نئی دہلی، جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء میں رئس التحریر علامہ یاسین اختر مصباحی (علیہ الرحمہ)کی وفات پر محفل ایصال ثواب و تعزیتی نششت کا انعقاد کیا گیا ۔ محفل کی ابتداء تلاوت کلام پاک سے کی گئی ۔ مولانا نازش علی نعیمی (خطیب وامام نظامی مسجد و استاذ جامعہ ہذا ) نے تلاوت کلام پاک کے بعد نعت ومنقبت پیش کیا۔ آپ کے بعد افتاء میں پڑھنے والا طالب علم مولانا اوصاف نے علامہ کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رئیس التحریر بہت بڑی شخصیت کے حامل تھے ۔ ان کے بعد جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کے پرنسپل مفتی احسان رضا ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ رب العزت علم کے ذریعہ علماء دین ودنیا دونوں کی سعادتوں سے نوازتا ہے ۔ اور یہ انبیاء کی سنت بھی ہے کہ مولی تبارک وتعالی نے سلیمان علیہ السلام کو علم ، دولت وحکومت میں اختیار دیا کہ جوچاہوچن لو، تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے علم کو اختیار کیا اور قرآن شاہد ہے اسی علم کے بدولت آپ کو رب قدیر نے دولت بھی عطاء کی اور حکومت بھی۔ علم اور علماء کی عظمت پر قرآن وآحادیث میں بے شمار مثالیں موجود ہیں یہ فضیلت اس علم دین کے ذریعہ حکمت ودانائی اور اخلاص و خدمت دین حق کی وجہ سے ملتی ہے جسے پوری زندگی علماء اداکرتے ہیں اس ادائگی میں چاہے خدی کو کیوں نہ مٹانا پڑے پر ذرہ برابر بھی آپ کے قدم راہ حق سے نہیں ہٹے ایسے علماء کرام کی خدمات ہمشہ زندہ رہتی ہیں ۔ انہیں چند شخصیات میں سے اس دور کی عبقری شخصیت علامہ یاسین اختر مصباحی کی ذات تھی ۔آپ نے پوری زندگی اپنے قلم وقرطاس علماء کی قربانیوں اور ان کی خدمات کو عام کرتے رہے ۔ چاہے مجاہدین آذادی 1857کی تاریخ کے ذریعہ ہو یا فقہی بصیرت یا 1857کے علمائے کرام کی قربانیوں کو "ممتاز علماء انقلاب "کے ذریعہ محفوظ کرنے کے ذریعہ ہو آپ کی پوری زندگی خدمت دین حنیٖف میں گذری ۔ قائد اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری (علیہ الرحمہ)سے ملاقات کے لئے جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء میں آپ اکثر تشریف لاتے اور کئی کئی گھنٹے قوم وملت کی فلاح وبہبود پرگفتگو ہوتی ۔ قائد اہل سنت کی ذات اور آپ کی قائدانہ صلاحیتوں سے اس قدر متأثر تھے کہ بے شمار موقع پر آپ کسی فیصلہ سے قبل قائد اہل سنت سے ضرور مشورہ فرماتے ۔ اہل سنت وجماعت آج ایک عظیم مفکر ،قلم کار ، عظیم دانشور سے محروم ہوگیا ۔ مجلس میں نبیرۂ قائداہل سنت مولانا محمود غازی ازہری (ڈائریکٹر جامعہ ہذا) ، مفتی نوشاد عالم ازہری (صدر مفتی شرعی کونسل ادارۂ شرعیہ دہلی ) ڈاکٹر عرفان ازہری ،، مولانا قاسم مصباحی ، مولانا عبدالرحیم نظامی ، مولانا شمس تبریز و دیگر مقامی علماء وکثیر تعداد میں طلبہ وعوام موجود تھے ۔ اخیر میں صدر مفتی ادارۂ شرعیہ کی دعا ء پر محفل کا اختتام ہوا۔












