لکھنو، سا ل ہائے گذشتہ کی طرح امسال بھی کلیتہ الصدیقتہ الاسلامیہ للبنات لکھنو میں میں تقریب ختم صحیح البخاری، اور سالانہ اجلاس عام کا انعقاد انتہائی تزک و احتشام کےساتھ ہوا۔ طالبات نے تعلیمی مظاہرہ کے پرو گرام میں حمدو نعت کےساتھ اردو، ہندی،انگلش اور عربی زبان میں تقاریر پیش کیں،جسے سامعین وسامعات نے کافی پسندکیا۔شہاب الدین مدنی نے اپنے مخصوص اسلوب۔جامع اور دلنشین انداز میں صحیح بخاری کی آخری حدیث کادرس دیا۔شیخ نے اپنا سلسلہ سند بھی طالبات کو دیا اور بتایاکہ ان کے اورشیخ الکل فی الکل سید نذیرحسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے درمیان صرف دوواسطہ ہے۔ بعد صلاۃ مغرب اجلاس عام کی صدارت حافظ عتیق الرحمن طیبی نے فرمائی۔ استقبالیہ کلمات میںککلیتہ الصدیقتہ الاسلامیہ للبنات کے صدر مولانا شہاب الدین مدنی نے تمام مہمانان گرامی قدر، شرکائےاجلاس خواتین وحضرات کا بصمیم قلب والہانہ استقبال کیا۔ انہوںنے بتایاکہ 2003میں کلیہ کاقیام عمل میں آیاتھااور الحمدللہ آج کلیہ کی فاضلات کا چھٹابیچ سند فضیلت حاصل کررہاہے، ادارہ کے لئے سب سے شرف اور مسرت و شادمانی کی بات یہ ہےکہ اس سال کلیہ کی دوفاضلات کا داخلہ عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی جامعہ ام القری میں ہو چکا ہے فالحمدللہ علی ذالک۔ اجلاس عام کا آغاز معہد الفرقان سے اسی سال سند حفظ حاصل کرنے والے طالب علم حافظ محمد کی تلاوت قرآن مجیدسےہو عبدالودود نے نعت رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم پیش کی۔بعدازاں مولانا فریدالدین فیضی نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں قرآن مجید اوراحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں مومنین کی صفات کو بہت ھی دلنشین اندازمیں بیان کیا۔اجلاس کے خصوصی مقرر مولانا محمد ابراہیم مدنی امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث سدھارتھ نگرکہاکہ جماعت کے غیور ومتحمس علمائے کرام اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کررہے تھے کہ شہر لکھنو میں اپنا ایک ادارہ اور مرکز ہو جہاں سے علوم کتاب وسنت کی صحیح روشنی پھوٹے جس سے لوگ فیضیاب ہوں ، الحمد للہ اللہ رب العزت نے اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کےلئے شیخ شہاب الدین مدنی کا انتخاب فرمایا۔لکھنو کی ایک سماجی شخصیت حاجی عارف شفیع اپنے تاثرات میں رقت آمیز لہجے میں ان ایام کا ذکر کیااور کہاکہ شہر لکھنو میں اللہ کے فضل کے بعدمولاناشہاب الدین مدنی کی کاوشوں سے لوگ مسلک اہل حدیث قبول کرنے لگے تو ان کو حراساں کرنےکےلئےسنہ 2009میں عین عید کےدن دوسوکے قریب بعض نام نہاد مسلمانوں نے ان کے گھر پر حملہ کردیا گھر کے سامنے کھڑی ان کی گاڑی میں توڑ پھوڑکی اور حد تو یہ ہے کہ چھپر والی مسجد اہل حدیث کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔ لیکن مولانا کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ اور الحمدللہ یہ سلفی کارواں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ صدر اجلاس حافظ عتیق الرحمن طیبی نے اپنے صدارتی خطاب میں سامعین کو قول وعمل میں اخلاص وللہیت کی تلقین کی اور اس اہم ادارہ کے قیام کےلیے مولانا شہاب الدین مدنی کو مبارکباد پیش کی اور دعوتی میدان میں ان کے جہد مسلسل کو سراہا۔ آخر میں محمد ابراہیم مدنی، حافظ عتیق الرحمن ، بشہابب الدین مدنی ، مولانا سراج الدین سراجی الحاج عارف شفیع ، الحاج ماسٹر عنایت اللہ ، ماسٹر محمدعلی اور دیگرمعززین کے ہاتھوں کلیہ کی فاضلات کو سند فضیلت اور ردائے فضیلت سے نوازا گیا۔












