نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج: اعداء اسلام جب اللہ رب العالمین اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کی راہ نہیں پاتے تو اسلامی مصادر اور صحابہ کرام کومجروح کرکے اسلامی بنیادوں کو مشکوک کرنے کا چور دروازہ اپنا کر اسلام کے خلاف ناکام حربے اختیار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام نے سب سے زیادہ صحابہ کرام کو مختلف بہانوںسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورہمارا اعتقاد اوریقین ہے کہ صحابۂ کرام میں سے کسی پر بھی کیسی بھی تنقید پورے اسلام اوررب کائنات نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید ہے کیوں کہ صحابۂ کرام کا انتخاب در حقیقت خود رب کائنات اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب تھا اوراس انتخاب پر تنقید ناقابل برداشت ہے ۔ دشمنان اسلام نے پہلے یہ حربے اختیار کیے کہ خلفائے راشدین میں مقام کے لحاظ سے ترتیب بدل دی جائے پھر علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ بقیہ خلفا کے مقام کا انکار کرڈالا اور بہت سے صحابہ کواسلام ہی سے خارج کردیا، اسی طرح پہلے خبرواحد کی حجیت پر انگلی اُٹھائی گئی پھر حجیت حدیث پر شبہات ڈالے گئے اوراب صورت حال یہ ہے کہ قرآن مجید کے متن پرشبہات پیدا کیے جارہے ہیں یہ در حقیقت شیطانی چالیں ہیں اور شیطان دھیرے دھیرے گمراہی کی طرف کھینچتا اور وسوسے پیدا کرتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر مولانا محمدرحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ، مولانا امیرالمومنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل اورصحابہ کرام کے مقام نیز دشمنان اسلام کے چور دروازوں سے متعلق گفتگو فرمارہے تھے ۔ مولانا نے سورۂ توبہ کی جنگ حنین سے متعلق آیت کریمہ کی تلاوت کرکے فرمایا کہ اللہ رب العالمین نے اس آیت کریمہ میں جن صحابۂ کرام کے ایمان کی گواہی دی ہے ان میں معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور ان پر بھی رب کائنات نے سکینت نازل فرمائی تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی تھی کہ اے رب کائنات معاویہ کوہدایت عطا فرما، انہیں ہدایت یافتہ اور لوگوں کی ہدایت کی جانب رہنمائی کرنے والا بنادے نیز آپ نے یہ بھی دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ معاویہ کوحساب کتاب سکھادے اوراپنے عذاب سے محفوظ کردے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رسائل اور خطوط بھی لکھا کرتے تھے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی بھی فرمائی تھی کہ سب سے پہلے جولشکر سمندر میں جنگ کرے گا اس پر جنت واجب کردی گئی ہے ، اس لشکر کے کمانڈر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام کا شہر قیساریہ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پوری کامیابی کے ساتھ فتح کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے جب انہیں شام کا گورنر متعین کیا تو لوگوں کو وصیت فرمائی کہ معاویہ کوخیر اوربھلائی کے ساتھ یاد کیا کرو کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ’’ اے اللہ ان کے ذریعہ لوگوں کوہدایت نصیب فرما۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معاویہ کی امارت کوبرامت کہا کرو ، اللہ کی قسم اگرتم نے معاویہ کوکھودیا تو کندھوں سے جدا سروں کا مشاہدہ کروگے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں امت کا فقیہ قرار دیا اورابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ۔ نیز عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے جب سوال کیا گیا کہ معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیز ؟ توانہوں نے قسم کھاکر فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاویہ کی ناک میں جانے والی دھول بھی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے ہزار درجہ افضل ہے ۔












