وجےواڑہ: یو سی سی کے سلسلہ میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم صدر جمعیت علماء ہند کی ایما اور حضرت مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی صاحب ریاستی صدر جمعیت کی ہدایت پر آج ایک اہم سفر وجئے واڑہ کا مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء تلنگانہ و آندھراپردیش نے کیا۔ اس سفر میں انہوں نے دو اہم ملاقاتیں کیں۔ پہلی ملاقات ریاست کے چیف منسٹر جناب جگن موہن ریڈی صاحب سے کی۔ اس ملاقات کا اہتمام جناب امجد باشا صاحب ڈپٹی چیف منسٹر آندھراپردیش اور جناب حفیظ خان صاحب ایم ایل اے کرنول نے کیا۔ انہی دو حضرات کی دعوت پر مفتی صاحب جگن کیمپ آفس وجئے واڑہ پہنچے۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی صاحب سے ملاقات ایک وفد کی شکل میں کی گئی، جس میں مختلف درگاہوں کے مشائخ، جماعت اسلامی کے ذمہ دار، جمعیت اہل حدیث کے ذمہ دار اور جمعیت علماء کی طرف سے مفتی محمود زبیر قاسمی شریک تھے۔ اجلاس کے آغاز میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمود زبیر قاسمی نے بڑی تفصیل کے ساتھ یونیفارم سیول کوڈ اور مسلم پرسنل لاء پر گفتگو فرمائی۔ تمام کی گفتگو سننے کے بعد جگن موہن ریڈی نے واضح کیا کہ جہاں تک خواتین کے ساتھ برابری کا تعلق ہے وہ اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن یونیفارم سیول کوڈ کے سلسلہ میں انہوں نے واضح کیا کہ اس کا جو طریقہ کار ہے اور اس کو لانے کا جو انداز ہے وہ بالکل بھی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اگر کسی کلچر میں یا کسی مذہب میں کوئی چیز نامناسب ہوتی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کلچر کے یا اس مذہب کے ذمہ داروں سے رابطہ کرے اور ان کے پرسنل لاء کے مطابق انہی لوگوں کو ذمہ داری سونپے کہ وہ اس مسئلہ کا حل نکالیں۔ اس سے اعتماد بحال ہوگا، لیکن جو طریقہ موجودہ مرکزی حکومت اپنا رہی ہے وہ بالکل بھی نامناسب ہے۔ انہوں نے مفتی محمود زبیر قاسمی کے اس تقاضہ پر کہ وہ یونیفارم سیول کوڈ کی مخالفت میں کلیر اسٹانڈ اپنائیں۔ انہوں نے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ جمعیت علماء کے میمورنڈم اور جماعت اسلامی اور دیگر حضرات کی جانب سے پیش کئے جانے والی تفصیلات کو لیں اور اس کے مطابق پوانٹس پر مبنی نوٹ بناکر پارلیمنٹ کے ممبران کے حوالے کریں تاکہ کل اگر بل پیش ہو تو انہی نکات کو بنیاد بناکر اس بل کی مخالفت کی جائے۔ جگن موہن ریڈی نے وفد کو تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے اپنے ڈپٹی سی ایم اور ایم ایل ایز کو ہدایت کی کہ وہ پریس کانفرنس کریں۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمود زبیر قاسمی نے جمعیت علماء کی جانب سے چیف منسٹر کا شکریہ ادا کیا اور ایسے نازک موقع پر مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہونے پر ان کی ستائش کی۔ اسی دن دوسری ملاقات اپوزیشن لیڈر اور ٹی ڈی پی کے سربراہ سابق چیف منسٹر جناب این چندرا بابو نائیڈو صاحب سے مفتی صاحب نے ٹی ڈی پی ہیڈ کوارٹر میں کی۔ اس اجلاس میں تقریبا دو سو افراد شریک تھے، جن کا تعلق مختلف اضلاع، مختلف درگاہوں، مختلف مساجد، اور مختلف تنظیموں سے تھا۔ اس اجلاس میں بھی جماعت اسلامی، اہل حدیث اور جمعیت علماء کے نمائندے شریک رہے۔ اس اجلاس میں اختتامی گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمود زبیر قاسمی نے واضح کیا کہ یونیفارم سیول کوڈ درحقیقت ایک سیاسی مسئلہ ہے اور یہ صرف اور صرف مسلمانوں کو پریشان کرنے، ستانے اور اس کو سامنےرکھتے ہوئے فرقہ پرستوں سے ووٹ بٹورنے کیلئے کیا جارہا ہے۔ اور اس کا بھت زبردست نقصان ملک کے متنوع کلچرس، قبائلیوں، دلتوں، اور کرسچنس کو ہوگا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی نیت سراسر خراب ہے، ورنہ اس ملک کے اندر تیرہ سو سال سے مسلمان اپنے دین اپنی شریعت اور اپنے مذہب کے ساتھ جی رہے ہیں۔












