نئی دہلی 16جون ۔اترا کھنڈ میں بی جے پی کی سرکار ہے ۔اتر پردیش سے الگ ہو کر بننے والی اس ریاست کو "دیو بھومی "کہا جاتا ہے ۔خوبصورت پہاڑوں سے آراستہ اس دلفریب زمین کو بھی کسی کی نظر لگ گئی ہے اور اب شیوسینا اور وشو ہندو پریشد کے لوگ اس ریاست میں ہندوتوا کا ایک نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں ۔جس کے تحت اعلان کر دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس پاک دھرتی پر برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن کمال یہ کہ اس طرح کا دہشت ناک اعلان کرنے والی تنظیموں کو پولیس نہ تو گرفتار کر رہی ہے اور نہ ہی ان پر کیس رجسٹر کر رہی ہے ۔خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ سارا کچھ مرکز میں بیٹھی مودی سرکار کے اشارے پر ہو رہا ہے تاکہ 2024کے عام انتخاب کو مذہبی منافرت کے سائے میں اختتام تک پہنچا کر اکثریتی ووٹ کو اپنے حق میں کیا جا سکے ۔اس خطرناک صورت حال کے مد نظر جب ملک کے نامور سیکولر دانشوروں ،اسکالرز ،اور صحافیوں سے گفتگو ہوئی تو اکثر لوگوں نے اسے آنے والے برے دور کا پیش خیمہ بتاتے ہوئے جمہوری اقدار کو وینٹیلیٹر پر دراز قریب المرگ مریض بتا یا اور کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں رہتے یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ۔

سپریم کورٹ کے نامور وکیل ،ادیب ،شاعر ،ناقد ،کالم نویس اور ایک درجن سے زیادہ زبانوں پر دسترس رکھنے والے اے ۔ رحمان صاحب نے اس صورت حال کو ایک نیاسیاق دیتے ہوئے ٹیلیفونک گفتگو میں فرمایا کہ ۔
اتر کاشی کے اس علاقہ میں میرا اپنا گھر ہے جہاں میں جاتا رہتا ہوں ،اور ابھی چند دنوں پہلے ہی وہاں سے لوٹا ہوں ۔وہاں کے مقامی لوگ اس خبر پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں ،اور سچ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے عام لوگوں کا اس جنونی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ایسا ماحول خلق کرنے والے مٹھی بھر لوگ ہیں جنہیں ہندو وادی تنظیم ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتی رہتی ہے ۔اور وہ وہاں جاکر انتشار پھیلاتے ہیں ۔اے رحمان نے کہا کہ گولوالکر کے مطابق ملک کے ہندو راشٹر بننے میں تین رکاوٹیں ہیں ۔مسلمان ،عیسائی اور کمیونسٹ ۔اور اب نہ تو کمیونسٹوں کا زور ہے نہ ہی عیسائی آبادی کسی شمار و قطار میں ہے ۔ایسے میں بس مسلمان ہی بچتے ہیں جنہیں راستے سے ہٹاکر اس ملک کو ہندو راشٹر بنایا جا سکتا ہے ۔اور آر ایس ایس اپنے اس مشن کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوشاں ہے ۔
اردو کے نامور مصنف ،شاعر اور ناقد و محقق پروفیسر اعجاز علی ارشد نے فرمایا کہ
"حالات جس مقام تک پہنچ چکے ہیں وہاں اقتدار کی تبدیلی سے بھی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ دلوں کو بدلنے کے لئے تدبر اور تدبیر کے ساتھ سنواد(ڈائیلاگ ) ضروری ہے۔مگر اسکے لئے کوئ تیار ہے نہ تیاری ہے”
کلکتہ کے معروف اردو شاعر ناقدو مبصر خواجہ احمد حسین نے نفرت کے اس بڑھتے رحجان پر اپنے تاثرات کا اظہار نہایت پر تاسف انداز میں یوں کیا ۔
نہ یہ ظلم آخری ہے نہ یہ ضبط آخری ہے
یہی کھیل ہو رہے تھے وہی کھیل ہو رہے ہیں
کہاں ہے میرےگاندھی کا ہندوستان میں اس کو ڈھونڈھ رہا ہوں
کہاں کھو گئے مرے جمہوریت پسند رہنما۔
جواب ہوگا۔۔۔خاموش ۔بہت جلد آسمان والا اپنا۔۔فیصلہ سناۓ گا۔۔؟
دہلی میں کم وبیش تیس برس سے اردو صحافت کے خدو خال کو ہمعصر سیاسی تبدیلیوں کی روشنی میں دیکھنے اور دکھانے والے مشہور شاعر ،صحافی ،ناقد ،کالم نویس اور مترجم جاوید قمر نے اس صورت حال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
اترکاشی میں یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہو رہا ہے۔وہاں یہ پروپیگنڈہ بھی چل رہا ہے کہ مسلمان یہاں باہری ہیں ۔درحقیقت فرقہ وارانہ صف بندی کو ہوا دی جارہی ہے ۔غالب امکان ہے کہ 2024 الیکشن آتے آتے دوسری جگہوں پر بھی یہی کچھ ہوگا ۔مگر اس،معاملہ میں سیکولر پارٹیوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔
تسلیم رحمانی کا نام کون نہیں جانتا ۔وہ بے باک اور بے لاگ سیاسی تبصرے کے لئے جانے جاتے ہیں ۔لیکن اس دور بد زبانی و و بد کلامی میں بھی ان کو اپنی تہذیب کا پاس رکھنے والا ،ذہین و عالم مبصر نیز گنگا جمنی تہذیب کا شیدا سمجھا جاتا ہے ،موصوف نے اتر کاشی کے اس سیاسی سیاق پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ۔
اتراکھنڈ کی حکومت قانون اور انصاف کی عملداری کرنے کے بجائے آرایس ایس کے نفرت پر مبنی ایجنڈے پر کام کر ہی ہے اور مفروضوں اور افواہوں کی بنیاد پر سرکاری فیصلے لے رہی ہے جس سے ریاست کے شر پسند عناصر کو تقویت مل رہی ہے اور جان بوجھ کر فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے واضح رہے کہ ماہ ستمبر میں اتراکھنڈ میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں اور بی جے پی کو کافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ ریاست کی چودہ فیصد مسلم آبادی زیادہ تر میدانی اور شہری علاقوں میں رہتی ہے جس کا اثر بلدیاتی انتخابات پر پڑنا طے ہے ۔چنانچہ ریاستی سرکار کبھی مزار جہاد، کبھی لو جہاد جیسے مفروضوں کی بنیاد پر انتخابات کو مذہبی منافرت کے ذریعے جیتنا چاہتی ہے۔ حال ہی میں اتراکھنڈ پولس نے اعلان کیا ہے کہ2018 سے اب تک بین مذہبی شادیوں کی تحقیقات بھی کرے گی جبکہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال پوری ریاست میں اس قسم کی شادیوں کی تعداد محض 18 ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی فلاح و بہبود روزگار اور ترقی کے محاذوں پر ناکام بی جے پی سرکار اپنے نفرت کے ایجنڈے کے ذریعے اپنی ساکھ بچانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔












