يمن:یمنی سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کا ایک بڑی کشتی سے رابطہ منقطع ہو گیا جو اسمگلنگ کے مشن پر قرن افریقہ کے ممالک سے بحیرہ احمر کے ساحل سے حدیدہ کے ساحل تک جا رہی تھی۔
ذرائع نے العربیہ/الحدث کو اس بات کی تصدیق کی کہ "جس کشتی سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا وہ گذشتہ جمعرات کو حدیدہ پہنچنے والی تھی، جس میں غیر ملکی ماہرین، فوجی سازوسامان کی ایک کھیپ اور میزائل اور دھماکہ خیز مواد بنانے میں استعمال ہونے والا مواد تھا”۔
جبکہ عینی شاہدین نے اطلاع دی ہے کہ الحدیدہ شہر میں ہفتے کی شام سے حوثی ملیشیا کی طرف سے ایک بڑا سکیورٹی الرٹ دیکھا گیا ہے، جس میں یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہےکہ لاپتا کشتی امریکی اور بین الاقوامی افواج کے ہاتھ لگ جائے گی۔ذرائع نے مزید کہا کہ ملیشیا نے بڑی تعداد میں ماہی گیری کی کشتیوں کو سمندری گشت کے لیے منتقل کیا تاکہ کشتی کے نشانات کا پتہ لگایا جا سکے اور بحیرہ احمر میں اس کی تلاش کی جا سکے۔قابل ذکر ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے گذشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے یمن میں اس حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں حوثی باغیوں کے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔دریں اثناء حوثی گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اس وقت کہا تھا کہ گروپ نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں چارسالس نامی بحری جہاز کو متعدد بیلسٹک اور بحری میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔گذشتہ موسم خزاں سے حوثی میزائلوں اور ڈرونز کارگو بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔












