• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

علامہ سید سلیمان ندوی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 22, 2022
0 0
A A
علامہ سید سلیمان ندوی
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹرسید ارشد اسلم
9430359847

۲۲نومبر کو ہر سال دنیائے اسلام کے ممتاز مؤرخ ، محقق اور سوانح نگار علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کا یوم ولادت منایاجاتا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ ۲۲نومبر علامہ کی یوم پیدائش بھی ہے اور انتقال بھی ۔ چنانچہ ایسے موقع پر ہندوستان و پاکستان میںمتعدد تنظیموں، یونیورسٹیوں اور مختلف اداروں کی جانب سے جلسوں اور مذاکروں کے انعقاد اور یاد گاری مجلوں کی اشاعت کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ یوں تو دنیا کی تمام اہم شخصیتیں اپنے کارہائے نمایاں کے ذریعہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ پھر بھی یہ دستورہے کہ یوم پیدائش کے موقع پران کی یاد منائی جائے ۔ دراصل اس کا مقصد اس شخصیت سے اپنی عقیدت اور ممنونیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ خود اپنے اندر تجزیہ تحقیق اور جستجو کے ذوق کی تربیت دینا بھی ہوتا ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی ۲۲نومبر 1848ءمیں صوبہ بہار کے دسنہ نام کے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ دسنہ پٹنہ کے نزدیک بہارشریف سے تقریباً ۸کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ گاؤں شروع سے ہی بڑا مردم خیز رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے صوفیہ، بزرگانِ دین، شاعر وادیب اور دوسرے علوم و فنون کے ماہرین پیدا ہو چکے ہیں۔ چنانچہ علامہ سید سلیمان ندوی کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ جو قدرت کی طرف سے غیر معمولی ذہن لے کر آئے تھے۔ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کو اللہ تعالیٰ نے جو جامعیت عطا فرمائی تھی وہ بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔ تفسیر قرآن کے ماہر دریائے حدیث کے شناور، دربار فقہ و قضاءکے صدر نشیں تاریخ و سیرت و سوانح کے چمپئن، اردو فارسی و عربی کے استاد، شاعر و ادیب، زبان داں اور خطیب ، وقت کی سیاست کے رمز شناس، ملت اسلامیہ کے غم گسار، تقویٰ طہارت، حلم مروت اور شرافت کے پیکر کیا نہ تھے سید سلیمان ندوی
علم و دین و حکمت و دانش کا ایسا اجتماع
جلوہ گر ہوتا ہے اک پیکر میں صدیوں میں کہیں
وسعت معلومات کا یہ عالم تھا کہ مستشرقین بھی آپ کا لوہا مانتے تھے۔ دنیائے اسلام کے بڑے بڑے علماءو فضلاءاور محققین آپ کے معتقد تھے۔ شروع شروع میں سید صاحبؒ کے علمی تبحُّر ان کے حقیقی خدو خال اور ان کے فکر کے دور رس اثرات معاصرین کی نگاہوں سے اوجھل تھے لیکن اس کااحساس سب سے پہلے علامہ اقبال کو ہوا۔ جس طرح حضرت شاہ ولی اللہ کی عظمت کااحساس سب سے پہلے مظہر جان جاناں کو ہوا تھا اسی طرح علامہ سید سلیمان ندویؒ کے علمی تبحُّر ان کے کارناموں کے عظیم الشان اثرات کا مشاہدہ، سب سے پہلے علامہ اقبال کے چشم جہاں بین نے کیا اور وہ بے اختیار پکار اٹھے۔ ”علوم اسلام کے جوئے شیر کا فرہاد آج ہندوستان میں سوائے سیدسلیمان ندویؒ کے اور کون ہے۔ “علامہ اقبال سے پہلے نہ تو کسی نے ان کی صدائے تیشہ سنی تھی نہ ان کی جوئے شیر کو کسی نے دیکھا تھا۔ علامہ اقبال کی آواز نے ایک دم سے چونکا دیا اور معاصرت کے حجاب گرنے شروع ہو گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ
یک چراغیست دریں خانہ کہ از پر توآں
ہرکجا می نگری انجمنے ساختہ اند
سید صاحبؒ 1848ءمیں پیدا ہوئے تھے اور1953میں انھوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ اس مدت میں ہندوستان کے سیاسی حالات نے کیاکیا رنگ بدلے اور وقت کا قافلہ کن کن نازک مرحلوں سے گذرا لیکن تیشۂ فرہاد کبھی ہاتھ سے نہین چھوٹااور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیقات و تصنیفات کی ادبی قدرو قیمت بڑھتی گئی۔ سید صاحب نے صرف اسلامیات ہی کو نہیں بلکہ اسلامی ثقافت کو اپنے فکر و مطالعہ کا موضوع بنایا اور ان سے متعلق علوم کی ہرشاخ کا نہ صرف گہرا مطالعہ کیا بلکہ جو کچھ انھوں نے لکھا اس سے ان کے مصادر کی اہمیت بھی روشن ہوتی گئی ۔ انھوں نے اردو ، فارسی ، عربی ، زبان و ادب کی علاوہ تاریخ عام، تاریخ اسلام و مسلمین ، عربی تہذیب و تمدن اور اسلامی فلکیات و بحریات کا بھی کوئی گوشہ ادھورا اورتشنہ نہیں چھوڑا ۔ انھوں نے نصف صدی تک ہندوستان اور عالم اسلام کو اپنے قلم کی روانی سے سیراب اور اپنی شعلہ نفسیوں سے گرم اور اپنی نواسنجیوں سے پرشور رکھا اور اپنی انتھک تحقیقی کاوش اور سحرانگیز قلم کی جادو گری سے خشک سوتوں کو اس طرح جگایا کہ محققین حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر آپ کو ابن روشد کی تلاش ہوتو سیرۃ النبی جلد سوم کو دیکھیے اگر ابن خلدون اور ابن تیمیہ کی تصویر دیکھنا چاہتے ہوں تو سیرۃالنبی جلد چہارم دیکھیے۔ ابن قیم کی تعلیمی موشگافیوں کا مطالعہ کرنا ہوتو سیر ة النبی جلد پنجم پڑھیے، غزالی اور رومی کے فلسفۂ اخلاق کی تلاش ہوتو سیر النبی کی جلد ششم پڑھیے ، سحر انگیز خطیب اور جامع صفات پیغمبر کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو ’خطبات مدراس‘ پڑھیے، البیرونی ابن بطوطہ کی سیرو سیاحت اورقدیم ہند کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو ’عرب و ہند کے تعلقا ت ‘ پر ایک نظر ڈالیے۔ ایک بڑے عالم حکیموں و صوفی کو دیکھنا چاہتے ہوں تو ’خیام‘ کا مطالعہ کیجئے۔
بدنام خیام رند و شاہد باز کے بجائے ایک بڑا عالم حکیم و صوفی نظر آئے گا۔ ابن ماجد، و اسکوڈی گاما کی سیاحت اور عربوں کی بحری ایجادات و منکشافات جاننا چاہتے ہوں تو عربوں کی جہاز رانی کا مطالعہ کیجئے، غرض علامہ سید سلیمان ندوی نے نصف صدی تک بے تکان لکھا اور کتنے ہی موضوعات ایسے ہیں جن پر انھوں نے اردو کو قابل فخر ولائق اعتبار سرمایہ دیا ہے۔ انھوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جن کے بارے میں اردو زبان تہی دامن تھی۔ لیکن ان موضوعات کا دامن ہمارے شب و روز سے جڑا ہوا تھا اور جن کو سمجھے بغیر ہم اپنے ماضی کی شاندار روایت سے اپنا رشتہ برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ غرض سید صاحب نے اپنی پوری زندگی علمی و ادبی خدمات کی خاطر وقف کردی۔ مرحوم کی زندگی کا ہر لمحہ ملت کی زندگی کے لیے ایک نیاپیام لاتا تھا۔ انھوں نے میدان علم و ادب میں جو بیش بہا گوہر لٹائے ہیں اسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ان کے علمی و ادبی کارنامے تاریخ ساز اہمیت کے حامل ۔ اس لیے یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ سید صاحب کی اہم تصنیفات و تحقیقات کا مختصر تعارف کرچلوں کیوں کہ بغیر ان کی علمی ، ادبی تحقیقات کا جائزہ مشکل ہوگا۔ اس لیے ہم سردست سید صاحب کی تصانیف کا ایک اجمالی خاکہ اور ان کی تحریروں کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں یہ گویا ان کی علمی فتوحات کے صرف ایک پہلو پر طائرانہ نظرہوگی۔
سیرت النبی :۔مولانا شبلیؒ اور سید سلیمان ندویؒ کی مشترک تالیف ہے۔ یہ کتاب چھ زخیم مجلدات پر مشتمل جس کے شروع کے دوحصے مولانا شبلیؒ نے مکمل کیے تھے اور اس کے بعد کے چار حصوں کو سیدصاحب نے مکمل کیا۔ اس سیرت کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ یہ تنہا سوانح نبوی نہیں بلکہ اس میں اسلام کے عقائد عبادات ، معاملات اور اخلاق کا خلاصہ آگیا ہے اور اس حیثیت سے یہ اسلامی تعلیمی کی دائرۃ المعارف کہی جاسکتی ہے۔ دوسری نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ روایت کے ردّو قبول میں بڑی احتیاط برتی گئی ہے اور ان کی تحقیق میں نقد و جرح اور روایت و درروایت کی تمام محدثانہ اور تحقیقی اصولوں کو کام میں لایاگیا ہے، تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان میں ان اعتراضات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے جو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں مخالفین کرتے آئے ہیں ، ان اعتراضات کے جواب کے لیے مناظرانہ بحث و مباحثہ کی راہ اختیار نہیں کی گئی ہے بلکہ نفس واقعہ کو ایسے محققانہ انداز میں پیش کیاگیا ہے کہ اعتراضات خود بہ خود اٹھ جاتے ہیں ۔ اس طرح سید صاحب نے مولانا شبلیؒ کے ادھورے کام کو اس احتیاط و اہتمام کے ساتھ قلمبند کیا کہ سیرت نبوی کے اہم پہلو تو عیاں ہو ہی گئے ہیں۔ ساتھ ہی اسلامی نظام فکرو عمل کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہے۔
خطبات مدراس : سید صاحبؒ کی دوسری اہم کتاب ہے مدراس کے کچھ بزرگ اور دیندار مسلمانوں کی گذارش و فرمائش پر اکتوبر1925ء میں سید صاحب نے سیرت النبی کے مختلف پہلوؤں پر جو تقریریں کی تھیں ’خطبات مدراس ‘ انہیں خطبوں کا مجموعہ ہے۔ اگرچہ اس کے صفحات کی تعداد صرف ڈیڑھ سو (150) ہے مگر اس مختصر سی کتاب میں معلومات کا ایک دفتر موجود ہے۔ اس میں کل آٹھ خطبے ہیں اور ہر خطبہ جامع اور مکمل ہے۔ پہلے خطبے میں اس کی نشاندہی کی گئی کہ انسانیت کی تکمیل انبیاءعلیہ السلام کی سیرتوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ دوسرے خطبے میں اس تاریخی صداقت کو پیش کیاگیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پاک ہی ایک ہمہ گیر نمونہ عمل ہے۔ تیسرے خطبے میں سیرت نبوی کی زندگی کے تمام واقعات و حالات کو انتہائی حقیقت پسندی کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ عہد کے عربی معاشرے کے حالات اور اسلام کے زیر اثر رونما ہونے والے تغیرات پر بھی تشفی بخش طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چھٹے خطبے میں سیرت نبوی کے عملی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ ساتویں خطبے میں دوسرے تمام اہم مذاہب کے بمقابلہ اسلام کی حقانیت اور صداقت و برتری کو پیش کیاگیا ہے۔ آٹھویں خطبے میں اسلام کے بنیادی نکات و تعلیمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ خطبات مدارس ایک ایسی کتاب ہے جس کے مطالعہ سے رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم گوشے بہ تمام کمال سامنے آجاتے ہیں۔
سیرت عائشہ :سید صاحبؒ کی ایک اہم کتاب ہے حالاں کہ یہ کتاب جناب عائشہ صدیقہ کی سوانح حیات ہے لیکن بنظر غور مطالعہ سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ سوانح عمری بھی سیرت رسول کا ایک حصہ ہے۔ اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حالات زندگی ، ان کی عادات و خصائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز ان کے علم و فضل اور فہم و فراست پر بحث و تبصرہ کیاگیا ہے۔
حیات مالک :اس کتاب میں حضرت امام مالکؒ کی سوانح عمری ان کے اخلاق و عادات اور حالات زندگی اور ان کی تصنیفات پر تبصرہ ہے۔ تابعین مدینہ اور فقہائے حجاز کے حالات، علم حدیث کی ابتدائی تاریخ اور حدیث جمع کرنے کے لیے محدثین کرام کی کاوشوں کا ذکر ہے۔
ارض القرآن:سید صاحبؒ کی نہایت ہی اہم کتاب ہے اگر چہ سیرت نبوی اس کاموجوع نہیں لیکن مصنف نے خود اس کو سیرۃ النبی کے دیباچہ کی اہمیت دی ہے۔ سید صاحب کی یہ کتاب شروع سے آخر تک معلومات کا ایک خزانہ ہے۔ عرب کے جغرافیائی مصادر و ماخذ کی طویل فہرست کے علاوہ اس کتاب میں سید صاحب نے ادبیات اسلامیہ کے ذیل میں جن مطبوعہ اور غیر مطبوعہ عربی زبان کی کتابوں کا ذکر کیا ہے یہ ایک ایسی علمی فہرست ہے کہ ہمارے علماءجو انگریزی یا اس قسم کی جدید عصری زبان سے ناواقف ہیں وہ علماءادبیاتِ اسلامیہ کی ان کتابوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ عرب اور اس کے جغرافیہ و تاریخ کے ساتھ یورپ کے ارباب تحقیق نے جن غلط معلومات کو عام کرنے اور صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی تھی سید صاحب نے اپنی کتاب میں ان تمام مغربی مصنفین اور محققین کی تاریخی و تحقیقی غلطیوں کا بڑے سلیقہ سے پردہ فاش کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ قرآن فہمی کے معیار میں زبردست انقلاب پیدا کرتا ہے۔
عرب و ہند کے تعلقات :تہذیبی و ثقافتی طور پر ’عرب و ہند کے تعلقات ‘ سید صاحب کی بے حد اہم تصنیف ہے۔ پانچ ابواب پر مشتمل اس کتاب میں مصنف نے موضوع تحریر کی مناسبت سے بر صغیر ہندوستان سے مسلمانوں کے گہرے، ہمہ گیر اور قدیم تعلقات کا مبسوط جائزہ پیش کیا ہے۔ پہلے باب میں ارض ہند سے عربوں کے قدیم تجارتی تعلقات کی تفصیلات پیش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں سید صاحب کی تحقیقی بصیرت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ دوسرے حصے میں تجارتی راستوں اوران کی درمیانی منزلوں اور بندگاہوں کی تفصیل بھی ہے اور اس وقت کے ہندوستان کی پیداوار وغیرہ کا بھی ذکر ہے۔
تیسرے باب میں عہد قدیم میں ہندوستان اور عرب ممالک کے علمی تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ چوتھے باب میں عرب و ہند کے مذہبی تعلقات کی تفصیل موجود ہے۔ اخیر اور پانچویں باب میں ہندوستان میں سیاسی طور پر مسلمانوں کی پیش قدمی، سربلندی اور اس کے ہمہ جہت اثرات کو قلمبند کیاگیا ہے ۔ غرض اس کتاب میں بتایاگیا ہے کہ اسلام کا تعلق ہندوستان سے بہت ہی قدیم ہے۔ مختلف ثبوتوں اور دلائلوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلامی فتوحات سے قبل ہندوستان میں کہاںکہاں مسلمان آباد تھے اور کہاں کہاں ان کی نو آبادیاں تھیں اور ان کے ہندؤں سے کتنے گہرے تجارتی اور ثقافتی تعلقات تھے۔
خیام : یہ کتاب510 صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس میں حیات خیام پر محققانہ اور ناقدانہ نظر ڈالی گئی ہے۔ اس کے فضل و کمال اور مشاہیر و معاصرین اور سلاطین سے اس کے تعلقات پر تبصرہ کیاگیا ہے، اس کتاب کی قدرو قیمت کااندازہ لگانے کے لیے علامہ اقبال کا یہ جملہ کافی ہے۔ ”عمر خیام “پر آپ نے جو کچھ لکھ دیا اس پر اب کوئی مشرقی یا مغربی مصنف یا عالم اضافہ نہ کرسکے گا۔ سید صاحب نے یہ کتاب محض اس اظہار کے لیے لکھا تھا کہ اہل مغرب کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کو جس ریسرچ پر ناز ہے مشرقی علماءان میں سے کسی طرح کم نہیں ہیں، عمر خیام کو اہل یوروپ نے غلط ڈھنگ سے پیش کرکے اسے شرابی و عیاش ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ سید صاحب نے اپنی اس تصنیف میںمختلف دلیلوں اور شواہد کے زریعہ یہ ثابت کردیا کہ ’خیام‘ اپنے عہد کا ممتاز فلسفی ریاضیات اور ہیئت و نجوم کا ماہر اور اخلاقی قدروں کا دیندار مبلغ تھا۔
عربوں کی جہاز رانی : یہ کتاب سید صاحب کے خطبات کا مجموعہ ہے جیسے Islamic Research Association Bombayکی طرف سے پہلی بار1935ء میں معارف پریس اعظم گرھ سے شائع کیاگیا۔ عربوں کی جہاز رانی :جغرافیہ اور تہذیبی تاریخ سے متعلق معلومات کا بہترین نمونہ ہے ۔
نقوش سلیمانی : یہ سید سلیمان ندوی ؒ کی ہندوستان اور اردو زبان و ادب سے متعلق تقریروں اور مقدموں کا مجموعہ ہے جسے معارف پریس نے اعظم گڑھ نے1936ء میں شائع کیا ہے۔ نقوش سلیمانی میں پانچ خطبات پندرہ مقالات اور گیارہ کتب پر مقدمات ہیں۔
رحمت عالم : رسول اکرم کی سیرت پاک طلبہ اور معمولی پڑھے لکھے لوگوں کے لیے مرتب کی تھی ۔ شروع میں یہ کتاب صوبہ بہار کے اسلامی مکتبوں کے لیے منتخب ہوئی پھر ہندوستان کے دوسرے صوبوں کے اسکولوں، کالجوں کے نصاب میں داخل کرلی گئی اور آج بھی یہ کتاب پاکستان کے اسکولوں کے نصاب میں شامل ہے۔
خواتین اسلام :جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کتاب میں مسلمان خواتین کے کارنامے درج ہیں جو انھوں نے میدان جنگ یا دوسرے اہم موقعوں پر انجام دیئے ہیں اس میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے غزوۂ احد کے کارنامے سے لے کر نور جہاں بیگم، پونجی خاتون اور چاندنی بی بی تک کے شجاعانہ کارنامے درج ہیں۔ یہ خواتین اسلام پر اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔
حیات شبلی : علامہ سید سلیمان ندوی شبلی نعمانی کے شاگرد رشید تھے۔ مولانا شبلی نعمانی کے انتقال پر سید صاحب کو گہرا صدمہ پہنچا جس کا اظہار انھوں نے ایک پردرد مرثیہ میں کیا۔ لیکن اتنا ان کے لیے کافی نہیںہوا اور انہوں نے ”حیات شبلی “ کے عنوان پر ساڑھے آٹھ سو صفحات کی ضخیم کتاب لکھی اس میں علامہ شبلی کی سوانح عمری علمی و ادبی و سیاسی کارناموں کی تفصیل موجود ہے۔
لغات جدیدہ، دروس الادب، مقالات سلیمانی وغیرہ بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’معارف‘ کا شذرات ہر اہم شخصیت کے انتقال پر آنسو بہانے کے لیے وقف تھا اور آخر میں اس نے وفیات کا مستقل عنوان اختیار کرلیااور پھر ان تمام مضامین کا مجموعہ ’یاد رفتگاں‘ کے عنوان سے کراچی سے شائع ہوا۔ یہ کتاب حقیقت میں نصف صدی کی داستانِ غم ہے یہ صرف ان مضامین کا مجموعہ نہیں جنہیں سید صاحب نے جانے والوں کے غم میں سپرد قلم کیا بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ ان کے دل کے ٹکڑے ہیں جو صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ چالیس سال کے آنسو ہیں جو قطرہ قطرہ گر کر سمندر کی شکل میں جمع ہو کر عبرت کا ایک مرقع بن گیا ہے۔ 1914ء سے لے کر اپنی وفات سے کچھ دنوں قبل تک یعنی 1952ء تک کی ایک درد بھری کہانی ہے۔ گو اس میں استاد کا ماتم ہے رفیقۂ حیات کا نوحہ ہے، فضل و کمال کا مرثیہ ہے، اخلاق و شرافت کارونا ہے، دینداروں کا غم ہے ، بے دینوں کا سوگ ہے لیکن سب سے زیادہ اس مین خود ان کی زندگی کا پر تو ہے اور اس دور کی کہانی ہے جو نہ اب دیکھنے کو ملے گی اور نہ سننے کو ۔
اس مجموعہ میں ہندو بھی ہیں مسلمان بھی، عیسائی بھی ہیں یہودی بھی، ہندوستانی بھی ہیں انگریز بھی، انگریز بھی، مصری بھی ہیں ترکی بھی ان میں جج بھی ہیںبیرسٹر بھی، عالم بھی ہیں مسٹر بھی، پیر بھی ہین فقیر بھی، شاعر بھی ہیں خطیب بھی، سیاست داں بھی ہیں گوشہ نشیں بھی۔ واقعی کیسا دل تھا جو سب کے لیے بے قرار کیسی آنکھیں تھیںجو سب کے لیے اشکبار رہا کرتی تھیں۔ رسول عربی کے شیدائی نے محبوب کی کتنی ادائیں اپنے اندر جمع کرلی تھیں ۔
بہر کیف یاد رفتگاں کے یہ مضامین اردو ادب میںایک روخن ہے اور اس کے اکثر مضامین زندہ جاوید ہیں ۔ مولانا محمد علی ، علامہ اقبال اور حکیم اجمل خاں کا مرثیہ اردو ادب میںبہت بلند ہے۔ یہ مضامین نہ صرف اردو ادب بلکہ دنیائے ادب کے انمول جواہر پاروں میں شمار کیے جانے کے قابل ہیں۔ کیوںکہ یہ تاریخ و سوانح کی قیمتیں شہ پارے اور خود مصنف کے وسیع قلب ار وسیع دماغ کا نگارخانہ ہے۔ غرض سید سلیمان ندوی کے علمی و ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جسے اس مختصر وقت میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ مختصر یہ کہ وہ جب تک زندہ رہے دینی و علمی خدمات سے کبھی غافل نہیں رہے ، ان کی پُر درد آواز ہندوستان اور دنیائے اسلام کے ہرقیامت آفریں سانحے میں صدائے سوز بنکربلند ہو تی رہی۔ ان کا بے قرار دل قوم کے ہر مصیبت کے وقت بے تاب ہوجاتا تھا اور اوروں کو بھی بے تاب کردیتا تھا۔ ان کی آتشیں زبان ہر رزم میںتیغ و برآں بن کر چمکتی رہی۔ لیکن دنیا کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا یہ منظر بھی کس قدر عبرت آموز ہے اس سے کسی کو نجات نہیں۔ چنانچہ ۲۲ نومبر 1953ء کو وہ وقت بھی پہنچا اور علامہ سید سلیمان ندویؒ نے کراچی میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
داغ ِ فراق صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist