نئی دہلی ،سماج نیوز سروس:ہندوستان کی داخلی سلامتی طویل عرصے سے نکسل ازم کے چیلنج سے دوچار ہے۔ یہ صرف تشدد کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ترقی، امن اور جمہوری اقدار کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بھی تھا۔ عالمی امن ہم آہنگی کے چیئرمین اور ایک متعلقہ شہری کے طور پر، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں نکسل ازم آج اپنی آخری ٹانگوں پر ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ واضح پالیسی، مضبوط ارادے اور زیرو ٹالرنس اپروچ کا نتیجہ ہے۔ امیت شاہ نے وزارت داخلہ سنبھالتے ہی واضح کر دیا کہ ملک کی داخلی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ نکسل ازم کے خلاف ان کی پالیسی نہ تو کنفیوژ تھی اور نہ ہی نیم دل۔ انہوں نے اس مسئلے کو نہ صرف امن و امان کی عینک سے دیکھا بلکہ اس کے سماجی اور معاشی اسباب کو بھی سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم نکسل سے متاثرہ علاقوں میں ترقی کی مضبوط پیشرفت دیکھ رہے ہیں۔میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے اور تجربہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں جو کبھی ’’ریڈ کوریڈور‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، اب سڑکیں بن رہی ہیں، اسکول کھل رہے ہیں، صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور سرکاری سکیمیں نافذ ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا نقطہ نظر جامع اور حل پر مبنی ہے۔ جب حکومت عام شہری تک پہنچتی ہے تو بغاوت کی بنیاد خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں نکسلیوں کے تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کی شہادتوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ بہت سے بدنام زمانہ نکسلی لیڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے، اور بڑی تعداد میں نکسلائیٹس نے ہتھیار ڈال کر مرکزی دھارے میں واپس آنے کا انتخاب کیا ہے۔ یہ نہ صرف سیکورٹی فورسز کی کامیابی ہے بلکہ حکومت کی پالیسی کی بھی فتح ہے جو سختی برقرار رکھتے ہوئے بحالی اور عزت کی راہیں بھی کھولتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی سب سے بڑی طاقت ان کے واضح اہداف اور وقتی عزم ہے۔ 31 مارچ 2026 تک ہندوستان کو مکمل طور پر نکسل فری بنانے کا اعلان مضبوط سیاسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیغام صرف نکسلیوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ ملک کے عوام اور انتظامی مشینری کے لیے بھی ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کو لے کر سنجیدہ ہے۔ جب قیادت واضح ہو تو نظام بھی اس سمت میں مضبوطی سے کام کرتا ہے۔ورلڈ پیس ہارمنی ایک تنظیم ہے جو امن، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب قوم محفوظ ہو اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جی کی قیادت میں نکسلزم کے خلاف جو فیصلہ کن جنگ لڑی جا رہی ہے وہ اسی نظریے کے مطابق ہے۔ یہ لڑائی کسی طبقے یا برادری کے خلاف نہیں بلکہ تشدد اور علیحدگی پسندی کے نظریے کے خلاف ہے۔میرا یہ بھی ماننا ہے کہ نکسل ازم کا خاتمہ نہ صرف سلامتی کی فتح ہوگی بلکہ یہ لاکھوں قبائلی اور دیہی شہریوں کی آزادی کی علامت بھی ہوگی جو برسوں سے خوف اور عدم استحکام میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب وہاں کے نوجوان تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ ترقی کریں گے تب ہی ہندوستان صحیح معنوں میں ایک پرامن اور مضبوط ملک بن سکے گا۔ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جی کی مدت کار کی تہہ دل سے ستائش کرتا ہوں۔ ان کی قیادت ہندوستان کی داخلی سلامتی کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن باب کی نشان دہی کرے گی۔ اگر یہ عزم، یہ پالیسی اور یہ رفتار جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان مکمل طور پر نکسل سے پاک ہو جائے گا اور امن اور ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا۔ یہ ایک مضبوط، محفوظ اور متحد ہندوستان کی پہچان ہے۔












