• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, فروری 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

اے آئی امپیکٹ سمٹ : چیلنجز اور امکانات

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 26, 2026
0 0
A A
اے آئی امپیکٹ سمٹ : چیلنجز اور امکانات
Share on FacebookShare on Twitter

عالمی فضا کی بدلتی ہوئی سمت اور حالات کے پیش نظر بھارت نے اے آئی ا مپیکٹ سمٹ 2026 دہلی میں منعقد کیا ۔اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے موضوع پر اب تک کا دنیا کا سب سے بڑا پروگرام قرار دیا گیا ۔ پانچ روزہ اس سربراہی اجلاس کی معنویت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سمٹ میں کم از کم 20 ممالک کے سربراہانِ مملکت، 50 سے زائد وزراء اور 40 سے زیادہ بڑی کمپنیوں کے سی ای او شریک ہو ئے۔ گوگل کے سندر پچائی، اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین، انتھروپک کے ڈیریو امودی، مائیکروسافٹ کے بریڈ اسمتھ، ایڈوب کے شانتنو نارائن جیسے ٹیکنالوجی کے ممتاز رہنماؤں کے علاوہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اور برازیل کے صدر لولا دا سلوا بھی اس میں شریک رہے ۔ ان بااثر شخصیات کی ایک ہی پلیٹ فارم پر موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک بڑی تبدیلی کی سمت میں بڑھ چکی ہے۔اے آئی میں ملک کے نوجوانوں کے جوش و خروش اور جذبہ کو دیکھتے ہوئے سمٹ کے مرکز میں رکھا گیا ، اس وقت دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی بھارت میں ہے ۔ یہاں 65 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے ، اسےآبادیاتی پاور ہاؤس کے معاشی رفتار کا انجن کہا جا سکتا ہے۔
آج اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سائنس، تعلیم، طب، زراعت ، تجارت، بہتر طرز حکمرانی ، ترقی اور شہری خدمات کی موثر انجام دہی میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ ایسے اہم عالمی تناظر میں بھارت میں اس سمٹ کا انعقاد خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ نوآبادیاتی غلامی سے آزاد ہونے والے ممالک کو کبھی تیسری دنیا کہا جاتا تھا، مگر اب ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو مجموعی طور پر گلوبل ساؤتھ کہا جاتا ہے۔ یہ محض جغرافیائی اصطلاح نہیں بلکہ ایک جیو پولیٹیکل اور معاشی تصور ہے۔یہی وجہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک بڑی امید کے ساتھ بھارت کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کی تیار کردہ اے آئی سے متعلق رہنما اصول اور پالیسیاں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔ اے آئی سمٹ کا انعقاد ان ممالک کے لیے بھی اہم ہے جن کے ڈیٹا تک عالمی طاقتوں کی رسائی ہے۔ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ان کے سیاسی اور معاشی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اس عمل میں اے آئی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
اس تناظر میں کئی اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں کیا بھارت عالمی طاقتوں کے سامنے اپنے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مضبوط آواز اٹھا سکے گا؟ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں اور اس کے بعد بھی اے آئی کے خطرات اور امکانات دونوں پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی انقلاب خطرات اور مواقع دونوں لے کر آیا ہے۔ آئی ٹی اور سروس سیکٹر، جو ہماری معیشت کا روشن ستارہ ہے، خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اگر ہم آنے والے طوفان کے لیے تیار نہ ہوئے تو ہزاروں سافٹ ویئر انجینئر اور پیشہ ور افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں، تاہم مواقع بھی موجود ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ڈیٹا وہ ایندھن ہے جو اے آئی کے انجن کو چلاتا ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کے باصلاحیت لوگ اور وہ وسیع ڈیٹا ہے جو ہم پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق 1.4 ارب آبادی والا ملک اپنے ڈیٹا کے ذریعے عالمی اے آئی مستقبل کو اپنی شرائط پر تشکیل دے سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی تجارتی دباؤ کے باعث بھارت کے لیے اپنے شہریوں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنا، سورس کوڈ اور الگورتھمز میں شفافیت لانا اور ڈیٹا سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
سیاسی تعصبات سے بالاتر ہو کر ان نکات پر غور کرنا ضروری ہے، کیونکہ بھارت کو یہ طے کرنا ہے کہ اس کا آئی ٹی شعبہ اے آئی کے اس دور کے لیے کب مکمل طور پر تیار ہوگا۔ کیا ہمیں چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے لارج لینگویج ماڈلز خود تیار کرنے چاہئیں، یا زراعت، صحت اور تعلیم جیسے مخصوص شعبوں کے لیے چھوٹے اور ہدفی اے آئی ٹولز پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے؟ مگر ہماری حالت یہ ہے کہ سمٹ میں گلگوٹیا یونیورسٹی نے چین میں بنے روبو ڈاگ اور کوریا کے ڈرون کو اپنا بتا کر پیش کردیا ۔ اس سے ملک کی کتنی فضیحت سے زیادہ اہم سوال عالمی برادری کی نظر میں بھارت کی شبیہ کا ہے ۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک حکومت اور مین اسٹریم میڈیا کا گلگوٹیا کے بچاؤ میں جواز فراہم کرنا رہا ۔
بلاشبہ، انڈیا سمٹ تکنیکی انقلاب کے درمیان نئی امکانات کی تلاش میں بھارت کی ایک مثبت پیش رفت ہے۔مگر اے آئی کو چلانے کے لئے بڑے ڈیٹا سینٹر درکار ہیں جو بجلی اور پانی کا وسیع استعمال کرتے ہیں ۔ بھارت کو اس کے ماحولیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر غور کرتے ہوئے دنیا میں اے آئی کو ایک جوابدہ، پائیدار اور جامع ٹیکنالوجی کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ویسے حکومت ہند نے ارادہ جتایا ہے کہ اے آئی چند طاقت ور ممالک کا کھیل نہ رہے بلکہ سبھی کے لئے مفید ثابت ہو ۔الیکٹرانکس و آئی ٹی کے سکریڑی ایس کرشنن نے کہا کہ ہماری توجہ ’’ لوگ، کرہ ارض اور ترقی ‘‘ پر مرکوز ہے ۔ یعنی ایسی اے آئی جو عوامی مسائل حل کرے ، ماحول کو نقصان نہ پہنچائے اور پائیدار ترقی کو فروغ دے ۔ انڈیا اے آئی مشن کے سی ای او ابیشیک سنگھ نے کہا کہ اگر ڈیٹا میں سب کی شمولیت نہ ہو تو اے آئی میں جانبداری پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس لئے اسے جمہوری بنانا ضروری ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں اے آئی کی قبولیت اور کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کئی مالدار ممالک اس ٹیکنالوجی کو اپنے مفادات کو سادھنے کی دوڑ میں لگے ہیں ، جو طویل مدت میں پہلے سے موجود عالمی معاشی عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
حقیقی معنوں میں ایک جامع عالمی معاشرہ تشکیل دینے اور معاشی ناہمواری کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اے آئی کا استعمال جمہوری اور اخلاقی اصولوں کے تحت کیا جائے۔ انڈیا سمٹ میں دنیا کے ممالک نے اے آئی ٹیکنالوجی سے وابستہ چیلنجز پر سنجیدہ غور و فکر کیا۔ اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھا کہ اگرچہ اے آئی تیزی سے دنیا میں پھیل رہی ہے، مگر یہ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے لیے مختلف نوعیت کے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں اے آئی کے غلط استعمال کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اے آئی کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کی جوابدہی بھی طے کی جائے۔
اسی طرح بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جہاں محنت پر مبنی کام کی روایت رہی ہے اور اس وقت بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں اے آئی روزگار فراہم کرنے والی ہو، نہ کہ روزگار ختم کرنے والی۔ اے آئی کے فروغ سے روایتی ملازمتوں پر بحران نہیں آنا چاہیے۔ یقیناً نوجوانوں کے ملک بھارت میں اے آئی کے بارے میں شعور اور جذبہ پیدا کرنے کے لیے جنگی سطح پر اقدامات کیے جانے چاہئیں، تاکہ آنے والے برسوں میں ہم بھارت کو دنیا کا اے آئی مرکز بنتے ہوئے دیکھ سکیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنی تقریر میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا ۔
یاد رہے کہ 2023 میں برطانیہ کے بلیچلے پارک میں اے آئی سیفٹی سمٹ منعقد ہوا تھا، جہاں 28 ممالک نے اے آئی کے خطرات سے متعلق اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ 2024 میں سیئول میں اختراع اور شمولیت پر زور دیا گیا، جبکہ 2025 میں پیرس کے اے آئی ایکشن سمٹ میں معاشی فوائد پر گفتگو ہوئی۔ اب زور اس بات پر ہے کہ اے آئی کو مزید جمہوری اور منصفانہ بنایا جائے۔دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس مہم میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے، کیونکہ ملک میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے جس وسیع بیداری کی ضرورت ہے، وہ ابھی مکمل طور پر نظر نہیں آتی۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا حکومت اس اہم اقدام کوسابق کی طرح محض ایک شخص کی شبیہ چمکانے یا تشہیر کا ذریعہ بنائے گی یا اپنی پالیسیوں میں تبدیلی، اعلی تعلیم ، ریسرچ کے بجٹ میں اضافہ کر ٹیکنالوجی کے امکانات کی راہ آسان کرے گی اور اس کے حقیقی خطرات کو سمجھ کر قومی مفاد میں سنجیدہ فیصلے لئے جائیں گے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے پانچ نمائندے اے ایم یو کورٹ کے ممبر کا انتخاب

    آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے پانچ نمائندے اے ایم یو کورٹ کے ممبر کا انتخاب

    فروری 26, 2026
    متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی غیر انسانی عمل، سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہزاروں غریبوں کو دی بڑی راحت: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی

    متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی غیر انسانی عمل، سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہزاروں غریبوں کو دی بڑی راحت: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی

    فروری 26, 2026
    سکسیس ڈگری کالج بسواکلیان کی طالبہ عالیہ انجم گولڈ میڈل کے لیے نامزد

    سکسیس ڈگری کالج بسواکلیان کی طالبہ عالیہ انجم گولڈ میڈل کے لیے نامزد

    فروری 26, 2026
    بھارت کو دنیا کے دو تہائی حصہ تک تجارتی رسائی حاصل ہے: پیوش گوئل

    بھارت کو دنیا کے دو تہائی حصہ تک تجارتی رسائی حاصل ہے: پیوش گوئل

    فروری 26, 2026
    آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے پانچ نمائندے اے ایم یو کورٹ کے ممبر کا انتخاب

    آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے پانچ نمائندے اے ایم یو کورٹ کے ممبر کا انتخاب

    فروری 26, 2026
    متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی غیر انسانی عمل، سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہزاروں غریبوں کو دی بڑی راحت: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی

    متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی غیر انسانی عمل، سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہزاروں غریبوں کو دی بڑی راحت: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی

    فروری 26, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist