، سماج نیوز سروس:یوں تو ساری دنیا اب یہ جان چکی ہے کہ امریکہ اس دھرتی پر موجود ایک ایسا دیوث ہے جو دنیا کے کمزور ممالک کا خون پی کر ہی زندہ رہتا ہے ۔لیکن ابھی بھی دنیا میں بہت سے سادہ لوگ ایسے ہیں جو ایران اور امریکہ کی جنگ کو عالمی امن کے لئے ناگزیر سمجھتے ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ امریکہ ایران کو ایٹمی قوت بننے سے اس لئے روکنا چاہ رہا ہے تاکہ اس مہلک ہتھیار کا استعمال کر کے ایران عام انسانوں کا قتل عام نہ کر سکے ۔جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ایٹم بم کی تباہ کاری سے دنیا کو روشناس کرانے والا خود امریکہ ہی ہے ۔جس نے جاپان میں ہیرو شیما اور نگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر یہ ثابت کیا کہ اس کے سامنے انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔عالمی سیاست میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ آنے والی دہائیوں کی سیاست کا مزاج متعین کر دیتے ہیں۔ ایران میں 1953 کا آپریشن ایجیکس ایسا ہی ایک واقعہ تھا، جس نے یہ واضح کر دیا کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں جمہوریت کی بات صرف وہاں تک کرتی ہیں جہاں تک ان کے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات محفوظ ہوں۔سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے موساد اور سی آئی اے پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے 1953 کے آپریشن ایجیکس سے موازنہ کیا، دراصل تاریخ کی ایک پرانی مگر تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے۔انیس سو اکیاون میں ایران کے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدقؔ نے تیل کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایرانی عوام کی امنگوں اور قومی خودمختاری کی علامت تھا، مگر برطانیہ اور امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول۔ برطانوی تیل کمپنی کے مفادات کو شدید دھچکا لگا، اور یوں ایران کو سبق سکھانے کا منصوبہ تیار ہوا۔آپریشن ایجیکس سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کی مشترکہ سازش تھی۔ اس کے تحت میڈیا کو استعمال کیا گیا، مذہبی و سیاسی گروہوں کو خریدا گیا، مصنوعی احتجاج منظم کیے گئے، افواہیں پھیلائی گئیں اور فوج کے اندر بغاوت کو ہوا دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 19 اگست 1953 کو ایک منتخب وزیر اعظم کو ہٹا کر شاہ محمد رضا پہلوی کو مکمل اختیارات سونپ دیے گئے۔یہ دن ایران کی تاریخ میں جمہوریت کے قتل کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد شاہی آمریت مضبوط ہوئی، ساواک جیسا خفیہ ادارہ وجود میں آیا، سیاسی آزادیوں کا گلا گھونٹا گیا اور عوامی غصہ دبایا جاتا رہا۔ یہی دبا ہوا لاوا بالآخر 1979 کے انقلاب کی صورت میں پھٹا۔آپریشن ایجیکس دراصل امریکہ کی خارجہ پالیسی کا پہلا کامیاب ماڈل تھا، جسے بعد میں مختلف ممالک میں دہرایا گیا۔ گواٹے مالا، چلی، کانگو، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک اس کی مثالیں ہیں۔ طریقۂ واردات ہمیشہ ایک جیسا رہا۔نافرمان حکومت، معاشی دباؤ، میڈیا پروپیگنڈا، احتجاج، اور پھر اقتدار کی تبدیلی۔آج جب ایران میں احتجاجی تحریکیں اٹھتی ہیں اور بیرونی مداخلت کے الزامات سامنے آتے ہیں تو 1953 کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب ہتھیار بدل چکے ہیں۔ آج سوشل میڈیا، پابندیاں اور پراکسی نیٹ ورکس استعمال ہو رہے ہیں، مگر مقصد وہی پرانا ہے۔ خودمختار ریاستوں کو اپنے مفادات کے تابع بنانا۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اقدار پر نہیں، مفادات پر قائم ہے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے اکثر خفیہ مداخلتوں کے لیے پردہ بن جاتے ہیں۔آپریشن ایجیکس کو سمجھے بغیر نہ ایران کی سیاست کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کردار کو۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ایران کے خلاف ہر نئی سازش میں 1953 کا سایہ صاف دکھائی دیتا ہے ۔












