نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کےصدر جناب فیروزاحمدایڈوکیٹ نے مشاورت کےتعلق سے کچھ لوگوں کے ذریعےرجسٹرڈ اور غیررجسٹرڈ کا فتنہ کھڑاکرنےاور یہ دعویٰ کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہےکہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کے صدر منتخب کیے گئے ہیں ۔انہوں نے جمعہ کویہاں میڈیاکے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشاورت کے تعلق سے 11جون 2024کو شائع کی گئی ڈاکٹرظفرالاسلام خاں کی پریس ریلیز فتنہ پروری کی بدترین مثال ہے اوروہ اس پراپنا سخت احتجاج درج کراتے ہیں کہ کچھ اخباروں اورسوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے ان کےسراسربے بنیاد اور غیرقانونی دعووں کو یک طرفہ طور پر بغیر کسی تحقیق و تفتیش کےشائع کیا جس سے ارکان و ہمدردان مشاورت میں غلط فہمیاں اوربےچینی پھیلی۔ انہوں نے کہاکہ مشاورت جیسی معروف ، معتبر اور باوقارتاریخی تنظیم کے تعلق سے یہ رویہ کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہےکہ کسی نے اس کو شائع کرنے سے پہلے مشاورت کے دفتر سے رابطہ کرنے کی زحمت تک گوارانہیں کی۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیروزاحمد ایڈوکیٹ کے پریس نوٹ کا متن حسب ذیل ہے:1. نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں مشاورت(رجسٹرڈ) کا صدر منتخب کیے جانے کے دعویٰ کے ساتھ ایک فرضی رجسٹرڈ ایڈریس اور اپنے گھر کے پتے کا استعمال کرکے ایک غیرقانونی متوازی مشاورت بنانے اور مشاورت کے رجسٹریشن اور ملت کےایک گرانقدرورثے پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔2. 9جون 2024کو نیوہورائزن اسکول(بستی حضرت نظام الدین،نئی دہلی) میں طلب کردہ ظفرالاسلام خاں کی نام نہاد میٹنگ میں مشاورت کے کل 150ارکان میں سے صرف 11ممبران شریک تھے اوران کے علاوہ کچھ سابق ارکان اوران کےکچھ دوست ورفقائےکار تھے۔ موصوف نےاپنی نام نہاد مشاورت کے ارکان کی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں 128 افراد کے نام شامل ت ہیں جن کو میٹنگ کا دعوت نامہ بھیجا گیا تھا۔ مشاورت کے دو ممبروں سے کئی ارکان مشاورت کو باربار فون کرایا اور اس میٹنگ کو اصل مشاورت کا میٹنگ بتاکر ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھربھی شرکا کی تعداد صرف 30 کے آس پاس تھی ۔ارکان کی اتنی تعداد تو مشاورت کی مجلس عاملہ میں ہوتی ہے۔3. ڈاکٹر ظفرالاسلام نے جن لوگوں کو اس میٹنگ کا دعوت نامہ بھیجا تھا، ان کی اکثریت نے ان کے رجسٹرڈ مشاورت کے نام سے متوازی مشاورت کا فتنہ کھڑاکرنے کی کوششوں پر سخت احتجاج کیاتھا ۔ ظفرالاسلام خاں کے نام ایک ایسے مراسلہ کا متن حسب ذیل ہے:السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب۔آپ کا 9 جون 2024 کو دہلی میں مشاورت کے نام سے اجتماع کرنے کا دعوت نامہ موصول ہوا، شکریہ۔غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ایک بار پھر متوازی مشاورت کھڑی کر نے کے عمل سے میں ذاتی طور پر اتفاق نہیں کرتا اس لئے 9 جون 2024 کی میٹنگ میں شریک نہیں ہو پاؤں گا۔مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی 2003 میں رجسٹرڈ مشاورت جسکا میں بھی رکن تھا اس کا انضمام سن 2013 میں سن 1964ء میں قائم ہوئی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں بحسن خوبی ہو چکا ہے اور اس کا رجسٹریشن بھی اسی قدیم مشاورت کے سپرد کیا گیا تھا اس لئے اس رجسٹریشن پر کسی بھی طرح سے کچھ افراد کا دعوہ کرنا اخلاقی اور شرعی اعتبار سے مناب نہیں ہے۔












