نئی دہلی، طالبان علوم نبوت ، قرآن وسنت اورفہم سلف کے حامل ہونے کی وجہ سے دنیا میں صف اول کے شہسوار ہیں، ان کا ہتھیار اتنا مضبوط اورکار گر ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم ان کے سامنے ٹک ہی نہیں سکتی کیوں کہ یہ اللہ رب العالمین کے ذریعہ نازل کردہ قرآن مجید اوراللہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ اور نبی بر حق کے ساتھیوں صحابہ کرام کی شروحات کواپنا ہتھیار بناتے ہیں اوربڑے بڑے فتنوں کا بآسانی سامنے کرکے صراط مستقیم پر قائم رہتے ہیں۔ ان علماء اورطالبان علوم نبوت کا کام اُس دین برحق کا دفاع اور نشرو اشاعت ہے جس دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ رب العالمین نے خود لے رکھی ہے اور جس کے بارے میں اللہ رب العالمین نے یہاں تک اعلان فرمادیا کہ باطل اس میں آگے پیچھے کہیں سے بھی داخل نہیں ہوسکتا ۔ یہ علماء اور طالبان علوم نبوت دنیا کی قیادت وسیادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اورانہیں اس حق کے ساتھ مربوط رکھا گیا ہے جوحق باطل کوتباہ کرنے اور غالب رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورطالبان علوم نبوت جن علوم شریعت کو حاصل کرتے ہیں ان سے زیادہ عظیم اورپاکیزہ کوئی بھی علم نہیں ہوسکتا ۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کے اعلیٰ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل،نئی دہلی کی وسیع جامع مسجد عمر بن الخطاب میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا دنیا میں پائی جانے والی مختلف اقوام کے درمیان فرق مراتب کے تناظر میں علمائے اسلام اورطالبان علوم نبوت کی فضیلت اور مسئولیت پر گفتگو فرمارہے تھے ۔ مولانا نے سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۲۲ کے تناظر میں فرمایاکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے کہ تمام مؤمنوں کویہ نہیں چاہیے کہ سب نکل پڑیں بلکہ ہر بڑی جماعت سے ایک چھوٹی جماعت کو نکل کر اللہ کے دین کا فہم حاصل کرنا چاہیے اورجب اپنی قوم کے پاس لوٹے توانہیں بھی دین کا علم سکھا کر اللہ سے ڈرانا چاہیے تاکہ وہ اللہ کا ڈر اورتقوی اختیار کریں۔خطیب محترم نے بالخصوص طلبہ اور علما ء کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وہ اپنی مسؤلیت اورذمہ داریوں کوسمجھیں ، دین کے احکامات کو سیکھنے کا اللہ نے ان کو جو موقع دیا ہے یہ ان پر بہت بڑا انعام ہے، انہیں اس کی قدر بھی کرنی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے اوراس کے تقاضوں کوبھی پورا کرنا چاہیے۔ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مسجدوں کوآباد رکھیں ، توحید کے تقاضوں کوسمجھیں، اتباع رسول کا سبق دنیا کے سامنے عام کریں، فہم سلف صالحین کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں اور گزاریں اور دین کو اس دور سے اخذ کریں جس دور میں صحابہ کرام نے زندگی گزاری اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک صحبت کے نتیجہ میں خالص دین دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ طالبان علوم نبوت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ کتب ستہ ، علوم حدیث، علوم تفسیر اور دوسرے علوم شریعت جو حاصل کررہے ہیں ان سے متعلق انہوں نے کتنا حق ادا کیا اس کے بارے میں ان سے آخرت میں سوال کیا جائے گا۔
خطیب محترم نے سورۂ محمد کی آیت نمبر ۳۸ کی تلاوت کی ا ور فرمایا کہ اگرہم نے علوم شریعت کا حق ادا نہیں کیا تو اللہ ہمیں ہلاک کرکے دوسری قوم پیدا کرنے پر قادر ہے جو ہم جیسی نہیں ہوگی ۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی مدد چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کی اوراس کے دین کی مدد کرنی ہوگی کیوں کہ اللہ اسی قوم کی مدد فرماتا ہے جواللہ کی مدد کرتی ہے ۔ اس وجہ سے ہمارے سامنے ترمذی شریف کی وہ حدیث بھی ہونی چاہیے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابن عباس تم اللہ کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت فر مائے گا اور مدداور استعانت صرف اللہ رب العالمین سے حاصل کرو اوراس بات کو سمجھ لو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تم کو ذرا سا فائدہ یا نقصان پہونچانا چاہے تو اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں پہونچا سکتی ۔ اس وجہ سے اگر ہمیں فلاح وکامیابی چاہیے تواللہ کی رضا مندی اور اس کے دین پر مضبوطی اختیار کرنی ہوگی کیوں کہ اللہ کی مرضی اور رضا مندی کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ۔
اخیر میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے اوردین کی طرف رجوع کرنے کی اپیل نیز دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا ۔












