واشنگٹن:وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز، بشمول فوجی کارروائی اب بھی زیر غور ہیں۔بظاہر وہی عسکری حکمتِ عملی جو وینزویلا میں اپنائی گئی تھی، اب امریکی صدر ایران کے خلاف بھی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر اور ایران کی بندرگاہوں میں داخل یا خارج ہونے والے تمام جہازوں پر بحری محاصرہ نافذ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تاحال کافی حد تک برقرار ہے۔طبول الحرب تقرع من جديد.. ترمب يدد بـ”حصار إيران” عل طريقة فنزويلا بعد وصول "محادثات إسلام آباد” إل طريق مسدودتجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ سنجیدگی سے وینزویلا طرز کا ماڈل ایران پر لاگو کرنا چاہتا ہے، جس کا مقصد اس کی معیشت کو دباؤ میں لانا اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک ایسی فیصلہ کن چال کا بھی ذکر کیا ،جو ان کے پاس موجود ہے ،اگر ایران امریکی شرائط نہ مانے۔ ان کے مطابق یہ چال وینزویلا جیسا بحری محاصرہ ہے۔اسلام آباد مذاکرات کے اختتام کے بعد، ٹرمپ نے جسٹ نیوز کی ایک رپورٹ بھی شیئر کی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو ایران پر بحری محاصرہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ کی اس پوسٹ میں وینزویلا کے تجربے کی کامیابی کا حوالہ دیا گیا اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کا ذکر کیا گیا، جس نے وینزویلا کے محاصرے میں کردار ادا کیا تھا اور اب یو ایس ایس ابراہام لنکن سمیت دیگر اہم بحری اثاثوں کے ساتھ خطے میں موجود ہے۔
