجد فتحپوری سے متعلق اخبارات میں طرح طرح کی منفی خبریں آرہی تھیں تو عامر بھائی سے اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہوں نے ہر پہلو پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔موضوع کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر گفتگو کی اور اگلے روز 14جولائی 2022کو ایک شاندار سرخی کے ساتھ 6کالم میں تفصیلی خبر شائع کی اور سرخی لگائی ”مسجد فتحپوری کے بہانے وقف بورڈ کو کوس رہے ہیں دیوانے“پوری خبر کا لب لباب بیان کرتی یہ سرخی عامر سلیم ہی لگا سکتے تھے ،خبر میں مسجد فتحپوری اور اس کے تعلق سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں اور وقف بورڈ کو درپیش دیگر مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ادارہ کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے لئے ملت کی ذمہ داری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مدلل انداز میں خبر پیش کی جس میں الزام تراشی کرنے والوں کے موقف کا بھی ذکر کیا۔یہی ان کی خوبی تھی جب وہ کوئی خبر تحریر کرتے تو اس کے دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتے اور اپنی بات خوبی کے ساتھ قاری کے ذہن تک پہنچاتے ۔ان کی خبر پڑھ کر کوئی یہ شکایت نہیں کر سکتا کہ خبر میں ایک فریق کا موقف پیش کیا گیا ہے اور دوسرے کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔وقف بورڈ کے تعلق سے اس طرح کی کئی اسٹوریاں انہوں نے شائع کیں جس کےلئے وقف بورڈ ان کا ممنون ہے۔امید ہے کہ عامر سلیم خان کی خبر نگاری کے تعلق سے دیگر صحافی اور لکھنے والے ضرور تفصیلی انداز میں لکھیں گے اور تجزیہ کریں گے حالانکہ ابھی تاثراتی مضامین ہی پڑھنے کے لئے ملے ہیں لیکن جب کوئی ان کی خبر نگاری کا تجزیہ کرے گا تو ضرور اس موضوع پر سیر حاصل بحث کرے گا اور یقینا اس نتیجہ تک پہنچے گاکہ موجودہ وقت میں دہلی کی صحافت میں عامر سلیم خان اس وقت سب سے بہتر اور سب سے بڑے نامہ نگار اور خبر نگار تھے۔
ملی اداروں سے مرحوم عامر سلیم خان صاحب کو بڑی محبت تھی۔اپنی تحریروں میں وہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے کسی مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کراتے وقت قاری کے ذہن میں ملی ادارہ یا تنظیم کے تعلق سے منفی گوشہ جگہ نہ پائے۔یہ آسان ملکہ نہیں ہے کہ آپ کو سوال بھی اٹھانا ہو لیکن منفی تنقید سے دامن بچاکر بھی نکل جائیں اور قاری کے ذہن تک اصل مسئلہ کی رسائی بھی ہوجائے،عامر سلیم صاحب اس میں ماہر تھے۔کئی مرتبہ گفتگو کے دوران بہت سے اداروں کے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا،ملی اداروں کی پستی اور ملت کی زبوں حالی پر افسوس اور کڑھن کا اظہار کرتے ہوئے ہمیشہ یہی کہتے بھئی کیا کریں یہی صورتحال ہے لیکن اداروں کے خلاف نہیں لکھ سکتے ،یہی ادارے ہیں جو تھوڑا بہت کام کر رہے ہیں۔
مرحوم عامر سلیم خان ہم عصروںمیں اپنے پختہ قلم اور ایماندارانہ صحافت کےلئے جانے جاتے تھے اور یہ کسی فرد واحد کا احساس نہیں بلکہ جتنے قلمکاروں نے ان پر مضمون تحریر کیا ہے یا تعزیتی کلمات کہے ہیں سب نے ہی ان کی ایماندارانہ صحافت کی گواہی دی ہے یہ بہت بڑی بات ہے اور صحافیوں میں یہ صفت نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے اور آج کے وقت میں جب اکثر صحافی بقول جناب سہیل انجم صاحب بہک جاتے ہیں عامر سلیم صاحب نے نا صرف اپنے اس وصف کو باقی رکھا بلکہ دوسروں کے لئے مثال بھی بنے ۔ان کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا تھا کہ اس شخص کے اندر مزاج فقیری ہے۔ایک واقعہ کا تو میں خود گواہ ہوں۔