چھتیس گڈھ کی راجدھانی رائے پور میں آج سے انڈین نیشنل کانگریس کا 85 واں قومی کنونشن شروع ہو رہا ہے جو 24 ’25اور 26 فروری تک چلے گا۔اس دوران ملک کی سیاسی سرگرمیوںمیں اضافہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے اور کچھ سوالات کانگریس سے بھی کئے جا رہے ہیں کہ عین اس وقت جب کانگریس 2024 کے عام انتخاب کی تیاری کر رہی ہے اس کے صدر کو آسام کی ایک انتخابی ریلی میں یہ اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ 2024 کے عام انتخاب کے بعد کانگریس کی قیادت میں سرکار کا بننا طئے ہے چاہے 100 نریندر مودی اور امت شاہ سامنے ہوں۔جبکہ ابھی ملک کے حزب اختلاف کے دو گروہ صاف صاف نظر آ رہے ہوں جس میں سے ایک گروہ کانگریس کی قیادت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کیا کانگریس نے اس بیان سے پہلے کوئی ایسی ٹھوس پہل کی ہے جس کے ذریعہ وہ یہ دعوی کرے کہ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں اس کی قیادت میں عام انتخاب میں اترنے کو تیار ہیں ؟ مبصرین کانگریس صدر کھڑگے جی کے اس بیان کے وقت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مناسب نہ ہوتا کہ اس قسم کے اعلان سے پہلے کانگریس کنونشن کے مکمل ہونے کا انتظار کر لیا جاتا اور پھر یہ اعلان اس طرح کیا جاتا کہ کانگریس کے اس کنونشن میں یہ بات طئے کی گئی ہے کہ 2024 کے عام انتخاب میں کانگریس اپوزیشن محاذ کے لیڈر کے طور پر انتخاب میں اتریگی اور بہت جلد کانگریس کامن مینیمم پروگرام کے تحت تمام حزب اختلاف کی پارٹیوں کو دعوت دیگی کہ وہ آکر 2024 کے عام انتخاب کا ایجنڈہ طئے کرلیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست اس لئے بھی ہے کہ ابھی حال ہی میں بہار کے وزیر اعلی اور جے ڈی یو کے لیڈر نتیش کمار نے بھی کانگریس سے کہا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا کے بعد اب کانگریس کو آگے بڑھ کر مودی مخالف گروہ کو متحد کرنے کی پہل کرنی چاہیئے۔اس کے پہلے شرد پوار نے بھی یہ کہا تھا کہ کانگریس سمیت ساری حزب اختلاف کی پارٹیوں کو اپنی اپنی ریاست میں بی جے پی سے ٹکر لینے کی پرزور کوشش شروع کر دینی چاہئیے اس محاذ کا لیڈر کون ہوگا اس کا فیصلہ ابھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ویسے بھی کانگریس اپنی سب سے خستہ حالت میں بھی ابھی 53 ایم پی کے ساتھ کسی بھی علاقائی پارٹی سے بڑی پارٹی ہے اور آنے والے انتخاب کے نتائج کے بعد بھی اس تعداد میں اضافے کا ہی امکان ہے کیونکہ 2019 کے انتخاب میں بھی کم وبیش 208سیٹوں پر وہ دوسرے نمبر کی پارٹی تھی۔جو لوگ بھی کانگریس کے بغیر محاذ کی بات کر رہے ہیں ان کا اگر سچ مچ یہ ایجنڈا ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنا ہے تو پھر انہیں کانگریس کی قیادت قبول کرنی ہی ہوگی۔لیکن کانگریس کو اس سلسلے میں بڑے بھائی کا رول بھی ادا کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی علاقائی پارٹی کو یہ نہ لگے کہ اس محاذ میں اس کی اندیکھی کی جائے گی۔کانگریس صدر کے بیان سے جن لوگوں کو اعتراض ہے ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ وقت ان کے بیان کا نہیں تھا۔
دوسری اور اہم بات یہ بھی ہے کہ کانگریس کے بھارت جوڑو یاترا سے اس کی مقبولیت میں تو اضافہ ہوا ہے اور کافی عرصہ بعد پورے ملک کے کانگریسیوں میں جوش بھی دیکھا جا رہا ہے لیکن قومی کنونشن میں ڈیلی گیٹ بنانے کی مہم میں بھی کانگریس لیڈر شپ سے کہیں نہ کہیں چوک ہوئی ہے۔یہ خبر عام ہے کہ کانگریس کے نئے صدر نے بھی روایتی انداز میں ایک ایک فیملی کے کئی کئی ڈیلی گیٹس بنا دئے جبکہ نئے لوگ نظر انداز کر دئے گئے۔اس سلسلے میں دہلی کے کانگریسیوں کو بھی شکایت ہے حالانکہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ نئی نسل کے لوگوں کو کانگریس سے قریب کیا جائے اور روایتی سیاست سے کانگریس کو باہر لایا جائے لیکن کہنے اور کرنے میں جو فرق ہوتا ہے وہ اس کنونشن میں صاف نظر آ رہا ہے۔اور یہ کانگریس کے لئے سخت نقصاندہ ہے۔












