سلامتی کونسل میں امریکہ کا ایک اور ویٹو
آخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ۔لوک لاج کو طاق پر رکھ کر امریکہ نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں انسانی بنیادوں پر غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو ایک بار پھر ویٹو کردیا۔یعنی پوری دنیا میں انسانی حقوق کا دعوی کرنے والا ملک امریکہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت بھی کھڑا نظر آیا جب اقوام متحدہ کی کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے جنگ بندی کی تحریک کی حمایت کی۔اس سے ایک بات اور ظاہر ہوئی کہ دنیا کے اکثر ممالک اسرائیل اور امریکہ کے ظلم کے خلاف ہیں ۔وہ دنیا میں امن چاہتے ہیں لیکن امریکہ اور اس کے ذریعہ تشکیل دیا گیا ورلڈ آرڈر جعلی ہے اور اس کا مقصد اسلحوں کی تجارت کے سوا اور کچھ نہیں ۔امریکہ اور اس کے چند حواری جو نہایت تیز آواز میں ساری دنیا کو انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔حالانکہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے سلامتی کونسل میں آرٹیکل 99 کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ووٹنگ کے آغاز پر کہا کہ مغربی کنارے، لبنان، شام، عراق اور یمن میں بڑھتا تنازع بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے آرٹیکل 99 کے تحت ووٹنگ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی ضروری معاملہ ہے جسے کونسل کی توجہ میں لایا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ جنگی جنون بڑھ جانے سے یہ امکان بھی خارج از بعید نہیں کہ غزہ کی صورت حال اس قدر بگڑ جائے کہ وہاں سے بڑے پیمانے پر فلسطینی سرحد پار سے مصر کی طرف نقل مکانی کر جائیں اور اسی اندیشے کا اظہار مصر کی حکومت کی جانب سے بھی کیا جا چکا ہے۔سکریٹری جنرل نے حالات کی سنگینی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’غزہ میں انسانی امداد کے نظام کے مکمل طور پر تباہ ہونے کا ایک بہت بڑا خطرہ درپیش ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ تمام فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کر دے۔‘لیکن ان حقائق کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا کیونکہ اس نے بھی یہ طئے کر رکھا ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔وہ بھی اس سرزمین سے فلسطینیوں کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے ۔ادھر تازہ صورت حال یہ ہے کہ پیر کے دن غزہ پٹی پراسرائیلی فوج کی وحشیانہ اور ننگی جارحیت کا 67 واں دن تھا اور اس دن بھی اسرائیلی فوج نے غزہ میں مختلف مقامات پر وحشیانہ بمباری میں گھروں کے اندر موجود شہریوں کو ان کے ہی مکان کے ملبے میں دفن کر نے کے لئے رہائشی علاقہ پر بمباری کر کے متعدد مکانات کو گرادیا۔جس کے نتیجے میں انگنت فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے اجتماعی قتل عام اور ننگی جارحیت کے جرائم کی وجہ سے غزہ میں انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے اور قابض فوج ایک ایک گھر میں گھس کر وہاں موجود لوگوں کا قتل کررہی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے دشمن کے خلاف پوری قوت سے مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے اور متعدد مقامات پر دشمن فوج کو زخم چاٹنے پرمجبور کیا گیا ہے۔ خان یونس میں عبسان کے مقام پر اسرائیلی فوج نے الکرمی اسکول میں ایک شہری کو گولی مار دی۔خان یونس کے وسط میں اسرائیلی فوج نے دو الگ الگ مقامات پر بم گرائے جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کیے گئے محاصرے کی وجہ سے مکانوں کے ملبے تلے دبے لوگوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ وسطی غزہ میں قابض فوج نے شاہراہ صلاحدین پر فلسطینیوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق خان یونس کے ناصر ہسپتال میں چھ شہداء کی لاشیں لائی گئی ہیں۔اسرائیلی فوج کے توپ خانے سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی شناخت منتصر موسی ابو مصطفی، محمد عبدالرازق طی شراب، عدنان رسمی قدیح، اسلام محمد آبو مصطفی، خلیل عمر آبو عمرن اور محمد مصطف؛ سلیمان بر کے ناموں سے کی گئی ہے.خان یونس کے جنوب میں قیزان النجار میں سائنس وٹیکنالوجی کالج کے اطراف میں اسرائیلی فوج کے کواڈ کاپٹر طیاروں کی شیلنگ سے متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے۔اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں سلیمان سالم کے مکان پربمباری کی جس کے نتیجے میں وہاں پر پناہ لینے والے کم سے کم 50 فلسطینی شہید ہوگئے۔خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس نے بتایاہے کہ انہیں 30 شہداء کی لاشیں وصول ہوئی ہیں جن میں پانچ خواتین اور چھ بچے شامل ہیں۔اس کے علاوہ اسرائیلی بمباری میں زخمی ہونے والے آٹھ بچوں اور 10 خواتین سمیت 72 زخمیوں کو لایا گیا۔غزہ کی پٹی کے البریج کیمپ اور جحرالدیک کے مقامات پر اسرائیلی فوج کے توپ خانے اور جنگی طیاروں کی بمباری میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔خان یونس شہرپر اسرائیلی فوج کے توپ خانے اور ٹینکوں سے شدید گولہ باری کی گئی۔خان یونس میں الامل کالونی میں صبح کے وقت اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید ہوگئے جب کہ غزہ کے علاقے رفح میں ایک مکان پر بمباری میں چھ فلسطینی شہید ہوئے۔ المغازی میں لال نجم کے گھر پر اسرائیلی بمباری میں بچوں سمیت متعدد شہری شہید ہوگئے۔ شمالی نصیرات میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان گھمسان کی لڑائی اور جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ وسطی غزہ میں النصیرات کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں تین بچوں سمیت پانچ فلسطینی شہید ہوگئے.لیکن سارے مظالم سے امریکہ پوری طرح چشم پوشی کر رہا ہے ۔بے شک اس جنگ نے ساری دنیا کی آنکھیں کھولدی ہیں اور وہ امریکہ کے اس اصلی چہرے کو دیکھ رہے ہیں جس پر عیاری ،مکاری ،شیطنیت ،و درندگی کے سارے رنگ کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔اور ان کی کوشش ہے کہ وہہ جتنی جلد ہو سکے اس نام نہاد ورلڈ آرڈر سے باہر نکل جائیں ،جس کا مقصد سوائے کمزور ممالک کے استحصال کے اور کچھ نہیں ۔
(شعیب رضا فاطمی)












