نئی دہلی، پریس ریلیز،ہمارا سماج:فروری حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کے لیے ایسا مصنوعی ذہانت (اے آئی) فریم ورک تشکیل دیا جائے جو محفوظ، جامع اور انہیں بااختیار بنانے والا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیز رفتار رسائی کے باعث بچوں کا اے آئی سے چلنے والے پلیٹ فارمز سے واسطہ غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔وہ یہاں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر “اے آئی اور بچے: اے آئی کے اصولوں کو محفوظ، جامع اور بااختیار بنانے کے لیے عملی جامہ پہنانا” کے عنوان پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کا اہتمام فکی (FICCI) نے یونیسف کے اشتراک سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نظام اب تیزی سے بچوں کے سیکھنے کے انداز، معلومات تک رسائی اور ان کے طرزِ عمل کی تشکیل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔پروفیسر سود نے کہا، ’’ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ الگورتھم کی بنیاد پر چلنے والی فیڈز اور شخصی نوعیت کے تعلیمی ایپس اے آئی ساتھیوں کے ساتھ پروان چڑھنے کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے۔ وقت کے ساتھ بچے کی مجموعی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی نشوونما پر ان اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق اور نئے آلات کی ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے اے آئی کو ’’دو دھاری تلوار‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانی کے اقدامات کا محور یہ ہونا چاہیے کہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور ممکنہ خطرات کو حتی الامکان کم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اے آئی رسائی کو بہتر بنا کر شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن اس پر حد سے زیادہ انحصار بچوں کی تنقیدی فکر اور آزادانہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو متاثر بھی کر سکتا ہے۔حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت نے “انڈیا اے آئی مشن” شروع کیا ہے، اے آئی گورننس فریم ورک پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔












