(مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒنے 22 اکتوبر 1975 کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مندرجہ بالا موضوع پر تقریر کی۔ پیغام سیرت النبی ؐپر روشنی ڈالنے سے پہلے ذہن کو مطمئن اور صاف رکھنے کے لئے چند ضروری سوالوں کا دلایل اور ثبوت کے ساتھ جواب دییے ہیں مثلاً ایک نبی کی سیرتِ ہی کا پیغام کیوں؟ کسی اور کا پیغام کیوں نہیں؟ اور انبیا ء میں سے بھی صرف سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام کیوں؟ ان سوالوں کے مفصل جوابات کے بعد مولانا نے بتایا ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک ہمیں کیا پیغام اور کیا ہدایت دیتی ہے ؟عبد العزیز)
مجھے دعوت دی گئی ہے کہ میں آپ کے اس اجتماع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پیغام پر کچھ عرض کروں۔ اس مضمون پر اگر منطقی ترتیب کے ساتھ کلام کیا جائے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ ایک نبیؐ کی سیرت ہی کا پیغام کیوں؟ کسی اور کا پیغام کیوں نہیں؟ اور انبیا میں سے بھی صرف سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سیرت کا پیغام کیوں؟ دوسرے انبیا اور پیشوایانِ مذاہب کی سیرتوں کا پیغام کیوں نہیں؟ اس سوال پر آغاز ہی میں بحث کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ہمارا ذہن اس بات پر پوری طرح مطمئن ہو جائے کہ درحقیقت ہم قدیم اور جدید زمانوں کے کسی راہ نما کی سیرت میں نہیں بلکہ ایک نبیؐ کی سیرت ہی میں ہدایت پا سکتے ہیں اور کسی دوسرے نبی یا پیشوائے مذہب کی زندگی میں نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں ہم کو وہ صحیح اور مکمل ہدایت مل سکتی ہے جس کے ہم فی الواقع محتاج ہیں۔
خدائی ہدایت کی ضرورت:یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ علم کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا ہے اور اس میں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کے سوا کائنات کی حقیقتوں کا اور خود انسانی فطرت اور اس کی حقیقت کا علم اور کس کو ہو سکتا ہے؟ خالق ہی تو اپنی مخلوق کو جان سکتا ہے۔ مخلوق اگر کچھ جانے گی تو خالق کے بتانے ہی سے جانے گی۔ اس کے پاس خود اپنا کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ حقیقت کو جان سکے۔اس معاملے میں دو قسم کی چیزوں کا فرق اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تاکہ خلطِ مبحث نہ ہونے پائے۔
ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں جنھیں آپ حواس سے محسوس کر سکتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے حاصل ہونے والی معلومات کو فکر واستدلال اور مشاہدات وتجربات کی مدد سے مرتب کرکے نئے نئے نتائج تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی چیزوں کے بارے میں عالم بالا سے کوئی تعلیم آنے کی ضرورت نہیں۔ یہ آپ کی اپنی تلاش وجستجو، غور وفکر اور تحقیق واکتشاف کا دائرہ ہے۔ اسے آپ پر چھوڑا گیا ہے کہ اپنے گرد وپیش کی دنیا میں پائی جانے والی اشیا کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں، ان میں کام کرنے والی قوتوں کو معلوم کریں، ان کے اندر کار فرما قوانین کو سمجھیں، اور ترقی کی راہ میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ اگرچہ اس معاملے میں بھی آپ کے خالق نے آپ کا ساتھ چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ تاریخ کے دوران میں بالکل غیر محسوس طریقے سے ایک تدریج کے ساتھ اپنی پیدا کی ہوئی دنیا سے آپ کا تعارف کراتارہا ہے۔ واقفیت کے نئے نئے دروازے آپ پر کھولتا رہا ہے، اور وقتاً وقتاً ایک الہامی طریقے سے کسی نہ کسی انسان کو ایسی بات سجھاتا رہا ہے جس سے وہ کوئی نئی چیز ایجاد، یا کوئی نیا قانون دریافت کر سکا لیکن بہرحال ہے یہ انسانی علم ہی کا دائرہ جس کے لیے کسی نبی اور کسی کتاب کی حاجت نہیں ہے اور اس دائرے میں جو معمولات مطلوب ہیں انھیں حاصل کرنے کے ذرائع انسان کو دے دیے گئے ہیں۔
دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جو ہمارے حواس کی پہنچ سے بالاتر ہیں۔ جن کا ادراک ہم کسی طرح نہیں کر سکتے۔ جنھیں نہ ہم تول سکتے ہیں، نہ ناپ سکتے ہیں، نہ اپنے علم کے ذرائع میں سے کوئی ذریعہ استعمال کرکے انھیں معلوم کر سکتے ہیں۔ فلسفی اورسائنس دان ان کے متعلق اگر کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو وہ محض قیاس پر مبنی ہوتی ہے جسے عمل نہیں کہا جا سکتا۔ یہ آخری حقیقتیں (Ultimate Realities) ہیں جن کے بارے میں استدلالی نظریات کو خود وہ لوگ بھی یقینی قرار نہیں دے سکتے جنھوں نے ان نظریات کو پیش کیا ہے اور اگر وہ اپنے علم کی حدود کو جانتے ہوں تو ان پر نہ خود ایمان لا سکتے ہیں نہ کسی کو ایمان لانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔
انبیائؑ کی پیروی کی ضرورت:
اس دائرے میں علم اگر پہنچتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے پہنچتا ہے کیوں کہ وہی حقائق کا جاننے والا ہے اور جس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ علم دیتا ہے وہ وحی ہے جو صرف انبیا پر نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آج تک کبھی یہ نہیں کیا کہ ایک کتاب چھاپ کر ہر انسان کے ہاتھ میں دے دی ہو اور اس سے کہا ہو کہ اسے پڑھ کر خود معلوم کر لے کہ تیری اور کائنات کی حقیقت کیا ہے اور اس حقیقت کے لحاظ سے دنیا میں تیرا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس علم کو انسانوں تک پہنچانے کے لیے اس نے ہمیشہ انبیا ہی کو ذریعہ بنایا ہے تاکہ وہ صرف اس علم کی تعلیم ہی دے کر نہ رہ جائیں بلکہ اسے سمجھائیں بھی، اس کے مطابق عمل بھی کرکے دکھائیں، اس کے خلاف چلنے والوں کو راہِ راست پر لانے کی کوشش بھی کریں اور اسے قبول کرنے والوں کو ایک ایسے معاشرے کی شکل میں منظم بھی کر دیں جس کی زندگی کا ہر شعبہ اس علم کا عملی مظہر ہو۔
اس مختصر بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم راہ نمائی کے لیے صرف ایک نبی کی سیرت ہی کے محتاج ہیں۔ کوئی غیر نبی اگر نبی کا پیرو نہ ہو تو خواہ وہ کیسا ہی متبحر عالم اور دانا وفرزانہ ہو، ہمارا راہ نما نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس کے پاس حقیقت کا علم نہیں ہے، اور جسے حقیقت کا علم نہ ہو وہ ہمیں کوئی صحیح وبرحق نظامِ حیات نہیں دے سکتا۔
حضرت محمدؐ کے سوا دوسرے
انبیاسے ہدایت نہ ملنے کی وجہ:
اب اس سوال کو لیجیے کہ جن بزرگوں کو ہم انبیاکی حیثیت سے جانتے ہیں، اور جن پیشوایانِ مذاہب کے بارے میں گمان کیا جا سکتا ہے کہ شاید وہ نبی ہوں، ان میں سے ہم صرف ایک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سیرت سے کیوں پیغام حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا یہ کسی قسم کے تعصب کی وجہ سے ہے یا اس کی کوئی معقول وجہ ہے؟مَیں عرض کرتا ہوں کہ اس کی ایک انہایت معقول وجہ ہے۔ جن انبیا کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے انھیں اگرچہ ہم یقینی طور پر نبی مانتے ہیں اور جانتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کی بھی تعلیم اورسیرت ہم تک کسی قابل اعتماد اور مستند ذریعہ سے نہیں پہنچی ہے کہ ہم اس کی پیروی کر سکیں۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت اسحق، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام بلاشبہ نبی تھے اور ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں مگر ان پر نازل ہونے والی کوئی کتاب آج محفوظ شکل میں موجود نہیں ہے کہ اس سے ہم ہدایت حاصل کر سکیں اور ان میں سے کسی کی زندگی کے حالات بھی ایسے محفوظ اور معتبر طریقے سے ہم تک نہیں پہنچے ہیں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں انھیں اپنا راہ نما بنا سکیں۔ اگر ان سارے انبیا کی تعلیمات اور سیرت پر کوئی شخص کچھ لکھنا چاہے تو چند صفحات سے زیادہ نہیں لکھ سکتا اور وہ بھی صرف قرآن کی مدد سے کیوں کہ قرآن کے سوا ان کے بارے میں کوئی مستند مواد موجود نہیں ہے۔
دنیا کی مشہور ترین مذہبی شخصیتوں میں سے ایک بودھ تھا۔ زردشت کی طرح اس کے متعلق بھی یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ شاید وہ نبی ہو۔ مگر اس نے سرے سے کوئی کتاب پیش ہی نہیں کی، نہ اس کے پیرووں نے کبھی یہ دعوٰی کیا کہ وہ کوئی کتاب لایا تھا۔ اس کی وفات کے سوسال بعد اس کے اقوال اور حالات کو جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور صدیوں تک چلتا رہا۔ مگر اس طرح کی جتنی کتابیں بدھ مذہب کی اصل کتابیں سمجھی جاتی ہیں ان میں سے کسی کے اندر بھی کوئی سند درج نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ کس ذریعہ سے ان احوال واقوال اور تعلیمات کے مرتب کرنے والوں کو بدھ کے حالات اور اس کے اقوال پہنچے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر ہم دوسرے انبیا اور مذہبی پیشواؤں کی طرف رجوع کریں بھی تو ان کے بارے میں کوئی مستند ذریعہ ایسا نہیں ہے جس سے ہم ان کی تعلیمات اور ان کی زندگیوں سے اطمینان اور یقین کے ساتھ راہ نمائی حاصل کر سکیں۔ اس کے بعد ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم کسی ایسے نبی کی طرف رجوع کریں جس نے کوئی قابل اعتماد اور تحریف وآمیزش سے پاک کتاب چھوڑی ہو اور جس کے مفصل حالات واقوال اور اعمال معتبر ذرائع سے ہم تک پہنچے ہوں تاکہ ہم ان سے راہ ننمائی حاصل کر سکیں۔ ایسی شخصیت پوری دنیا کی تاریخ میں صرف ایک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مستودہ صاف ہے۔
پھر نماز کے متعلق آغازِ اسلام ہی سے یہ ہدایت تھی کہ اس میں قرآن مجید لازماً پڑھا جائے۔ اس لیے صحابہؓ کرام اس کے نزول کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرتے جاتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اسے پورا یاد کر لیا اور ان سے بہت زیادہ بڑی تعداد ایسے اصحاب کی تھی جنھوں نے کم وبیش اس کے مختلف حصے اپنے حافظے میں محفوظ کر لیے تھے۔ ان کے علاوہ وہ متعدد صحابہؓ جو پڑھے لکھے تھے قرآن کے مختلف حصوں کو بطور خود لکھ بھی رہے تھے اس طرح قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں چار طریقوں سے محفوظ ہو چکا تھا۔
(۱) آپؐ نے خود کاتبین وحی سے اس کو از اوّل تا آخر لکھوا لیا۔
(۲) بہت سے صحابہؓ نے پورا کا پورا قرآ ن لفظ بلفظ یاد کر لیا۔
(۳) صحابہ کرامؓ میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے قرآن کا کوئی نہ کوئی حصہ، تھوڑا یا بہت یاد نہ کر لیا ہو، کیوں کہ اسے نماز میں پڑھنا ضرور تھا اور صحابہؓ کی تعداد کا اندازہ اس سے کر لیجیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری حج میں ایک لاکھ چالیس ہزار صحابہؓ شریک تھے۔
(۴) پڑھے لکھے صحابہؓ کی ایک اچھی خاصی تعداد نے اپنے طور پر قرآن کو لکھ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کر اس کی صحت کا اطمینان بھی کر لیا تھا۔
پس یہ ایک ناقابلِ انکار تاریخی حقیقت ہے کہ آج جو قرآن ہمارے پاس موجود ہے یہ لفظ بلفظ وہی ہے جسے رسول? اللہ نے کلام اللہ کی حیثیت سے پیش فرمایا تھا۔ حضورؐکی وفات کے بعد آپؓ کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تمام حافظوں اور تمام تحریری نوشتوں کو جمع کرکے اس کا ایک مکمل نسخہ کتابی صورت میں لکھوا لیا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں اسی کی نقلیں سرکاری طور پر دنیائے اسلام کے مرکزی مقامات کو بھیجی گئیں۔ ان میں سے دو نقلیں آج بھی دنیا میں موجود ہیں، ایک استنبول میں اور دوسری تاشقند میں، جس کا جی چاہے قرآن مجید کا کوئی مطبوعہ نسخہ لے جا کر ان سے ملا لے۔ کوئی فرق وہ نہ پائے گا اور فرق ہو کیسے سکتا ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک ہر پشت (Generation) میں لاکھوں اور کروڑوں حافظ موجود رہے ہیں۔ ایک لفظ بھی اگر کوئی شخص بدلے تو یہ حفاظ اس کی غلطی پکڑ لیں گے پچھلی صدی کے آخر میں جرمنی کی میونخ یونی ورسٹی کے ایک انسٹی ٹیوٹ نے دنیائے اسلام کے مختلف حصوں سے ہر زمانے کے لکھے ہوئے قرآن مجید کے قلمی اور مطبوعہ ۴۲ ہزار نسخے جمع کیے تھے۔ پچاس سال تک ان پر تحقیقی کام کیا گیا۔ آخر میں جو رپورٹ پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ ان نسخوں میں کتابت کی غلطیوں کے سوا کوئی فرق نہیں ہے، حالانکہ یہ پہلی صدی ہجری سے چودھویں صدی تک کے نسخے تھے اور دنیا کے ہر حصے سے فراہم کیے گئے تھے۔ افسوس کہ دوسری جنگِ عظیم میں جب جرمنی پر بمباری کی گئی تو وہ انسٹی ٹیوٹ تباہ ہو گیا لیکن اس کی تحقیقات کے نتائج دنیا سے ناپید نہیں ہوئے۔صحابہؓ سے جو روایات بعد کی نسلوں کو پہنچی تھیں ان کے بارے میں ابتدا ہی سے یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا کہ جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے کوئی بات کہتا اسے یہ بتانا پڑتا تھا کہ اس نے وہ بات کس سے سنی ہے اور اوپر سلسلہ بہ سلسلہ کون کس سے وہ بات سنتا اور آگے بیان کرتا رہا ہے۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک روایت کی پوری کڑیاں دیکھی جاتی تھیں تاکہ یہ اطمینان کر لیا جائے کہ وہ صحیح طور سے حضورؓ سے منقول ہوئی ہے۔ اگر روایت کی پوری کڑیاں نہ ملتی تھیں تو اس کی صحت مشتبہ ہو جاتی تھی۔ اگر کڑیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتیں لیکن بیچ میں کوئی راوی ناقابلِ اعتماد ہوتا تو ایسی روایت بھی قبول نہ کی جاتی تھی۔ آپ ذرا غور کریں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ دنیا کے کسی دوسرے انسان کے حالات اس طرح سے مرتب نہیں ہوئے ہیں۔ یہ خصوصیت صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپؐ کے بارے میں کوئی بات بھی سند کے بغیر تسلیم نہیں کی گئی اور سند میں بھی صرف یہی نہیں دیکھا گیا کہ ایک حدیث کا سلسلۂ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا گیا کہ اس سلسلے کے تمام راوی بھروسے کے قابل ہیں یا نہیں۔ اس غرض کے لیے راویوں کے حالات کی بھی پوری جانچ پڑتال کی گئی اور اس پرمفصل کتابیں لکھ دی گئیں جن سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون قابل اعتماد تھا اور کون نہ تھا، کس کی سیرت وکردار کا کیا حال تھا، کس کا حافظہ ٹھیک تھا اور کس کا ٹھیک نہ تھا، کون اس شخص سے ملا تھا جس سے اس نے روایت نقل کی ہے اور کون اس سے ملاقات کے بغیر ہی اس کا نام لے کر روایت بیان کر رہا ہے۔ اس طرح اتنے بڑے پیمانے پر راویوں کے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں کہ آج بھی ہم ایک ایک حدیث کے متعلق یہ جانچ سکتے ہیں کہ وہ قابلِ اعتماد ذرائع سے آئی ہے۔ یا ناقابلِ اعتماد ذرائع سے۔ کیا انسانی تاریخ میں کوئی دوسرا شخص ایسا پایا جاتا ہے جس کے حالاتِ زندگی اس قدر مستند طریقے سے منقول ہوئے ہوں؟ اور کیا اس کی کوئی مثال ملتی ہے کہ ایک شخص کے حالات کی تحقیق کے لیے ان ہزارہا آدمیوں کے حالات پر کتابیں لکھ دی گئی ہوں جنھوں نے اس ایک شخصیت کے متعلق کوئی روایت بیان کی ہو؟ موجودہ دَور کے عیسائی اور یہودی علما احادیث کی صحت کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا جو زور صَرف کر رہے ہیں اس کی اصل وجہ یہ حسد ہے کہ ان کے دین کی کتابوں اور ان کے پیشوایانِ دین کے حالات کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے۔ اسی جلن کے باعث انھوں نے اسلام اور قرآن اور محمد اپر تنقید کے معاملہ میں علمی دیانت (Intellectual Honesty) کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ (جاری)ترتیب: عبدالعزیز
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068












