نئی دہلی،24دسمبر،پریس ریلیز،ہمارا سماج: آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس اور ایورویدک اینڈ یونانی طبیہ کالج ،نئی دہلی کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت طبیہ کالج میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے اکیڈمک ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اقدام یونانی طب کی ترقی اور تعلیمی و تحقیقی میدان میں نئی جہتوں کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اسی ضمن میں آیورویدک اور یونانی طبیہ میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے اشتراک سے دہلی و اطراف کے یونانی کالجز کے انٹرنس و پی جی اسکالر کے لیے ” طب یونانی میں کیسے مطب کی شروعات کی جائے” کے عنوان پر ایک یک روزہ CME کا انعقاد ہوا۔پروگرام کے افتتاحی سیشن میں طبیہ کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق نے پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے طلبہ سے اس بات پر زور دیا کہ اگر آپ لوگ اپنے اختصاص (سپیشلائزیشن) کا انتخاب کر یں تو نہ صرف یہ کہ ایمانداری سے کام لیں گے بلکہ عوام کو بہتر فائدہ پہنچا سکیں گے۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر زبیر کا اپنے کلیدی خطبے میں کہنا تھا کہ طب یونانی عوام میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے اور آج لوگ دوسرے طریقہ علاج سے مایوس ہو کر یونانی کا رخ کر رہے ہیں اور انھیں فوائد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد خالد صدیقی نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب طب یونانی کے طالب علم ہیں آپ کو یہ بخوبی علم ہے کہ طب یونانی میں علم کا وہ ذخیرہ موجود ہے جہاں ہر مرض کا علاج ہے۔ طب یونانی صحت کے معاملہ میں ایک انقلابی نظریہ ہے لیکن اس چیز کو پریکٹیکلی طب یونانی کے پروفیشنلس کو ثابت کرنا ہوگا اس پر ایمانداری سے کام کرنے کی ضرورت ہے دور حاضر کے طب یونانی کے طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو اس قابل بنائیں کہ عوام کا جو بھروسہ طب یونانی پر قائم ہو رہا ہے وہ مزید بڑھتا رہے اس کے لیے خود انھیں آگے آنا ہوگا طب یونانی کو فروغ دینا ہوگا۔اس CME میں ڈاکٹر نوشاد علی رانا جنرل منیجر ہمدرد لیبوریٹریز انڈیا اور ڈاکٹر کاشف ذکائی ڈائریکٹر نیلم دواخانہ کے دو اہم لیکچرس ہوئے، جس میں طلبہ کے درمیان طب یونانی میں پریکٹس کے بنیادی نکات کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور دیا گیا کہ طب یونانی وقت کی ضرورت ہے اور طب یونانی کے طلبہ کو اپنی ہی طب میں ایمانداری سے محنت کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف وہ خود مطمئن رہیں گی بلکہ عوام کو خاطر خواہ فایدہ پہنچا سکتے ہیں پروگرام آخر میں ڈاکٹر نعمان سلیم اسسٹنٹ پروفیسر علم الصیدلہ نے مہمانوں، طلبہ کے ساتھ ساتھ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے ذمہ داران خصوصا ڈاکٹر محمد خالد صدیقی کا شکریہ ادا کیا جن کی پرخلوص کوشش سے یہ پروگرام منعقد ہوسکا اور اس امید کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا کہ وقتاً فوقتاً طلبہ، پریکٹیشنرس اور فیکلٹیز کے لیے مستقبل میں ہوتا رہے گا- اس CME میں تقریبا ایک سو پچاس طلبہ نے شرکت کی، پروگرام کی نظامت طبیہ کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فیصل نے کی اور ڈاکٹر سحر سلیم، ڈاکٹر نصرت فاطمہ اور ڈاکٹر محمد دانش نے پروگرام کے نظم و ضبط کو سنبھالا۔اکیڈمک ونگ کے قیام کے تحت مختلف ورکشاپس، سیمینارز، اور ریسرچ پروجیکٹس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ یونانی طب کے طلبہ اور پریکٹیشنرز کو تربیت فراہم کی جا سکے۔معاہدے کے تحت اتفاق کیا گیا کہ یونانی طب کو عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں میں اضافہ ضروری ہے۔