تقریبا پانچ چھ سال قبل انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک مولانا صاحب نے کوئی پروگرام رکھا اور اس میں خاص کر اردو اخبارات اور نیوز چینلوں سے وابستہ صحافیوںکو دعوت دی،دروازہ پر آںموصوف بذات خود استقبال کے لئے موجود تھے اور استقبالی مصافحہ کے ساتھ ہی ہر صحافی کو ایک لفافہ بھی پکڑا رہے تھے جانے انجانے میں تقریبا سبھی وہ لفافہ لیتے اور اندر کانفرنس روم میں داخل ہوجاتے ،ان صاحب نے جیسے ہی عامر سلیم صاحب کو وہ لفافہ تھمایا تو فورا انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟دینے والے صاحب مسکراتے ہوئے تھوڑا ہچکچائے عامر سلیم صاحب نے پھر سوال داغ دیا کہ اس میں کیا ہے؟ انہوں نے کہاکہ بعد میں کھولکر دیکھ لیجئے گا،عامر سلیم صاحب نے اسی وقت لفافہ کھولا اور اس میں کچھ رقم دیکھ کر فورا سختی کے ساتھ واپس کیا،دینے والے صاحب شرمندگی کے ساتھ بار بار اصرار کرتے رہے لیکن عامر سلیم صاحب نے جواب دیا کہ نہیں ہرگز نہیں اور اس کی قطعا ضرورت نہیں ہے آپ کی خبر ہم ایسے ہی لکھ دیںگے اور لکھتے آئے ہیں۔اسی طرح ایک موقع پر بذات خود میں نے ایک چھوٹا سا ہدیہ پیش کرنا چاہا اسے بھی سختی کے ساتھ منع کردیا۔ یہ سب شائد ان کے مزاج کا حصہ تھا اور نام ونمود سے بھی وہ دوری بنائے ہوئے تھے۔مجھے نہیں معلوم کہ انھیں صحافت کے لئے کتنے ایوارڈ ملے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہے کہ عموما صحافیوں کو دئے جانے والے ایوارڈ یافتگان کی فہرست سے ان کا نام غائب ہی رہتاحالانکہ وہ اس معیار کے صحافی تھے کہ دہلی میں میدان صحافت کے لئے مختلف عنوانوں سے دیے جانے والے ایوارڈ اور ایوارڈ یافتگان کی فہرست مرحوم عامر سلیم خان کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔
دہلی کے ملی حلقوں میں عامر سلیم خان ایک معروف نام تھاتقریبا تمام ہی سیاسی و سماجی شخصیات ان سے واقف ہیں،مسلک و مشرب کی قید سے پرے وہ تمام حلقوں میں یکساں مقبول تھے ،ان کی نماز جنازہ میں بھی کئی اہم سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی سب ان کے اچانک یوں چلے جانے پر غمزدہ اور ان کی صحافتی خدمات کا ذکر کرتے نظر آئے،یقینا وہ صحیح معنوں میں قلم کے سپاہی تھے اورانہوں نے جس طرح کی تحقیقاتی اور تجزیاتی اسٹوریاں لکھیںاور ملت کے ذمہ دار افراد کو سیاسی وملی مسائل میں آئنہ دکھایاوہ اس قابل ہیں کہ اردوصحافت سے وابستہ طالب علم ان کا مطالعہ کریں اور ان سے سیکھیں،صحافت کے موجودہ تناظر میںیہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مرحوم عامر سلیم خان صاحب کی یہ اسٹوریاں اگر انگریزی یا ہندی کے کسی کثیر الاشاعت اخبار میں شائع ہوئی ہوتیںتو یقینا اسمبلیوں اور پارلیمینٹ میں ان پر بحث ہوتی۔ جاتے جاتے مرحوم عامر سلیم صاحب اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کئی بچوں کو چھوڑ گئے ہیں خبروں کے مطابق جن کی کفالت کی ذمہ داری ہمارا سماج اخبار کے چیف ایڈیٹر خالد انور صاحب نے لی ہے اور دہلی وقف بورڈ کے چئرمین امانت اللہ خان نے بھی مرحوم کے گھر پہونچ کر ان کے اہل وعیال سے تعزیت کی ہے اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے یہ خوش آئند ہے اور یہ اصحاب شکریہ کے مستحق ہیں،اردو کے دیگر ادارے مثلا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور دہلی اردو اکیڈمی بھی اگر اس طرح کے معاملات میں کوئی اسکیم یا منصوبہ ترتیب دے لیں تو یہ اور اچھی بات ہوگی۔۔اللہ مرحوم عامر سلیم خان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
(مضمون نگار دہلی وقف بورڈ میں میڈیا کو آرڈی نیٹر ہیں۔)












