علی گڑھ،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلبہ کی زیر قیادت قائم ہونے والی تنظیم”کنسلٹنگ کلب“ نے اپنا اوریئنٹیشن پروگرام ”دی کاز“ کے عنوان سے ایڈمنسٹریٹو بلاک کے کانفرنس روم میں منعقد کیا، جس میں اس کلب کے اہداف و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ بنیادی مقصد طلبہ کے اندر اسٹریٹجک فکر، قیادت اور پیشہ ورانہ ترقی کا مزاج پیدا کرنا ہے۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروگرام میں شریک ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات طلبہ کے لئے تعلیم اور عملی دنیا کی توقعات کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے صنعتوں کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کی تیاری میں تعاون کرنے کے کلب کے ہدف کو سراہا۔ شعبہ کامرس کے پروفیسر نواب علی خان نے کہا کہ پیشہ ورانہ مہارت مستقل مزاجی اور فکری سنجیدگی سے تشکیل پاتی ہے۔ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر پرویز طالب نے کنسلٹنگ کو ایسا شعبہ قرار دیا جو واضح سوچ اور اخلاقی وابستگی کا تقاضا کرتا ہے۔ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے کہا کہ اس نوعیت کے پلیٹ فارم مستقبل کے پراعتماد اور ذمہ دار قائدین تیار کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ کلب کی سرپرست پروفیسر صبوحی نسیم نے کلب کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک، نظم و ضبط اور مسلسل کوشش ہی کلب کے دیرپا اثرات کی بنیاد بنیں گے۔ ٹریننگ و پلیسمنٹ آفیسر مسٹر سعد حمید نے کہا کہ پیشہ ورانہ تیاری کا آغاز عملی مشاہدے، ذاتی پہل اور مسلسل سیکھنے سے ہوتا ہے۔ پروفیسر محمد آصف خان اور پروفیسر وبھا شرما نے بھی اس اقدام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا۔ ایم بی اے کے طالب علم اور کنسلٹنگ کلب کے صدر محمد آدم نے کور ٹیم کا تعارف کراتے ہوئے اس اقدام کو بامعنی پیشہ ورانہ تجربے کی جانب ایک بڑے سفر کا آغاز قرار دیا۔ بی بی اے کے طالب علم اور کلب کے نائب صدر محمد سمیع نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس تقریب کو علی گڑھ کوچنگ سینٹر کا تعاون حاصل رہا، جس کی نمائندگی مسٹر محمد سبحان نے کی۔ ڈاکٹر فہیم اختر نے ادارہ جاتی رابطہ سازی میں تعاون کیا۔ پروگرام کا اختتام یونیورسٹی کے مختلف اسٹوڈنٹس کلبوں اور سوسائٹیز کے نمائندگان کی تہنیت اور کلب اراکین میں اسناد کی تقسیم کے ساتھ ہوا۔












