سید پرویز قیصر
بنگلور میںوجے ہزارے ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں ودربھ کو کامیانی دلانے والے امن موکھڈے ایک روزہ کرکٹ میں سب سے تیز ایک ہزاررن بنانے کا عالمی ریکارڈ برابر کرنے میںکامیاب ہوگئے ہیں۔ نہوں نے کرناٹک کے خلاف میچ میں122بالوں پر12 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے138 رن بنائے اور اپنی ٹیم کو فائنل میں پہچایا۔انہوں نے سالہ اننگوں میں ایک ہزاررن مکمل کرنے کے بعد ایک قسم کے کرکٹ میں سب سے تیز ایک ہزار مکمل کرنے کا جنوبی افریقہ کے گریم پولاک کا ریکارڈ برابر کیا۔ہندوستان کی جانب سے اس سے پہلے سب سے تیز ایک ہزار رن مکمل کرنے کا ریکارڈمشترکہ طور پردیو دت پادیکل اورابھینو موکند کے پاس تھا۔ ان دونوں نے17 ۔17 اننگوں میں ایسا کیا تھا۔
اس میچ کے اختتام تک اس 25 سالہ بلے باز نے2023 سے اب تک جو17ایک روزہ میچ کھیلے ہیں انکی16 اننگوں میں67.53 کی اوسط اور108.57 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ پانچ سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے1013 رن بنائے تھے۔ وہ ایک مرتبہ صفرکا شکار ہوئے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر150 رن ہے جو انہوں نے بڑودہ کے خلاف راجکوٹ میں3 جنوری2026 کو121 بالو ں پر17 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔ اس میچ میں انکی ٹیم نو وکٹ سے فاتح رہی تھی۔ انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رن اپنی25 ویں سالگرہ سے ایک دن پہلے مکمل کئے تھے۔
پہلے سیمی فائنل میں سنچری امن موکھڈے کی اس سیزن میں پانچویں تھی۔ اس سنچری کے ساتھ وہ ایک سیزن میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا نارائین جگدیشن اور کرون نائر کا ریکارڈ برابر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تامل ناڈوکی جانب سے کھیلتے ہوئے نارائین جگدیشن نے2022-23 سیزن ،میں ایسا کیا تھا۔ انہوں نے 8 میچوں کی8 اننگوں میں138.33 کی اوسط اور125.37 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ پانچ سنچرئوں کی مدد سے830 رن بنائے تھے۔اس سیزن میں وہ ایک مرتبہ بھی صفر کا شکار نہیں ہوئے تھے اور ان کا سب سے زیادہ اسکور277 رن رہا تھا جو انہوں نے اروناچل پردیش کے خلاف بنگلور میں21 نومبر2022 کو184 منٹ میں141 بالوں پر25 چوکوں اور15 چھکو ں کی مدد سے بنایا تھا۔ وجے ہزارے ٹرافی میں یہ سب سے بڑاانفرادی اسکور بھی ہے۔
ودربھ کے کرون نائیر نے2024-25میںایسا کیا تھا۔ اس سیزن میں انہوں نے جو نو میچ کھیلے تھے انکی آٹھ اننگوں میں389.50 کی اوسط اور124.04کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ پانچ سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے779 رن بنائے تھے۔ وہ ایک مرتبہ بھی صفر پر آوٹ نہیں ہوئے تھے اور ا نکا سب سے زیادہ اسکورآوٹ ہوئے بغیر163 رن رہا تھا جو انہوں نے28 دسمبر2024 کو چنڈی گڈھ کے خلاف وشاکھا پٹنم میں107 منٹ میں20 چوکوں اور دوچھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔
امن موکھڈے نے موجودہ سیزن میں ابھی تک جو نو میچ کھیلے ہیں انکی نو اننگوں میں97.62کی اوسط اور111.57 کیاسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ہانچ سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے781 رن بنائے ہیں۔ وہ ایک مرتبہ بھی صفر کا شکار نہیں بنے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر150 رن ہے۔اگر وہ فائنل میں سنچری بنانے میں کامیاب ہوگئے تو وجے ہزارے ٹرافی میں ایک سیزن میں سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈاپنے نام کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ فیصل فیچرس












