رام پور، قاضی شرع مفتی سید واجدعلی عرف فیضان میاں نوری رضوی نے کہاہے کہماہِ رمضان المبارک مؤ منین کے لئے مخصوص رحمت ، عظیم مغفرت اور پروانۂ حرّیت لے کے آتاہے ۔جنت شروع سال سے آخر سال تک ماہِ رمضان کی آمد کے اعزاز میں ضرور دھونی سے خوشبودار کی جاتی اور نئی نئی سجاوٹوں سے سجائی جاتی ہے اور جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو عرشِ اعظم کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کو ’مُثِیرہ ‘کہا جاتاہے ۔ وہ جنت کے درختوں کے پتوں اور دروازوں کی زنجیروں کے حلقوں کو لگتی ہے جس سے ایک ایسی خوشی کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے کہ اس سے اچھی آواز سننے والوںنے کبھی نہیں سنی پھر حورانِ بہشت قصورِ جنت سے باہر نکل آتیں یہاں تک کہ جنت کے چھجّے پر آکے کھڑی ہوتیں اور ندا کرتی ہیں ’کوئی ہے جو اللہ تعالی سے ہمارے لئے خِطبہ کرے (شادی کا پیغام دے )پھر اللہ سبحانہ و تعالی اُس کی ہم سے شادی کردے ، پھر وہ داروغۂ جنت حضرت رضوانؑ سے پوچھتی ہیں کہ یہ کون سی شب ہے ؟وہ لبیک کہہ کے اُن کو جواب دیتے ہیں کہ’ اے خیراتِ حِسان ! یہ رمضان کی پہلی شب ہے‘ اور اللہ تعالی رضوانؑ سے فرماتاہے کہ’ محمد ﷺ کی امت کے روزہ داروں کے لئے جنت کے سب دروازے کھول دے ‘ اور داروغۂ دوزخ حضرت مالکؑ سے فرماتاہے ’امت محمدیہ کے روزہ داروں سے دوزخ کے سب دروازے بند کرلے ‘ اور جبریل امین سے فرماتاہے ’ اے جبریل ! زمین کی طرف اتر کے جا اور سرکش شیطانوں کو ہتھکڑی ، طوق اور بیڑی میں جکڑ کے سمندر کی گہرائیوں میں پھینک دے تاکہ وہ میرے حبیب محمد ﷺکی امت پر اُن کے روزے خراب نہ کرسکے‘اور رمضان شریف کی ہر رات اللہ تعالی تین بار ارشاد فرماتاہے ’ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اُسے عطا کرو ں ؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اُس کی توبہ قبول کروں ؟ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اُسے بخش دوں ؟نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایابندہ ایمان کی وجہ سے اور ثواب کی نیّت سے ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور راتوں میں زائد نماز پڑھے اس کے اب تک کے تمام صغیرہ گناہ بخش دئے جائیں گے ۔ایمان سے یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قائم اللیل اور صائم النہار کے لئے ثواب کا جو وعدہ فرمایا ہے اُس کی تصدیق کرے یعنی سچ مانے حق جانے (شبہہ نہ کرے ) اور نیت (احتساب) سے مراد یہ ہے کہ دھیان سے اس کی طرف متوجہ ہو یعنی حصولِ ثواب کی نیت کرے اور اللہ تعالی کے لئے خاشع رہے ، دل اُس کے حضور جھکا دے ۔انہوںنے کہا کہ ماہِ رمضان المبارک میں نبی اکرم ﷺکے معمولاتِ عبادت میں عام دنوں کی نسبت کافی اضافہ ہوجاتا تھا ۔ اس ماہِ مبارک میں محبت و خشیت الٰہی بامِ عروج پر ہوتی ۔ اسی شوق و محبت میں آپ ﷺراتوں کو قیام بھی بڑھا دیتے ۔
آپ ﷺ اس مبارک مہینے کا خوش آمدیدکہہ کر استقبال کرتے اور سوالیہ انداز میں صحابہ سے دریافت فرماتے تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور تمہارا کون استقبال کررہاہے؟پھر فرماتے تم رمضان کا استقبال کررہے ہو جس کی پہلی رات تمام اہلِ قبلہ کو معاف کردیا جاتاہے ۔فیضان میاںنے کہا کہ اجمالی طور پرماہِ رمضان المبارک کے چند معمولاتِ مصطفی ﷺ کو ذکر کیا جاتاہے تاکہ ہم بھی نبی اکرم ﷺ کے اسوہ¿ حسنہ پر عمل کرکے اس ماہِ مبارک کی سعادتوں اور برکتوںسے مالا مال ہوں ۔ جن میں صیامِ رمضان اس سے مراد ماہِ رمضان کے دوران اپنے اوپر روزوں کی پابندی کو لازم ٹھہرا لیناہے ۔قیامِ رمضان رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ تراویح ، تسبیح و تہلیل اور کثرت سے ذکر و فکر میں مشغول رہنا ۔ تلاوتِ قرآن دورانِ ماہِ رمضان المبارک مکمل قرآن پاک کی تلاوت کا معمول ۔ اعتکافِ رمضان رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے ایام بہ نیت اعتکاف مسجد میں ٹھہرنا ۔نمازِ تہجد در رمضان سال کے بقیہ مہینوں کی نسبت رمضان المبارک میں نمازِ تہجدکی ادائیگی میں زیادہ انہماک اور ذوق و شوق کا مظاہرہ ۔ صدقات و خیرات دررمضان عام مہینوں کی بہ نسبت اس مہینہ میں صدقات و خیرات کی کثرت۔ اس میں سحری و افطار کے بے شمار فوائد اور فیوض و برکات ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ سحری کھایا کرو کیوںکہ سحری میں برکت ہے ۔ایک حدیث میں ہے سحری سراپا برکت ہے اسے ترک نہ کیا کرو ۔












