ترکی اور شام میں جو بھیانک زلزلہ آیا ہے ، اس تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ زلزلے کی شدت پانچ سو بم سے زائد بتائی جارہی ہے ۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق 26 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور ٹھٹھرتی ٹھنڈی کے باوجود کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں تمام عالمی برادری کا انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ہر قسم کی مذہبی ، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے سامنے آئیں ۔ یقینا بہت سے ممالک اور خیراتی اداروں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق تعاون بھی پیش کیا ہے تاہم عرب ریاستوں اور عوام کی انسانیت نوازی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
سب سے پہلے سعودی حکام نے اپنی بے پناہ دلچسپی دکھائی جس کے نتیجے میں حکومتی سطح پر ریلیف فنڈ ریزنگ کا اہتمام کیا گیا ۔ شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) نے شام اور ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بدھ کو اپنے امدادی پروگرام ” ساہم ” پرعمل درآمد کا باضابطہ آغازکیا۔ اور ایک دن کے اندر ہی ایک کروڑ65 لاکھ ڈالر(62 ملین سعودی ریال) جمع ہوگئے جس سے سعودی عوام کی دریا دلی اور انسانیت نوازی کے تسلسل کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے ۔ سعودی عرب کی طرف سے شروع کیا گیا یہ پروگرام عربوں کی پہلی امدادی مہم کے طور پر سامنے آیا جس کے بعد دیگر عرب ریاستوں نے اس کی اقتدا کیں ۔ سعودی عرب کی وزارت برائے مذہبی امور اپنی پوری بیدار مغزی کا ثبوت دیا اور اس سلسلے میں دس فروری کے خطبات کو زلزلہ زدگان کی امداد کے موضوع پر مختص کیا گیا جس کے تحت تمام مساجد میں خطیبوں نے عوام کو بڑھ چڑھ کر تعاون کرنے کی اپیلیں کیں۔ اس کے لئے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبد اللطیف آل شیخ حفظہ اللہ مبارکبادی کے مستحق ہیں۔ اب تک سعودی عرب کے ساہم پلیٹ فارم پر کل عطیات کی رقم 253 ملین سعودی ریال سے زیادہ جمع ہوگئے ہیں اور اس میں 7500 سے زیادہ عطیہ دہندگان نے حصہ لیا ہے ۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ترکی اور شام میں متاثرین کی فوری اور تیز رفتار راحت رسانی کے لئے فضائی پل بنا کر امداد پہنچانے کا اعلان کیا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب تک 6 اضافی سعودی امدادی طیارے زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے طور پر ترکی پہنچ چکے ہیں۔ ترکی کے حکام اور شام میں موجود اقوام متحدہ کے نمائندہ کے مطابق ان دونوں جگہوں میں سب سے پہلے سعودی عرب کی امداد پہنچی ہے۔ سعودی عرب ایک اور ریکارڈ اپنے نام کرت ہوئے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے ایک اینٹونوف طیارہ کرائے پر لیا ہےجو دنیا کا سب سے بڑا کارگو طیارہ ہے، جس کے اندر ایک ساتھ 250 ٹن سامان بھیجے جا سکتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ ترکی و شامی زلزلہ متاثرین کی امداد میں سعودی عرب نے ہر قسم کے اختلافات کو بھلا کر تاریخ ساز کارنامے انجام دئیے جب کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک جو انسانیت کے علمبردار ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ان کا جھوٹ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ وہ ترکی کے پڑوس میں واقع ہیں ۔ ان کے پاس پیسے ، لیٹسٹ ٹکنالوجی ، ریسکیو آپریشن انجام دینے کے لئے سب سے زیادہ ماہرین کی تعداد موجود ہے، اس کے باوجود امدادی مہم سے دوری اس بات کو بھی ثابت کرتی ہے کہ اصل رشتہ ایمان کا ہی ہوتا ہے۔ کافروں سے دوستی کی خواہ کتنی ہی پینگیں کیوں نہ بڑھا لیں ، برے وقتوں میں ایک مسلمان ہی اپنے مسلم بھائیوں کے کام آتا ہے۔ سعودی عرب نے راحت رسانی کے سلسلے میں کئی اہم ریکارڈ اپنے نام کیا جن میں راحت رسانی کو تیز رفتار بنانے کےلئے دنیا کا سب سے بڑا فضائی پل تشکیل دینا ، راحت کے سامان پہنچانے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا جہاز ہائر کرنا ، دنیا میں سب سے پہلے ریلف فنڈ ریزنگ کی حکومتی سطح پر مہم چلانا ، دنیا کے دیگر ممالک سے بھی پہلے راحتی اشیاء لے کر پہنچنا ، سب سے زیادہ معیاری سامان پہنچانا خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ سعودی عرب نے جن چیزوں سے امداد کی ان میں ریسکیو آپریشن کے حکومتی عملے ، ریسکیو آپریشن کے ٹرینڈ رضاکار ، ڈاکٹروں کی ٹیم ، طبی اشیاء ودوائیں ، سردی سے بچانے والے عمدہ خیمے ، سردی کے کپڑے اور کمبل اور غذائی اجناس شامل ہیں۔ اللہ مملکت توحید کی خدمات قبول کرے اور اسے اسلامی اخوت کے فروغ کا ذریعہ بنائے آمین












