غزہ (ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب غزہ میں فلسطینیوں کا ہجوم ایک نئے امدادی مرکز کی جانب لپکا تو ’عارضی طور پر کنٹرول سے باہر ہو گیا‘ … ادھر حماس نے تقسیم کے طریقہ کار کو ناکام قرار دیا۔نیتن یاہو نے منگل کو ایک خطاب میں کہا کہ ہم نے اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت امداد کنٹرول شدہ مقامات پر تقسیم کی جا رہی ہے، یہاں ایک امریکی کمپنی فلسطینی خاندانوں میں خوراک تقسیم کر رہی ہے … کچھ دیر کے لیے کنٹرول کھو بیٹھے تھے، تاہم خوش قسمتی سے ہم نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔دوسری طرف، ایک اعلیٰ اسرائیلی فوجی اہل کار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکی اداروں کے ذریعے آج امداد کی تقسیم کامیاب رہی۔ادھر، حماس نے غزہ میں امداد کی تقسیم کے طریقہ کار کو ناکام” قرار دیا۔غزہ میں حماس کے زیر انتظام سرکاری اطلاعاتی دفتر نے کہا کہ اسرائیلی فوج "نسلی بنیادوں پر قائم کردہ الگ تھلگ علاقوں میں امداد کی تقسیم کے منصوبے میں بری طرح ناکام ہو گئی۔تنظیم نے واضح کیا کہ "ہزاروں بھوکے افراد جنھیں قابض افواج نے تقریباً 90 دن سے خوراک اور دوا سے محروم رکھا، ان علاقوں کی طرف لپکے، اور یہ درد ناک اور افسوس ناک مناظر اس وقت ختم ہوئے جب لوگ امدادی مراکز میں داخل ہو گئے اور مہلک بھوک کے باعث خوراک پر قابض ہو گئے۔بیان میں امداد کو "جنگی ہتھیار اور سیاسی دباؤ کا ذریعہ” بنانے کی مذمت بھی کی گئی۔منگل کی شام، ہزاروں فلسطینی ایک نئے امدادی مرکز کی طرف دوڑے، جو جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں ایک امریکی حمایت یافتہ تنظیم کے زیر انتظام ہے، یہ بات فرانسیسی خبر رساں ادارے کے نمائندے نے بتائی۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے اس علاقے میں "انتباہی فائرنگ” کی۔دوسری طرف، امریکا کی حمایت یافتہ "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” نے تصدیق کی کہ منگل کے روز تقسیم کے مقام پر ایک موقع پر امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ ان کے عملے کو پیچھے ہٹنا پڑا تاکہ لوگ "محفوظ طریقے سے امداد حاصل کر سکیں” اور زخمی ہونے سے بچا جا سکے۔تنظیم کے مطابق، اب تک خوراک کے تقریباً 8000 پیک تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 62 ہزار کھانوں کی مقدار شامل ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے جنوبی غزہ سے ہزاروں افراد کو نئے امدادی مرکز کی طرف لپکتے دیکھ کر اس منظر کو "دل دہلا دینے والا” قرار دیا۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیل کی طرف سے 2 مارچ سے غزہ پر عائد سخت محاصرے میں کچھ نرمی کے دنوں بعد یہ صورت حال سامنے آئی ہے، جو خوراک، دوا، پانی، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا باعث بنا۔












