کانپور،سماج نیوز سروس: امریکہ کا یہ رویہ کہ وہ پوری دنیا کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور جہاں چاہتا ہے طاقت کے نشے میں چور ہو کر حملہ کر دیتا ہے، یہ عالمی چودھراہٹ اور فرعونیت کی بدترین مثال ہے۔ کسی بھی آزاد ملک کی خودمختاری کو پامال کرنا، وہاں کی قیادت کو اغوا کرنا یا قتل کر دینا، اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں من مانی مداخلت کرنا ایک ایسا غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل ہے جس کی اجازت کوئی بھی مہذب قانون نہیں دیتا۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے آج یہاں جاری کردہ اپنے ایک پریس بیان میں کیا۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی حالیہ ننگی جارحیت اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی وفات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک سیاہ باب قرار دیا۔ مولانا قاسمی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکہ کا موجودہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ دنیا میں جمہوریت نہیں بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا جنگلی قانون رائج کرنا چاہتا ہے۔ ایک خود مختار ملک کے صدر یا سپریم لیڈر کو نشانہ بنانا ریاستی دہشت گردی ہے۔ اگر آج دنیا کے انصاف پسند ممالک اس ہٹلر مزاجی کے خلاف نہیں بولیں گے تو کل کوئی بھی ملک، حتیٰ کہ ہمارا اپنا خطہ بھی اس لاقانونیت سے محفوظ نہیں رہے گا۔مولانا نے کہا کہ ہم اس پرآشوب موقع پر ایران کے عوام اور وہاں کی قیادت کے ساتھ دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات، خاص طور پر ان جنگی حالات میں، نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ ہم اس موقع پر ایرانی قوم کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ مولانا نے ہندوستانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ سامراج دشمنی اور عدم تشدد سے عبارت ہے۔ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات صدیوں پرانے اور تہذیبی ہیں۔ آج جب ایک سپر پاور اپنے غرور میں مبتلا ہو کر کمزور ممالک کو کچل رہی ہے، تو ہم اپنی حکومت سے قوی امید رکھتے ہیں کہ وہ ایک خودمختار اور باوقار ریاست ہونے کا ثبوت دے گی۔ ہندوستان کو چاہیے کہ وہ امریکی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے پڑوسی اور دوست ملک (ایران) کے ساتھ تعلقات کا پاس رکھے اور خطے میں امن کے لیے اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔ مولانا عبداللہ قاسمی ںے عالمی برادری کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام آزاد اور جمہوری ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کی اس کھلی جارحیت کے خلاف خاموش تماشائی بننے کے بجائے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ طاقت کی زبان کے بجائے مکالمے اور انصاف کا راستہ اختیار کیا جائے، ورنہ یہ آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔












