واشنگٹن:امریکہ، فرانس اور اتحادی ملکوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فریقین مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کر سکیں جہاں لبنان میں گزشتہ دنوں 600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائنز میں مذاکرات کے بعد امریکہ، فرانس آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین، جرمنی، اٹلی، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے ایک مشترکہ بیان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ میں صدر بائیڈن اور صدر ایمانوئیل میکخواں کی ملاقات کے بعد فرانس نے سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جنگ بندی کی تجویز پیش کی۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بیرٹ نے کہا کہ دونوں مغربی طاقتیں لبنان اور اسرائیل میں مذاکرات کے آغاز کے لیے 21 روزہ ’عبوری جنگ بندی‘ کی تجویز پیش کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’تمام فریقوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی کی طرف آئیں۔‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لبنان میں فوری جنگ بندی کے لیے زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسا نہ کرنے سے ’خوفناک تباہی پھیل سکتی ہے۔‘اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ سفارت کاری کو خوش آمدید کہتا ہے لیکن حزب اللہ کی طاقت کو ختم کرنے کے اپنے مقصد کی جانب گامزن رہے گا۔
یاہو کے دفتر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کی طرف سے جاری کردہ احکامات میں طاقت کے ساتھ شمال میں لڑائی جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ دفتر نے ان تمام خبروں کی تردید کردی کہ انہوں نے پرسکون رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عارضی جنگ بندی کے حوالے سے امریکی فرانسیسی تجاویز کے بارے میں ابھی تک تل ابیب کا ردعمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی سے متعلق انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے چھیڑی جانے والی جنگ مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے "ایکس” پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شمال میں کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی، ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے جب تک کہ شمال کے لوگوں کی ان کی بحفاظت اپنے گھروں کو واپسی نہ ہو جائے۔ دریں اثنا انتہا پسند وزیر خزانہ سموٹریچ نے بھی حزب اللہ کو کچلنے کی ضرورت پر زور دیا اور اسے اپنی افواج کی تعمیر نو کے لیے جگہ نہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ جنگ بندی کا اطلاق اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد قرار دی جانے والی ’بلیو لائن‘ کے اطراف ہوگا اور اس دوران فریقین تنازعے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے لیے بات چیت کریں گے۔












