چین نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی ہلاکت اور کسی بھی دوسرے ایرانی رہنما کو نشانہ بنانا "ناقابل قبول امر” ہے۔ چین نے ایک بار پھر فوری جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی رہنماؤں کے قتل اور سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کے مقاصد پر مبنی کارروائیاں قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے منگل کی علی الصبح تہران پر کیے گئے فضائی حملوں میں علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اشارہ دیا کہ یہ ہلاکت ایرانیوں کے لیے نظام کو گرانے کا ایک موقع ہے۔ایرانی فوج نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملک کے سیاسی نظام کی مضبوطی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لاریجانی کی ہلاکت سیاسی نظام کے استحکام پر اثر انداز نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی تھی کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے مبینہ "میزائل اور ایٹمی خطرات” کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی پہلی صف کے کئی قائدین ہلاک ہوئے ہیں جن میں سب سے نمایاں ایرانی رہبر علی خامنہ ای شامل ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے جس میں اسرائیلی اہداف کی جانب میزائل اور ڈرون داغنے کے علاوہ کئی پڑوسی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔












