کراچی ، ( یو این آئی ) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپننگ بلے باز احمد شہزاد پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں سیزن میں کسی بھی فرنچائز کی جانب سے منتخب نہ کیے جانے پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور لائیو ٹی وی پروگرام میں آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کرکٹ سے اپنی وابستگی اور اپنے بیٹے کی معصومانہ خواہش کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ میدان سے دوری ان کے لیے کتنی تکلیف دہ ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں احمد شہزاد نے اپنے دل کا حال بیان کیا ۔ احمد شہزاد نے کہا کہ "مجھے اپنے لیے بہت دکھ ہوتا ہے؛ ساتھی کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھ کر خوشی تو ہوتی ہے لیکن اپنی محرومی پر افسردگی چھا جاتی ہے۔”انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا اب 9 سال کا ہو چکا ہے اور وہ اپنے والد کو لائیو ایکشن میں دیکھنا چاہتا ہے۔شہزاد کے مطابق ان کا بیٹا ان کا دل رکھنے کے لیے کہتا ہے، "بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے، لیکن اب میں آپ کو (میدان میں) اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا۔”انہوں نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ تقریباً دو دہائیوں تک پاکستان کرکٹ کے نظام کا حصہ رہنے اور فینز کی جانب سے بھرپور حمایت کے باوجود کسی نے باضابطہ طور پر ان سے رابطہ نہیں کیا۔احمد شہزاد نے کہا کہ ایسا کیوں ہے، کسی سے اتنا نہیں ہوا کہ مجھ سے آ کر بات کرے، پوچھیں کہ کیا ہوا احمد بھائی؟ آئیں بیٹھ کر اسے حل کریں اور پاکستان کے لیے کچھ کریں، لیکن یہ سب ان کے لیے بہت مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹیم تو یہ سمجھتی رہی کہ شاید مجھ پر پابندی عائد ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ احمد نے خوشی خوشی ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کوئی واضح مؤقف نہیں دیا گیا۔یاد رہے کہ احمد شہزاد پی ایس ایل کی فاتح ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں، تاہم گزشتہ تین سالوں سے وہ ڈرافٹنگ کے عمل میں کسی بھی ٹیم کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ مجموعی طور پر خوش ہیں، لیکن کرکٹ سے دوری اور بیٹے کی خواہش پوری نہ کر پانے کا دکھ ان کے دل کو لگا ہوا ہے۔












